شیعت کی تخریب کاریاں تاریخ کے آئینہ میں - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعت کی تخریب کاریاں تاریخ کے آئینہ میں

  ابو عبداللہ

صفحہ 2 از 2

اس نے سازشوں، فریب اور دہشت گردی سے چھوٹے بڑے بہت سے قلعوں اور قلعه الموت پر قبضہ کر کے حکومت کے اندر اپنی الگ حکومت قائم کی اور قلعہ الموت میں خود ساختہ جنت بنائی اس نے تاریخ میں ظلم و بربریت کی وہ داستانیں چھوڑیں ہیں جنہیں یاد کر کے آج بھی تاریخ لرز جاتی ہے جو اس کے پیر و فدائی کہلاتے ہیں انہوں نے مسلمانوں کے ناقابلِ فراموش قائدین اور عظیم روحانی ہستیوں کو قتل کیا اور صلاح الدین ایوبیؒ اور امام فخر الدین رازیؒ کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی مگر بفضلِ خدا کامیاب نہ ہو سکے صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے اعلانیہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے مقابلے میں عیسائیوں کی مدد کی یہ فتنہ ایک طویل مدت تک مسلمانوں کے لئے بلائے بے درماں بنا رہا غرضیکہ ان کوفی اشرار نے اہلبیتِ اطہار کو آڑ بنا کر کبھی تو زیرِ زمین سازشوں، بلیک میلنگ کہیں یرغمال بنا کر اور کبھی دہشت گردی کے ذریعے اور کبھی جعلی فاطمیوں کے سر خود ساختہ خلافت کا تاج منڈھ کر رافضی حکومت قائم کرنے اور خلافت کی مرکزیت ختم کرنے کی بہت کی ناکام کوششیں کیں۔ بالاخر خلافتِ عباسیہ کو کھوکھلا کر کے عباسی خلیفہ کے بدنام زمانہ شیعہ وزیر ابنِ علقمی نے ہلاکو خان کے مشہور اسلام دشمن وزیر خواجہ نصیر الدین طوسی سے ساز باز کر کے عروس البلاد بغداد کو تاتاریوں کے حوالے کر دیا تاتاریوں نے نہ صرف خلیفہ کے پورے خاندان کو ہلاک کر دیا بلکہ عظیم الشان شہر کو ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں کا قبرستان بنا دیا جس میں جگہ جگہ لاکھوں مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے اور صدیوں کے علمی سرمائے نے دریائے دجلہ کو ہفتوں سیاہ رکھا اسی قیامت صغریٰ میں خواجہ نصیر الدین طوسی ملعون کی بدولت صرف شیعوں کے محلے محفوظ رہے اور اس ملعون کے متعلق رہبر رافضی انقلاب خمینی اپنی کتاب الحکومت اسلامیہ کے صفحہ 46 پر بڑی ڈھٹائی سے رقمطراز ہے:

نصیر الدین کا تاتاریوں سے اشتراک اور ان کی خدمت اگرچہ بظاہر استعمار کی خدمت نظر آتی ہے مگر در حقیقت وہ اسلام اور مسلمانوں کی مدد تھی۔

مدد کے اس ہی منافقانہ فلسفہ کے تحت:

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے خلاف مصر کے جعلی فاطمین اور شام کے رشید الدین سنان نے عیسائیوں کی مدد کی۔

سلطان محمود غزنویؒ کے خلاف ملتان کے ابوالفتح رافضی نے ہندو راجہ جے پال کی مدد کی۔

 برصغیر میں باقاعدہ پہلی اسلامی سلطنت کے بانی سلطان شہاب الدین غوری کو شہید کیا۔ 

 اسلام کے عظیم سپوت شاہان سلجوق کی راہ میں ہمیشہ انہوں نے کانٹے بچھائے اور شاہان سلجوق کو شہید اور مفلوج کیا۔

ترکی کے عثمانی خلفاء اسلام جب بھی یورپ پر اسلام کا پرچم لہرانے نکلے تو لاکھوں سنیوں کے قاتل اور جبراً شیعہ بنانے والے صفوی شیطانوں نے ہی ان کی پیٹھ پر وار کیا۔

