خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب - ردِ رافضیت |…

خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب

  محمد علی

صفحہ 3 از 5

سیدہ صُغریٰ مدینے میں: یہ کون رو رہی ہے کہ کائنات کا سینہ شق ہوا جاتا ہے یہ کس کی گریہ و زاری سے آسمان کا کلیجہ پھٹ رہا ہے یہ کس کی آہ و بکا سے عرش الٰہی کانپ رہا ہے یہ کس دکھی کی فریاد سے فرش زمین لرز رہا ہے یہ کس کی پر درد آہ و فغاں سے مدینے کے در و دیوار رو رہے ہیں یہ کس کے پر سوز نالوں سے شربت زہرہ جنبش میں ہے یہ کس کی دردناک گریہ زاری نے میرے دل کو تڑپا دیا ہے اور یہ کس کی پر سوز آہ و بکا نے میرے سینے کو جلا دیا ہے؟ یہ سیدہ صغریٰ ہے سیدنا حسینؓ کی بیمار بیٹی سیدہ صُغریٰ اب جسے سیدنا عالی مقام مدینہ میں چھوڑ آئے تھے جسے باپ نے کہا تھا کہ ایک مہینے کے بعد میں سیدنا علی اکبر کو بھیجوں گا تو تمہیں ساتھ لے آئے گا مگر دن گزرے راتیں گزریں صبحیں ہوئیں اور شامیں گئیں اور پھر تین مہینے گزر گئے ہیں مگر نہ سیدنا علی اکبر ہی آیا ہے اور نہ ہی باپ! نہ عابد کا کوئی پتہ ہے اور نہ سیدنا اصغر کا نہ پھوپھی کی کوئی اطلاع آئی نہ ماں کی صبح ہوتی تو وہ دروازے پر بیٹھ جاتی اور جو بھی پاس سے گذرتا اس کا دامن پکڑ کر فریاد کرتی اور پوچھتی کہ اے خدا کے بندے تو نے میرے باپ کو کہیں دیکھا ہے تو بتاؤ میری بہن کو کہیں دیکھا ہے تو اس کا حال سناؤ اور میرے ویروں کا کچھ پتہ ہے تو بتاؤ مگر وہ سیدہ صُغریٰ کو دیوانی سمجھ کر دامن چھڑا کر آگے نکل جاتا شام ہوتی تو ان پرندوں کو دیکھتی جو اپنے رزق کی تلاش میں دور دور نکل جاتے ہیں مگر شام ہوتے ہی اپنے اپنے گھونسلوں میں آجاتے ہیں تو اور بھی بے چین ہو جاتی اور اس کا کلیجہ اس خیال سے پھٹ جاتا کہ میرے بھائی بھی دور گئے تھے میرا باپ بھی پردیس گیا تھا اور میرے سنگ والے بھی سفر پر گئے تھے مگر یا اللہ یہ پرندے تو صبح جاتے ہیں اور اسی شام کو واپس آ جاتے ہیں مگر میرے گھر والوں کو تو تین مہینے گزرے گئے وہ ابھی تک کیوں نہیں آئے رات ہوتی تو بھوکی پیاسی ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لیٹ جاتی دروازہ ہوا سے بھی ہلتا تو اس امید پر اٹھی اور دروازہ کھولتی کہ شاید میرا ویر سیدنا علی اکبر آ گیا ہے وہ مدینے سے باہر نکل جاتی اور ہر آنے والے مسافر کے پاؤں پکڑ کر گریہ وزاری کرتی اور پوچھتی ہے اللہ کے نیک بندے تو کوفہ سے آیا ہے مجھے بتا کہ میرے باپ کا کیا حال ہے میرا بھائی سیدنا علی اکبر مجھے لینے کے لئے کیوں نہیں آیا میرا ویر سیدنا اصغر تو اب باتیں کرتا ہوگا اور میری بہن بھی مجھے یاد کرتی ہوگی نواسہ رسول کی یہ بیمار بیٹی سیدہ صُغریٰ اپنے باپ کے فراق میں اپنی ماں کی جدائی میں اور اپنے بہن بھائیوں کے غم میں شب و روز روتی تھی کوئی تسلی دینے والا نہیں تھا نہ کوئی ہمدرد و خیر خواہ تھا اور نہ کوئی غم خوار و مدد گار ایک دن وہ اپنے معمول کے مطابق مدینے کے چوراہے میں بیٹھی ہر گزرنے والے سے اپنے گھر والوں کا پتہ پوچھ رہی تھی کہ ایک شُتر سوار اپنے اونٹ کو تیزی سے دوڑاتا ہوا پاس سے گزر گیا سیدہ بی بی صُغریٰ اس کے پیچھے دوڑی آوازیں دیں اور چیخی چلائی شُتر سوار نے اس بچی کی آہ و فغاں سنی تو ٹہر گیا اونٹ سے نیچے اترا اور پوچھا بی بی تو کون ہے اور یہاں کیوں بیٹھی ہے اور کس کے فراق میں روتی ہے؟ سیدہ بی بی صُغریٰ نے کہا بابا آج تین مہینے گزر گئے ہیں میرے گھر والے مجھے اکیلی چھوڑ کر چلے گئے ہوئے ہیں ان کے انتظار میں بیٹھی ہوں اور ان کے فراق میں تڑہتی ہوں معلوم ہوتا ہے کہ تو کوفہ سے آیا ہے مجھے میرے باپ کا پتہ بتا میرے بھائی کا حال سنا کیا تو نے ان کو دیکھا ہے؟ شُتر سوار کی آنکھوں آنسو جاری ہو گئے وہ حیران تھا کہ اس بچی کو کیا ہو گیا ہے اور اس کو کیا جواب دوں سوار نے جواب دیا بچی میں تو یمن سے آیا ہوں مجھے تمہارے گھر والوں کا کوئی پتہ نہیں سیدہ بی بی پاک صُغریٰ ہر مسافر سے پوچھتی ہیں کہ تو کہاں سے سے آیا ہے؟ کوئی کہتا میں مِصر سے آیا ہوں کوئی کہتا میں رُوم سے آیا ہوں مگر یہ کوئی بھی یہ نہ کہتا کہ میں عراق سے آیا ہوں کوفہ سے آیا ہوں اور کربلا سے آیا ہوں سیدہ صُغریٰ نے ایک پر سوز آہ بھری اور فریاد کی

 سب پردیسی وطنوں آئے توں وی اکبر موڑ مہاراں

 وعدہ کر کے امڑی جایا میریاں لین نہ آیوں ساراں

 راتیں وچہ فِراق تیرے میں رو رو کراں پکاراں 

دن چڑھے تے لبھدی پھر دی تینوں وچہ آجاڑاں 

نوٹ: یہ پہلا مضمون 207 تا 209 تک ہےاس میں جو اول تا آخر جھوٹی داستان مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی پر زور دیا گیا ہے وہ آپ نے پڑھ لیا اب جو باقی کسر رہ گئی تھی وہ دوسرے مضمون صفحہ 293 تا 300 تک میں نکال رہے ہیں۔

صفحہ 3 از 5