نئے ہجری سال کی ابتداء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نئے ہجری سال کی ابتداء

  مفتی محمد راشد ڈسکوی

صفحہ 2 از 4
ترجمہ: جب حضرت رسول اللہﷺ نے عاشوراء کے دن خود روزہ رکھا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو اِس پر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن کی تو یہود و نصاریٰ بھی تعظیم کرتے ہیں؟ غالباً یہ عرض کرنا مقصود ہو گا کہ روزہ رکھ کر تو ہم نے بھی اس دن کی تعظیم کی گویا ہم ایک عمل میں ان کی مشابہت اختیار کرنے لگے تو اِس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو اگلے سال ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے اس طرح سے مشابہت کا شبہ باقی نہیں رہے گا سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگلا سال آنے سے پہلے ہی آپﷺ کا وصال ہو گیا۔
اسی وجہ سے فقہائے کرام فرماتے ہیں صرف عاشوراء کا روزہ نہ رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ 9 یا 11 محرم کا روزہ بھی ملا لیا جائے تاکہ یہود کے ساتھ مشابہت سے بچ سکیں۔
صحیح مسلم کی ہی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش بھی زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔
عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کانت قریش تصوم عاشوراء فی الجاھلیة وکان رسول اللہﷺ یصوم، فلما ھاجر إلی المدینة صامہ وأمر بصیامہ فلما فرض شھر رمضان قال: من شاء صامہ، ومن شاء ترکہ۔
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صوم عاشوراء، رقم الحدیث: 1125 جلد، 2 صفحہ، 792 دارالکتب العلمیة)
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھتے تھے اور جناب رسول اللہﷺ بھی روزہ رکھتے تھے جب آپﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو وہاں بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، پھر جب ماہِ رمضان میں روزہ رکھنے کی فرضیت کا حکم آیا تو آپﷺ نے لوگوں کو اختیار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہجرت سے قبل بھی حضورﷺ کی اپنی عادتِ شریفہ روزہ رکھنے کی تھی اور ہجرت کے بعد دوسروں کو بھی تاکید فرمائی تھی۔
1: ماہ محرم سے متعلق دو موضوع احادیث:
شیعہ کی طرف سے اس ماہِ مبارک میں کچھ موضوع اور من گھڑت روایات بھی علی الاعلان بیان کی جاتی ہیں اور ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے حالانکہ احادیث نبویہﷺ میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو آپﷺ نے بیان نہیں فرمائی بہت بڑا جرم ہے ایسے شخص کے لیے جہنم کی وعید ہے، جیسا کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
من کذب علی متعمدًا فلیتبوء مقعدہ من النار۔
(المقاصد الحسنة فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرة علی الألسنة باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہﷺ: رقم الحدیث: 3 جلد، 1 صفحہ، 10 دار الکتب العلمیة)
ترجمہ: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
اس لیے اس جرم کے ارتکاب سے باز رہنا بہت ضروری ہے ان من گھڑت روایات میں سے ایک یہ ہے:
ما من عبد یبکی یوم قتل الحسین، إلا کان یوم القیامة مع أولی العزم من الرسل۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السنی: صفحہ، 596 رقم الحدیث: 641 مکتبة الشیخ کراتشی)
ترجمہ: جو شخص بھی شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کے دن ان کے غم میں روئے گا قیامت کے دن وہ اولو العزم رسولوں کے ساتھ ہو گا۔
اور ایک دوسری روایت یہ ہے:
من صام تسعة أیام من أول المحرم بنی اللہ لہ قبة في الھواء میلا فی میل لھا أربعة أبواب۔
(عمل الیوم واللیلة لابنِ السنی: صفحہ، 596: رقم الحدیث: 641 مکتبة الشیخ، کراتشی)
ترجمہ: جس نے پہلی محرم سے نو دن کے روزے رکھے اللہ اس کے لیے ہوا میں ایک خیمہ بنائیں گے جو ایک میل چوڑا اور ایک میل لمبا ہوگا اور اس کے چار دروازے ہوں گے۔
واضح رہے کہ ان جیسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات کو بیان کرنا یا ان پر یقین کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے اس لیے ان جیسی بہت سی روایات اور افسانوی باتیں جو محرم الحرام کے آتے ہی عام کی جاتی ہیں کہ جن کی کوئی فنی شہادت اور ثبوت نہیں ہوتا ان سے پورے اہتمام سے نہ صرف بچا جائے بلکہ ان کے بیان کرنے والے کے اس بیان کو رد کرنے کی بھی از حد ضرورت ہے۔
2: محرم الحرام میں سوگ کرنے کا حکم:
ایک اور چیز جس کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیئے کیوں؟
 اس لیے کہ اس مہینے میں نواسہ رسول اللہﷺ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہایت بیدردی سے شہید کر دیا گیا ان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے غم منانا سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ہے سوچنا تو یہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں شریعت کی طرف سے کیا راہنمائی ملتی ہے؟
اس بارے میں سب سے پہلے علامہ ابنِ کثیر رحمتہ اللہ علیہ کا ایک قول ملاحظہ کرتے ہیں:
صفحہ 2 از 4