وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

الكفاية في علم الرواية: عَنْ أَنس بنْ مَالِكؓ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِﷺ ان الله تعالىٰ إِخْتَارَني وَاخْتَارَ اصْحَابِي فَجَعَلَهُمْ أَصْحَاري وَجَلَهھم أَنْصَارِيُّ وَأَنَّهُ سَيَجِیئ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمُ يَنْقُصُونَهُمُ الأَ فَلَاتُنَاكِحُوهُم أَلَا فَلاتناكحوا إِلَيْهِمُ الَا فَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمُ الَا فَلَاتُصَلُّوا عَلَيْهِمْ حلت اللعنة وَالأَخْبَارُ فِي هَذَا الْمَعَنَى تَتَّبِعُ وَ كُلَّهَا مُطَابِقَةً لِمَا وَرَدَ فِي نَص الْقُرْآنِ وَجَمِيعَ ذَالِكَ يَقْتَضِى طَهَارَةُ الصِّحَابِةِ وَالقَطعَ عَلَى تَقْدِيلُهُمْ وَنَزَاهَتِهِمْ فَلَا يُحْتَاجُ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَعْدُ ما تعديل الله تعالىٰ المَطْلُعُ عَلَى بَوَاطِنِهِم إِلى تَعْدِيد أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ لَهُ فَهُوَ عَلَى هُذِهِ الصَّفَةِ إِلَّا أَنْ يَثْبَتَ عَلَى أَحَدٍ إِرْتِكَابِ مَا لَا يَحْتَمِلُ إِلَّا قَصُدَ المَعْصَيَّةِ وَالْخَرُوجِ مِنْ بَابِ التَّأْوِيلِ فَيَحكُم سَقُوطُ الْعَدَالَةٍ وَقَدْ بَرَأهُمُ اللَّهُ مِنْ ذَالِكَ وَرَفَعَ أَقْدَارَهُمْ عَنْهُ عَلَى أَنَّهُ لَوْلَم يَرِد مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولِهِ مِنْهُمْ شَى مِمَّا ذَكَرنَاهُ لَا وَجَبَتِ الْحَالُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا مِنَ الهَجْرَةِ وَالْجَهَادِ وَالنُّصْرَةِ وَبَذَلَ المهج والاموَالَ وَقَتُلَ الآبَاءِ وَالاولاد و المناصحة فِي الدِّينِ وَقُوةِ الْإِيمَانِ وَالْيَقِينِ القطع عَلَى عدالتهم والاعْتِقَادِ لِنَزَاهَتِهِمْ وَإِنَّهُم أَفْضَلَ مِنْ جَمِيعِ المُعدَّلِينَ وَالْمُزَكِّينَ الَّذِينَ يَجِيئونَ بَعدَهُمْ أَبَدًا الَّآ بِدِينَ هَذَا مَذْهَبَ كَافَةُ الْعُلَمَاءِ وَ مَنْ يَعْتَقِدُ بِقَوْلِهِ مِنَ الْفُقَهَا اَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورَ محمد بن عينى الهمداني حدثنا صالح بن احمد الحافظ قالَ سَمِعْتَ أبا جعفر احمد بن عبدل يَقُولُ سَمِعْتُ احمد بن محمد بن سليمان التسترى يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ذُرْعَه يَقُولُ إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْقَضَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِﷺ فَاعْلَمْ أَنَّہ زنَديقٌ وَذَالِكَ أَنَّ الرَّسُول اللهﷺ عِندَنا حق والقرآن حق وإنما ادى الينا هذا القرآن والسنن اصحاب رسول اللهﷺ وَإِنَّمَا يُرِيدُون ان يخرجوا شُهُودَنَا لِيَبْطِلُوا الكِتَابَ وَالسُّنَّةَ وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَى وَهُمْ زَنَادِقِةٌ۔ 

( كتاب الكفايه في علم الرواية: صفحہ 48۔49 باب ما جاء في تعديل الله ورسوله للصحابة مطبوعة علميه مدينه منوره

