نئے ہجری سال کی ابتداء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نئے ہجری سال کی ابتداء

  مفتی محمد راشد ڈسکوی

صفحہ 1 از 4
محرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کا پہلا مہینہ ہے کتنے ہی پڑھے لکھے دیندار لوگ ایسے ہیں جنہیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم اس کے مہینوں کے نام اور ان کی تاریخ ہر کسی کو معلوم ہوتی ہے جب جب شمسی سال کے پہلے مہینے جنوری کی ابتداء ہوتی ہے تو وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں خوب ہلّہ غلّہ کرتے ہیں گویا اس طریقے سے وہ نئے سال کا آغاز کرتے ہیں اس مقام پر ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ "نیو ائیر" کی اس طرز پر ابتداء ہم نے کہاں سے لی؟  
ہمارے لیے تو "نیوائیر" کی ابتداء محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں اس لیے ہمیں اپنی زندگی کی راہ و رسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت نہیں ہم تو خود ساری دنیا کو تہذیب و شائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔
نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ:
تو "نئے سال" کی ابتداء ہو یا "نئے مہینے" کی، اس کی ابتداء کا مسنون طریقہ شریعتِ مطہرہ میں یہ ہے کہ مہینے کے اختتام پر نئے مہینے کے چاند کو دیکھنے کا اہتمام کیا جائے یہ  مسنون عمل ہے اور جب چاند نظر آجائے تو نیا چاند دیکھنے کی دعا بھی پڑھی جائے،
 یہ بھی مسنون عمل ہے اس مسنون طریقے کے ہی اپنانے میں اور دعاؤں کا اہتمام کرنے میں ہی برکت، حفاظت اور ثواب ہے ہمیں فضول قسم کی رسومات اور خرافات سے بچتے ہوئے اسی کا اہتمام کر کے سچے مسلمان اور محبِ نبیﷺ ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے امام ابنِ السنی نے مہینہ کی ابتداء کے بارے میں آپﷺ کی سنت و عادتِ شریفہ کا یوں ذکر فرمایا ہے:
إن رسول اللہﷺ کان إذا رأی الھلال قال اللّٰھم اجعلہ ھلال یُمنٍ و برکةٍ۔
(عمل الیوم واللیلة لابن السنی، صفحہ، 596 رقم الحدیث، 641 مکتبة الشیخ، کراتشی)
ترجمہ: حضرت رسول اللہﷺ جب پہلی رات کے چاند کو دیکھتے تو یوں دعا مانگتے: اے اللہ! ہمارے لیے اس چاند کوخیر و برکت والا بنا دے۔
نیا چاند دیکھتے وقت کی مسنون دعا:
ایک دوسری روایت میں اس وقت یہ دعا پڑھنے کا ذکر ہے: اللھم اھلہ علینا بالیمن والایمان والسلامۃ والاسلام ربیع و ربک اللہ۔ 
(مسند أحمد بن حنبل، مسند أبی محمد طلحہٰ بن عبید اللہ: جلد، 2 صفحہ، 179 رقم الحدیث: 1397 دارالحدیث القاھرة)
ترجمہ: اے اللہ! اس پہلی رات کے چاند کو امن و سلامتی اورایمان و اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، اے چاند میرا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ہمیں بھی مہینے کی ابتداء اُسی طرح کرنی چاہیئے، جیسا کہ آپﷺ کا طریقہ تھا تاکہ برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوں چہ جائیکہ! ہم رسوم و بدعات اور نوحہ خوانی سے ابتداء کریں ۔
اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت:
دوسری بات یہ کہ ہمیں چاہیئے ہم اسلامی تقویم ہجری کے استعمال کی عادت ڈالیں، اپنے روز مرہ کے استعمال میں اس تقویم کو سامنے رکھیں اگرچہ! دوسرے کلینڈروں کا استعمال گناہ نہیں ہے شرعاً اس کے اختیار کرنے میں بھی ممانعت نہیں ہے لیکن شمسی تقویم کا ایسا استعمال کہ ہم اسلامی تقویم کو بالکل ہی بھلا بیٹھیں یہ کسی طرح درست نہیں اس لیے کہ اسلامی تقویم ہجری کی حفاظت بھی مسلمانوں کا فرض ہے اور اس کے استعمال میں ثواب ہے جس سے محروم نہیں ہوناچاہیئے، نیز اپنی شناخت اور اپنے امتیاز کو باقی رکھنا بھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے اس معاملے میں اس کی بہتر شکل یہ ہے کہ ہم قمری تاریخ کے استعمال کو ترجیحی بنیادوں پر دوسری تقویم کے مقابلے میں استعمال کریں، خدا نخواستہ اگر سب مسلمان اسلامی تقویم ہجری کو چھوڑ بیٹھیں اور بھلا دیں تو سب کے سب اللہ کے یہاں مجرم ٹھہریں گے اس لیے کہ اسلام کی بہت ساری عبادات کا تعلق اسی تقویم سے ہے حضرت حکیم الأمت رحمہ اللہ علیہ اپنی تفسیر "بیان القرآن" میں رقم طراز ہیں:
البتہ چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حسابِ قمری پر ہے اس لیے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنا لے جس سے حسابِ قمری ضائع ہو جائے تو سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ہے اور حسابِ قمری کا برتنا بوجہ اُس کے فرضِ کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے۔
(بیان القرآن: سورة التوبة، جلد، 3 صفحہ، 131 مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
اسلامی سال کے اس پہلے مہینے کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہے یہ عظمت والے مہینوں میں سے ہے تاریخی روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت سے عظیم الشان واقعات پیش آئے احکامات کے اعتبار سے صحیح اور مستند احادیث سے جو امور سامنے آتے ہیں وہ صرف دو ہیں:
ماہ محرم الحرام میں پہلا حکم:
اس ماہِ مبارک میں مطلقاً کسی بھی دن روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ شمار ہوتا ہے نیز نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا اور بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے:
افضل الصّیام بعد رمضان، شھر اللہ المحرم، وافضل الصّلاة بعد الفریضة صلوة اللیل۔ 
(صحیح مسلم، کتاب الصوم، باب فضل صوم المحرم، رقم الحدیث: 202)
ترجمہ: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل رات کی نماز تہجد ہے۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
حین صام رسول اللہﷺ یوم عاشوراء، وأمر بصیامہ قالوا یا رسول اللہ إنہ یوم تُعظِّمہ الیھود والنصاری فقال رسول اللہﷺ فإذا کان العام المقبل إن شاء اللہ صُمنا الیوم التاسع قال فلم یأت العام المقبل حتیٰ توفی رسول اللہﷺ۔
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: أی یوم یصام فی عاشوراء رقم الحدیث: 1134 جلد، 2 صفحہ، 797 دارالکتب العلمیة)
صفحہ 1 از 4