ایران کی اسلام دشمنی کی ایک ایسی ہی مثال ہمیں تاریخ برصغیر میں اس وقت نظر آتی ہے کہ جب 1797ء میں سلطان ٹیپو کی فرمائش پر بادشاہ افغانستان احمد شاہ ابدالیؒ کے پوتے شاہ زمان شاہ نے اپنی فوجیں سلطان کی مدد کے لئے روانہ کیں جو لاہور پہنچ چکیں تو احمد آباد (انڈیا) کے ایک شیعہ عالم مہدی علی کی خواہش پر ایران کے مجوسی النسل صفوی شیطانوں نے افغانستان پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے ٹیپو تنہا رہ گیا اور اس کے بعد میر صادق شیعہ نے نمک حرامی کی وہی تاریخ دہرائی جو اس کے ہم عصر میر جعفر شیعہ نے انگریز سے ملکر سراج الدولہ سے غداری کر کے دہرائی تھی جس سے انگریز حکومت انتہائی مضبوط ہو گئی اور اس کے بعد بھی سامراج کے ان ایجنٹوں نے عیسائی سامراج سے بہت وفاداری کی مگر کی نوابی سے ذیادہ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا اور اودھ میں انہوں نے اہلِ سنت کے ساتھ وہی برتاؤ روا رکھا جو مجوسی النسل فاطمین مصر نے مسلمانوں کے ساتھ رکھا تھا مگر اس دور میں بھی جماعت مواحدین ہی تھی جس نے سامراج کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور مواحدین کا وقار قائم رکھا۔ یہ تو تاریخ اسلام کی ہلکی سی جھلک ہے موجودہ دور میں اس کا تسلسل مملکت کو دولخت کرنے والے عیاش شیعہ حکمران یحییٰ سنیوں کے ملک کے شام میں مسلم کش سفاک شیعہ حکم ان حافظ الاسد لبنان کی مسلم کش شیعہ امل ملیشیاء اور خانہ کعبہ پر حملہ کرنے والے خمینی ملعون اور اعلیٰ عہدوں پر فائز شیعوں میں بھرے ہوئے تعصب کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ہر سال نظم مملکت درہم برہم کر کے اور پورا شہری نظام مفلوج کر کے چھری چاقوں سے مسلح ہو کر نکلنے والے جلوسوں سے یہ دہشت گرد اپنے تخریبی عزائم کی جس طرح تجدید کرتے ہیں اس کی مثال ایران میں بھی نہیں مل سکتی۔

ان خون آشام چمگادڑوں کی فریب کاریوں کے شکار اتحاد بین المسلمین کے ڈھنڈر وچیوں ٹھنڈے دماغ سے سوچو انہوں نے کیا کیا گل نہیں کھلائے سیّدنا فاروقِ اعظمؓ کا قاتل جن کا ہیرو ہو جن کے ہاتھ سیدنا عثمان غنیؓ و سیّدنا علیؓ کے خون سے رنگین ہوں، جن کے دامن پر شہداء کربلا کے خون کے چھینٹے ہوں، جن کی تلواریں لا تعداد مسلمانوں کا خون پی کر بھی پیاسی ہوں، جو ہر دور میں اسلامی اقتدار کے لئے وبال جان بنے رہے جنہوں نے کبھی تاتاری اور کبھی نصرانی اقتدار کی پالکیوں کو کندھا دیا۔

شر جن کے شریر پر فخر کر کے اسلام کی نفی جن کا عقیدہ ہو تخریب اسلام جن کے لئے راحت ہو، بغض، کینہ حسد و انتقام جن کا سرمایہ ہو ان کے ساتھ اتحاد کا راگ الاپنے والوں اگر تمہارے دل میں ایمان کی ذرا بھی رمق موجود ہو تو ذرا سوچو ان کے ساتھ دوستی کہیں اسلام کی دشمنی تو نہیں؟


صفحہ 2 از 2