نئے ہجری سال کی ابتداء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نئے ہجری سال کی ابتداء

  مفتی محمد راشد ڈسکوی

صفحہ 4 از 4
اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکل بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے جس کا ترک لازم ہے لہٰذا جب سوگ جائز نہیں تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہوگی بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کی سیدہ فاطمہؓ سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی۔
(ملاحظہ ہو: تاریخ مدینةالدمشق لابنِ عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلاة والسلام وأزواجہ: جلد، 3 صفحہ، 128 دار الفکر تاریخ الرسل والملوک للطبری ذکر ما کان من الأمور فی السنة الثانیة غزوة ذات العشیرة: جلد، 2 صفحہ، 410 دار المعارف بمصر)
اس مہینے میں شادی نہ ہونے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس مہینے میں نحوست ہے جب کہ شرعاً یہ بات بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے بلکہ یہ عقیدہ یا ذہن رکھنا ہی گناہ ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی دن یا زمانے میں کسی قسم کی نحوست نہیں رکھی گئی اکابرینِ مفتیانِ عظام کے فتاویٰ میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ذیل میں فتاویٰ رحیمیہ سے اسی مسئلے کا جواب نقل کیا جاتا ہے۔
الجواب: ماہِ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش و اقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں حرام ہے آنحضرتﷺ کا فرمان ہے:
لا یحل لامرأة تؤمن باللہ والیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلٰث لیال إلا علی زوج أربعة أشھر وعشراً۔
ترجمہ: جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔
(بخاری باب: تحد المتوفی عنھا أربعة أشھر وعشراً إلخ، صفحہ، 803 جلد، 2 پارہ، 22 صحیح مسلم، باب وجوب الإحداد فی عدة الوفات إلخ، صفحہ، 496 جلد، 1 مشکوٰة: باب العدة، الفصل الأول، صفحہ، 288)
ماہِ مبارک محرم میں شادی وغیرہ کرنا نامبارک اور نا جائز سمجھنا سخت گناہ اور اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے، اسلام نے جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا ہو اعتقاداً یا عملاً ان کو نا جائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کا خطرہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ روافض اور شیعہ سے پوری احتیاط برتیں، ان کی رسومات سے علیحدہ رہیں، ان میں شرکت حرام ہے۔
مالابد منہ عقائد کی مشہور کتاب میں ہے مسلم را تشبہ بہ کفار وفساق حرام ہے یعنی: مسلمانوں کو کفار و فساق کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔(صفحہ، 131)
ماہِ مبارک میں شادی وغیرہ کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی میں اختلاف بھی نہیں ہے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ پڑھئے:
سوال: بعض سنی جماعت عشرہ اولیٰ محرم الحرام میں نہ تو دن بھر میں روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ بعدِ دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ماہِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب: تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔
(احکام شریعت: صفحہ، 90 جلد، 2) 
فقط واللہ اعلم بالصواب 
(فتاوی رحیمیہ، کتاب البدعة والسنة، ماہ محرم میں شادی کرے یا نہیں: جلد، 2 صفحہ، 115 دار الاشاعت کراچی)
اسی طرح فتاویٰ حقانیہ (کتاب البدعة والرسوم، محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم: جلد، 2 صفحہ، 96 جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک) میں بھی موجود ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے۔

صفحہ 4 از 4