ترجمہ: سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے پسند فرمایا اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پسند فرمایا انہیں میرے سسر بنایا اور میرا مددگار بنایا عنقریب زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان کی تنقیص کریں گے خبردار تم ان لوگوں سے نکاح کرنا نہ انہیں نکاح دینا خبردار! ان سے میل ملاپ نہ رکھنا ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا ان پر لغت ہے احادیث اس بارے میں بہت ہیں اور سب کی سب قرآن کریم کے مضمون کے مطابق ہیں یہ تمام روایات و احادیث اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سبھی پاکیزہ شخصیات تھیں اور ان کی عدالت یقینی تھی اور وہ ہر برائی سے دور رہنے والے تھے ان میں سے کوئی صحابی اللہ تعالیٰ کے انہیں عادل کہنے کے بعد کسی اور کی طرف سے عدالت کے اثبات کے محتاج نہیں رہے کیونکہ وہ ان کے باطن سے واقف ہے لہٰذا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنائی گئی عدالت پر فائز ہیں ہاں اگر ان میں سے کسی سے یہ ثابت ہو جائے کہ اس سے ایسی حرکت سرزد ہوئی ہے جس نے انہیں اس صفت سے محروم کر دیا اور ان کی عدالت ختم ہو گئی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بری فرمایا ان کے مراتب بلند فرمائے علاوہ ازیں اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے مذکورہ صفت کے بارے میں کچھ بھی وارد نہ ہوتا تو پھر بھی ان کی ہجرت جہاد نصرت مال خرچ کرنا اپنے باپ اور اولاد کو خدا و رسولﷺ کے مقابل مار ڈالنا ایمان کی قوت اور یقین یہ سب باتیں ان میں ثبوت عدالت کے لیے کافی تھیں اور ان کے پاکیزہ ہونے کے عقیدہ کے لیے بہت تھیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے بعد آنے والے تمام مزکین اور معدلین سے کہیں زیادہ افضل تھے یہ مذہب تمام علماء کرام کا ہے ہمیں ابو منصور محمد بن عیسیٰ ہمدانی نے خبر دی ہمیں صالح بن احمد حافظ نے بتایا وہ کہتے ہیں میں نے ابوجعفر احمد بن عبدل سے سنا وہ کہتے تھے میں نے احمد بن محمد بن سلیمان تستری سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے جناب ابو زرعہ کو کہتے سنا فرمایا جب تو کسی شخص کو کسی صحابی رسولﷺ کی شان میں نقص بیان کرتے دیکھے تو اسے زندیق یعنی بےدین جاننا یہ اس لیے کہ رسولﷺ ہمارے نزدیک حق ہیں قرآن حق ہے یہ قرآن اور آپ کی سنتیں ہم تک پہنچانے والے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں یہ بہتان تراش لوگ ان پر جرح کر کے یہ چاہتے ہیں کہ کتاب و سنت کو باطل کر دیں اس کے مقابلہ میں خود ان لوگوں کو مجروح قرار دینا بہتر ہے کیونکہ وہ بے دین ہیں۔ 

کفایۃ فی علم الروایۃ کے مذکورہ حوالہ سے درج ذیل امور ثابت ہوئے۔

1: اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چن لیا ہے۔ 

2: بعض صحابہ کرام کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپﷺ کے سسرال بنے جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمر بن خطابؓ اور سیدنا سفیانؓ۔

3: ان کی اولاد کو حضورﷺ کے سالے بنایا مثلاً سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اور سیدنا امیر معاویہ بن سفیانؓ۔ 

4: کچھ لنعتی لوگ پیدا ہوں گے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان گھٹائیں گے۔ خبردار! ان سے نکاح نہ کرنا نہ ان سے میل ملاپ رکھنا نہ ان کی نماز جنازہ ه پڑھنا۔

 5: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جب اللہ تعالیٰ نے عادل فرمایا تو اس کے بعد وہ کسی سے عادل ہونے کا فیصلہ لینے کے محتاج نہیں۔

صفحہ 3 از 4