خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب - ردِ رافضیت |…

خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب

  محمد علی

صفحہ 4 از 5

بیٹی سیدہ صغریٰ کا قاصد: ایک کوفی سوار مدینے پاک کی گلیوں میں سے گزرتا ہوا ایک تنگ سی گلی ہیں پہنچا اس نے دیکھا کہ ایک ٹوٹے ہوئے مکان کے دروازے میں زمین پر ایک معصوم سی بچی یا حسین یا حسین کے نعرے لگا رہی ہے اس معصوم بچی کے یہ درد ناک نعرے سن کر وہ سوار اس کے پاس گیا اور پوچھا اے پاک بی بی تو کون ہے؟ سوار کے اس سوال سے صغریٰ کو کچھ حوصلہ ہوا اور فرمایا بابا میں حسین ان کی بچھڑی ہوئی بیٹی ہوں اور میرا نام سیدہ صغریٰ ہے وہ مجھ کو تنہا اور بیمار چھوڑ کر کوفہ چلے گئے ہیں میں بیمار ہوں دوا دینے والا کوئی نہیں دکھی ہوں تسلی دینے والا کوئی نہیں میرے ابا جان نے کہا تھا کہ ایک مہینے کے بعد سیدنا علی اصغر آ کر تمہیں لے جائے گا مگر تین مہینے ہو گئے ہیں ان کا کوئی پتہ نہیں آیا صبح سے لے کر شام تک دروازے میں بیٹھی ان کا انتظار کرتی ہوں اور ہر آنے جانے والے سے اپنے باپ کا پتہ پوچھتی ہوں مگر کوئی بھی ان کا پتہ نہیں دیتا یہ میرے نانے کی امت صبح سے شام تک میرے سامنے آتی بھی ہے اور جاتی بھی مگر مجھ غریبنی کو کوئی پوچھتا ہی نہیں اے اللہ کے نیک بندے! اگر تو کوفہ کی طرف جا رہا ہے تو خدا کے لئے مجھے بھی ساتھ کے چل اور اگر کوفے تک نہیں جاتا تو نہ سہی جہاں تک تو لے جا سکتا ہے مجھے لے چل آگے کا مجھے راستہ بتا دینا میں گرتی پڑتی اٹھتی بیٹھی اور ہانپتی کانپتی کوفے پہنچ جاؤں گی اور اگر تو اونٹنی پر نہیں بٹھا سکتا تو نہ سہی نہیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو ملنے کی خوشی میں تیرے اونٹ کے آگے آگے دوڑتی جاؤں گی میں اپنی بھوک اور پیاس کی بھی شکایت نہیں کروں گی میں راستے میں تجھے کوئی تکلیف نہیں دوں گی مجھے بیمار سمجھ کر نہ چھوڑنا اگرچہ میں بیمار ہوں مگر ماں باپ کی ملاقات کی خوشی میں میری بیماری جاتی رہے گی اور بہن بھائیوں کے ملنے کے شوق میں مجھ میں ہمت آ جائے گی سوار نے عرض کی اسے سیدہ پاک اگر میں نے تیرا خط تیرے باپ کو پہنچا دیا تو مجھے تو کیا انعام دے گی؟ سوار نے سمجھا کہ آج سیدنا حسین کی اس اس بچی کی خدمت کر کے میری عاقبت سنور جائے گی میرا دین کامل ہو جائے گا پل صراط سے گزرنا آسان ہو جائے گا اور میدان حشر کی گرمی میں رسول پاک کی کالی کملی کا سایہ ملے گا اور سیدنا علی سے حوض کوثر کا پیالہ نصیب ہوگا بیمار سیدہ صغریٰ نے فرمایا اے قاصد میرے پاس سونے اور چاندی کے خزانے نہیں ہیں لعل و جواہرات کے ڈھیر نہیں ہیں ریشمی چادریں اور شاہی محل نہیں ہیں پر پھر بھی

