معرکہ بویب 13 ہجری - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

معرکہ بویب 13 ہجری

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 288) پھر مسعود اور ان جیسے کئی مسلم قائدین زخم خوردہ ہو ہو کر گر پڑے جب مسعود نے دیکھا کہ مجھے زخم خوردہ دیکھ کر لوگ شکستہ دل ہو رہے ہیں تو کہا: اے بکر بن وائل کے مجاہدو! اپنے جھنڈوں کو بلند کرو اللہ تم کو بلند کرے گا۔ میرا شہید ہو جانا تمہیں شکستہ دل نہ بنائے۔ ادھر مثنیٰؓ اپنے بھائی کی شہادت سے پہنچنے والے نفسیاتی جھٹکے کو محسوس کر رہے تھے انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے للکارا: اے مسلمانو! میرے بھائی کی شہادت تمہیں خوفزدہ نہ کر دے۔ تمہارے بہترین جانباز ایسے ہی شہید کیے جاتے ہیں۔ انس بن ہلال نمیری بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑے اور وہ بھی شہید کر دیے گئے۔ حضرت مثنیٰؓ نے انہیں اور اپنے بھائی مسعودؓ کو اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ ہر محاذ پر جنگ کا شعلہ بھڑک رہا ہے لیکن ایرانی فوج کا قلب ان کے مفاد سے پیچھے ہٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اسلامی فوج کا قلب ایرانی فوج کے قلب پر ضرب کاری لگا رہا ہے، ایسے وقت میں حضرت مثنیٰؓ نے اپنا شکنجہ اس میں ٹھونک دیا۔ ایرانی فوج کے قلب میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما سب سے پہلے گھس گئے، ان کے ساتھ بجیر بھی تھے۔ ابن الہوبر اور منذر بن حسان نے ضبہ والوں کو لے کر حملہ کیا نیز قرط بن جماع عبدی بہادری کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ہاتھوں سے کئی نیزے اور تلواریں ٹوٹ گئیں اور اس خون ریز معرکہ میں شہر بزار نامی ایک عظیم ایرانی جاگیر دار اور ان کے شہسواروں کا قائد قتل کر دیا گیا، لڑائی ہوتی رہی اور مسلمانوں نے مشرکین کے قلب کے ایک ایک فرد کو چن چن کر قتل کیا۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 433، 434، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 289) جب میدان جنگ دھول اور گرد و غبار سے بھر گیا تو حضرت مثنیٰؓ ایک لمحہ کے لیے رک گئے یہاں تک کہ گرد و غبار کے بادل چھٹ گئے، مشرکین کا قلب ختم ہو گیا اور ان کا قائد مہران بھی تہ تیغ کر دیا گیا۔ قلب کے بعد میمنہ اور میسرہ کے فوجی دستے تتر بتر ہو گئے۔ جب مسلمانوں نے افراتفری اور بھگدڑ کا یہ ماحول دیکھا اور دیکھا کہ دشمن کا قلب ختم ہو چکا ہے تو ان کے میمنہ و میسرہ نے ایرانیوں کے میمنہ و میسرہ پر زبردست حملہ کر دیا، دشمن کو پیچھے دھکیلتے چلے گئے، اور مثنیٰؓ اپنے مجاہدین ساتھیوں کے ساتھ اللہ سے اپنی فتح کے لیے دعائیں کرنے لگے اور تمام مسلمان مجاہدین میں یہ پیغام کہلوایا کہ ’’تمہاری خوبیاں تمہی جیسے لوگوں سے ظاہر ہوں گی۔ تم اللہ کے دین کی مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا، مسلمانوں نے ایرانیوں کو شکست دے دی، حضرت مثنیٰؓ نے دشمن کو شکست خوردہ ہو کر بھاگتے ہوئے دیکھا تو بڑھ کر پل پر قبضہ کر لیا پھر اسے توڑ دیا اور دشمنوں کو گرفتار کرنے لگے، ایرانی سپاہی دریائے فرات کے ساحل پر منتشر ہو گئے اور اسلامی لشکر کے گھوڑے انہیں دوڑا دوڑا کر روندتے اور قتل کرتے۔ ان کی اس قدر لاشیں گریں کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ بعض مؤرخین نے اس معرکہ میں ایرانی فوج کے مقتولین کی تعداد ایک لاکھ بتائی ہے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 349، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 289)


صفحہ 2 از 2