نئے ہجری سال کی ابتداء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نئے ہجری سال کی ابتداء

  مفتی محمد راشد ڈسکوی

صفحہ 3 از 4
ہر مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو حضرت حسینؓ کی شہادت کا واقعہ غمگین کر دے اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے سردار اور اہلِ علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے آپ جناب رسول اللہﷺ کی سب سے افضل لختِ جگر کے بیٹے یعنی آپﷺ کے نواسے تھے آپ عبادت کرنے والے بڑے بہادر اور بہت زیادہ سخی تھے لیکن آپ کی شہادت پر شیعہ جس انداز سے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں، وہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے بلکہ ان کی یہ حرکات بناوٹی اور ریاکاری سے تعلق رکھتی ہیں آپ کے والد حضرت علی المرتضیٰؓ آپ سے زیادہ افضل تھے اُن کو چالیس ہجری، اکیس رمضان، جمعہ کے دن ، جب کہ وہ اپنے گھر سے نمازِ فجر کے لیے تشریف لے جا رہے تھے شہید کر دیا گیا لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت عثمانِ غنیؓ اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک حضرت علی المرتضیٰؓ سے افضل ہیں، جنہیں چھیالیس ہجری عید الاضحیٰ کے آٹھویں دن 18 ذی الحجہ کو انہی کے گھر میں شہید کردیا گیا لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو بھی اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے افضل ہیں، جن کو 27 ذی الحجہ کو مسجد کے محراب میں نماز کی حالت میں زہر آلود تیر سے وار کرکے زخمی کردیا گیا جب کہ وہ قراءت کر رہے تھے اور وہ اس زخم سے 1 محرم الحرام کو شہید ہوگئے لیکن شیعہ ان کے قتل کے دن کو اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح سیدنا حسینؓ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں، اسی طرح حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ان تینوں حضرات سے افضل تھے لیکن شیعہ ان کی وفات کے دن اس طرح ماتم نہیں کرتے جس طرح حضرت حسینؓ کی شہادت کے دن ماتم کرتے ہیں اور جناب نبی اکرمﷺ جو دنیا و آخرت میں بنی آدم کے سردار ہیں ان کی وفات کے دن بھی یہ شیعہ اس طرح ماتم نہیں کرتے، جس طرح یہ جاہل رافضی حضرت حسینؓ کی شہادت کے دن کرتے ہیں۔
(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 579)
اس قول کو ملاحظہ کرنے سے روافض کے ڈرامے اور ڈھونگ کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے اس کے بعد سمجھنا چاہیئے کہ شہادت کا مرتبہ خوشی کا ہے یا غم اور سوگ کا؟ 
تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہاء سعادت کی بات ہے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت:
 یہی وجہ تھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مستقل حصولِ شہادت کی دعا مانگا کرتے تھے۔
دعا کے الفاظ یہ ہیں: اللھم ارزقنی شھادۃ فی بلد رسولک۔  
(صحیح البخاری کتاب فضائل مدینہ باب کراہیة النَّبِیﷺ  أن تعری المدینة، رقم الحدیث: 1890 جلد، 3 صفحہ، 23 دارطوق النجاة)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا شوقِ شہادت:
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنہیں بارگاہِ رسالت سے سیف اللہ کا خطاب ملا تھا وہ ساری زندگی شہادت کے حصول کی تڑپ لیے ہوئے قتال فی سبیل اللہ میں مصروف رہے لیکن اللہ کی شان انہیں شہادت نہ مل سکی تو جب ان کی وفات کا وقت آیا تو پھوٹ پھوٹ کے رو پڑے کہ میں آج بستر پر پڑا ہوا اونٹ کے مرنے کی طرح اپنی موت کا منتظر ہوں۔
(البدایہ والنھایہ سنة احدی وعشرین ذکر من توفی احدی وعشرین: جلد، 7 صفحہ، 114 مکتبة المعارف، بیروت)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق شہادت:
شہادت تو ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے جس کی تمنا خود جناب رسول اللہﷺ نے اپنے لیے کی اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
ولوددت انی اورل فی سبیل اللہ ثم احیا ثم اقتل ثم احیا ثم اقتل۔
ترجمہ: میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں پھر شہید کر دیا جاؤں پھر مجھے زندہ کر دیا جائے پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کر دیا جاؤں پھر مجھے زندہ کر دیا جائے پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور پھر شہید کر دیا جاؤں۔
(صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب: فضل الجھاد و الخروج فی سبیل اللہ، رقم الحدیث: 4967)
الغرض یہاں تو صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ شہادت تو ایسی نعمت ہے جس کے حصول کی شدت سے تمنا کی جاتی تھی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر افسوس اور غم منایا جائے اگر اس عمل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر ہمیں بتلایا جائے کہ پورے سال کا ایسا کون سا دن ہے جس میں کسی نہ کسی صحابیِ رسول کی شہادت نہ ہوئی ہو کتبِ تاریخ اور سیر کو دیکھ لیا جائے ہر دن میں کسی نہ کسی کی شہادت مل جائے گی جس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس دن کو اظہارِ غم اور افسوس بنایا جائے نیز اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جناب رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ میں بھی تو کئی عظیم اور نبی کریم ﷺ کی محبوب شخصیات کو شہادت ملی لیکن کیا ہمارے پیارے نبیﷺ نے بھی ان کی شہادت کے دن کو بطورِ یادگار کے منایا؟
نہیں بالکل نہیں تو پھر کیا ہم اپنے نبی کریمﷺ سے زیادہ غم محسوس کرنے والے ہیں؟
خدارا ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس قسم کی شیطانی اور گمراہ کن رسومات و اعمال سے بچنے کی مکمل کوشش کریں۔
شرعا سوگ کرنے کا حکم:
شرعاً سوگ کرنے کی صرف چند صورتیں ہیں اور وہ بھی عورتوں کے لیے:
1: مطلقہ بائنہ کے لیے صرف زمانہ عدت میں
2: جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کے لیے صرف زمانہ عدت میں
3: کسی قریبی رشتے دار کی وفات پر صرف تین دن
اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر عورت کے لیے سوگ کرنا جائز نہیں ہے اور سوگ کا مطلب یا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس عرصہ میں زیب و زینت اور بناؤ سنگھار نہ کرے زینت کی کسی بھی صورت کو اختیار نہ کرے، مثلاً خوشبو لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا اور رنگ برنگے خوشنما کپڑے پہننا وغیرہ اس کے علاوہ کوئی صورت اپنانا مثلاً اظہارِ غم کے لیے سیاہ لباس پہننا یا بلند آواز سے آہ و بکا اور سیاہ لباس وغیرہ پہننا جائز نہیں۔ 
نیز مردوں کے لیے تو کسی صورت میں سوگ کی اجازت نہیں ہے تو پھر محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی سوگ اور ماتم کے کیا معنیٰ؟
محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم:
صفحہ 3 از 4