 آے لے کپڑیاں دے نی دو جوڑے تینوں ہو روی کُجھ عطا کرساں

 بڑے سخی دے سخی دی میں ہاں بچی اہلِ بیت ہاں ہور دعا کرساں

 جے کر پہنچ گئی میں کربلا اندر تیرے دُکھاں دی آپ دوا کرساں 

روز حشر دے میر یا قاصدا او تینوں کوثر دا جام عطا کرساں

 اے خدا کے نیک بندے اپنے بچوں کا صدقہ مجھ پر رحم کر مجھے ترس کھا اور میری فریاد کو قبول کر میں دکھی ہوں میرا سہارا بن میں تیار ہوں مجھے دوا دے خدا تیرے بچوں کی عمر دراز میں مفلس ہوں میرے پاس اور تو کچھ نہیں ہے یہ دو جوڑے کپڑوں کے ہیں یہ لے تیرے بچوں کے کام آئیں گے اور اگر میں کوفے پہنچ گئی تو تجھے اور بھی بہت کچھ عطا کروں گی تیرے بچوں کے حق میں دعا کروں گی اور قیامت کے دن حوض کوثر سے سیراب کروں گی اتنا کہہ کر وہ بچی پھر یا حسین پکارتی ہوئی بیہوش ہو گئی قاصد نے آگے ہو کر اس بچی کے سر پر ہاتھ رکھا تو پتہ چلا کہ بچی بخار میں جھلس رہی ہے اور اتنی کمزور ہے کہ اٹھ نہیں سکتی قاصد نے بچی کے منہ پر ٹھنڈا پانی چھڑکا وہ ہوش میں آئی تو پوچھنے لگی کیا میرے ابا جان آ گئے ہیں کیا سیدنا علی اکبر مجھے لینے کے لئے آ گیا ہے کیا میرا ننھا سا بھائی سیدنا اصغر بھی ساتھ ہے قاصد نے ہاتھ جوڑ کر جواب دیا بیٹی میں بھی خاندان نبوت کا گداگر ہوں اور اہلِ بیت کے گھرانے کا خادم ہوں گھبراؤ نہیں میں تمہیں ضرور لے چلتا مگر یہ دیکھ لو میرے اونٹ پر کجاوہ نہیں ہے اور تم بیمار اور کمزور ہو ہاں میں تمہارا خط تمہارے باپ تک ضرور پہنچا دوں گا اور اگرچہ میرے بچے بیمار ہیں اور میں اُن کی دوا کے لئے ہی مدینے آیا مگر اب جب تک تمہارا خط تمہارے باپ کو نہ پہنچاؤں اس وقت تک اپنے بچوں کو دیکھنا حرام ہے بنتِ حسین قاصد سے یہ سن کر بول اٹھی بابا جی خدا کے لئے ایسا نہ کرو اور جاؤ اپنے بچوں کو دوا پلاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا صبر مجھ پر پڑے قاصد نے کہا بیٹی نہیں! اب یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اب اپنے بچوں کی خاطر تیری اس خدمت گزاری میں دیر کر کے خدا اور رسول کی ناراضگی اپنے سر لوں اور یہ لو اپنے کپڑے میں اس خدمت گذاری کا صلہ تم سے نہیں تمہارے نانے مصطفیٰ سے قیامت میں لوں گا اور پھر اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے بچھڑی ہوئی بیمار سیدہ صغریٰ نے ایک درد بھرا خط لکھ کر سوار کے حوالے کیا سوار نے اپنے اونٹ کا منہ کوفے کی طرف موڑا اور یہ دعا کرتا ہوا روانہ ہو گیا۔

یا اللہ میں منزل مقصود پر پہنچ جاؤں۔

 ادھر سیدہ صغریٰ کے قاصد نے دعا کی ادھر خدا نے فرمایا جبرئیلؑ میرے پیارے سیدنا حسین کی پیاری بیٹی سیدہ صغریؓ کا خط لے کر یہ قاصد کربلا کو جا رہا ہے زمین کی طنابیں کھینچ لو ننھی سی لاش کو کربلا کی تپتی ہوئی ریت میں دفن کرنے کے بعد حسین خیموں کی طرف واپس آ رہے تھے مدینے کی طرف نگاہ اٹھائی تو دور سے غبار اڑتا ہوا نظر آیا سمجھے کہ شاید کہیں سے کوئی مدد آ رہی ہے آپ ٹھہر گئے غبار تیزی سے قریب آتا گیا اور پھر اسی غبار سے ایک سانڈنی سوار نمودار ہوا وہ قریب آیا اس نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور حسین مظلوم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا سر جھکایا اور قدموں کو بوسہ دیا اور عرض کی یا حسین آپ یہاں ہیں؟ وہ سامنے لشکر کس کا ہے؟ اور ان خیموں میں کون ہے؟ آپ تو کوفے گئے تھے اور سنا تھا کہ کوفہ والے آپ کے ساتھ ہیں سیدہ کے لال نے جواب دیا کوفہ والوں نے دھوکہ دیا ہے وہ لشکر یزید کا ہے اور ان خیموں میں ناموس رسالت چھپی ہوئی ہے اور پھر پوچھا! تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو اور تمہیں کس نے بھیجا ہے؟ سوار نے عرض کی میں سیدہ صغریٰ دا قاصد حضرت شہر مدینیوں آیا

صفحہ 4 از 5