وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب

  محمد علی

صفحہ 2 از 4

 توضیح: وحید الزمان غیر مقلد کے نظریات آپ نے پڑھے جن میں سے بعض کے پیش نظر وہ تفضیلی شیعہ نظر آتا ہے اور بعض سے وہ رافضی شیعہ دکھائی دیتا ہے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت پر اس عقل و خرد کے اندھے کو کوئی دلیل نظر نہ آئی سب باتوں کو چھوڑیے حدیث پاک "مروا ابابكرؓ فليصل بالناس" سیدنا صدیق اکبرؓ کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اہلِ حدیث کہلانے کے باوجود یہ حدیث نظر نہ آئی اس وقت سیدنا علی المرتضیٰؓ وغیرہ موجود تھے جب حضورﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا اس سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت ثابت نہیں ہوتی تو اور کیا ثابت ہوتا ہے؟ رہا زبردستی متکلمین کا اس بات کو عقائد میں لانا اس سے بھی وحید الزمان کی شیعیت ٹپکتی ہے اکابرین اہلِ سنت اور مجدد الف ثانیؒ وغیرہ حضرات نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت کو اجماعی مسئلہ قرار دیا اور اجماع بھی ان دلائل میں سے ایک ہے جو قطعی ہوتے ہیں خاص کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع وہ تو یقیناً بالاتفاق قطعی ہے اس کے خلاف وحید الزمان سیدنا علی المرتضیٰؓ کو حقدار خلافت کہتا ہے اور اس کی نسبت خود سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طرف کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ حقدار خلافت سمجھتے تھے اور حقیقت بھی یہی ہے یہ بھی اس کے رفض کی دلیل ہے صواعق محرقہ صفحہ 60 مطبوعہ قاہرہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کا ایک قول منقول ہے فرمایا جو مجھے سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر فضیلت دے میں اس مفتری کو بطور سزا کوڑے ماروں گا سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں وہ گھٹیا زبان استعمال کی جو رافضی بھی نہ کر سکے وہ الزام دھرا جو ان کے بڑے سے بڑا دشمن بھی نہ دے سکا یعنی سیدنا عثمانؓ کو انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ سیدنا علیؓ سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کو قتل کرا دو اس قدر عظیم بہتان آج تک میری نظروں سے کیسی مکتبہ فکر کی کتاب میں نہیں گزار بہرحال دعویٰ تو نہیں لیکن اپنے مطالعہ کی بنا پر یہ کہ رہا ہوں میں نے اگلے پچھلے شعیوں کے تمام اعتراضات کا تفصیلی مطالعہ کر کے ان کے جوابات لکھے جو تقریباً ستر مجلدات پر مشتمل ہیں یہ اعتراض آج تک کسی رافضی کو بھی نہیں سوجھا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رافضیوں سے بھی وحید الزمان بڑا رافضی ہے وحید الزمان اور اس کے چیلے چانٹوں کو میں چیلنج کرتا ہوں پر کسی ایک صحیح سند روایت کے ساتھ اس الزام کو ثابت کر دکھائیں اور ایک لاکھ انعام پائیں اگرچہ اس عبارت سے وحید الزمان کے چیلوں کو بہت تکلیف ہو گی لیکن میں انہیں خدا اور سولﷺ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جبکہ تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم قرآن و حدیث کو ہی مانتے ہیں اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عادل سمجھتے ہیں تو پھر وحید الزمان کی پیروی میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنوں میں کیوں داخل ہو رہے ہیں؟ اگر کوئی مسند صحیح روایت لی جائے تو بےشک رافضیوں میں شامل ہو جائیں اور اگر نہ مل سکے تو کم از کم اتنا تو تسلیم کریں کہ وحید الزمان کا مذکورہ عقیدہ اہلِ سنت کا عقیدہ نہیں ہے پھر لکھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے حضورﷺ کی نہ کوئی خدمت کی نہ مہاجر تھے نہ انصار اور نہ ہی کوئی خوبی ان میں تھی وحید الزمان کو یہ بھی نظر نہ آیا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کاتبانِ وحی میں سے ہیں یہ خوبی نہیں ہے؟

میری کتاب دشمنان سیدنا امیر معاویہؓ کا علمی محاسبہ میں آپ پڑھیں گئے کہ حضورﷺ نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مختلف دعائیں مانگیں ان کے ہاری اور مہدی ہونے کو دعا فرمائی انہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا بہت بڑا امین کہا جاتا تھا کیا یہ خوبیاں نہیں ہیں لیکن تعصب و رفض کا پردہ اٹھا کر دیکھا جاتا تو یہ خوبیاں روز روشن کی طرح نظر آتیں آخر میں جو وحید الزمان نے سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق اچھے اچھے الفاظ مثلاً حضرت امیر المومنینؓ لکھنے کو بہت بڑی دلیری کہا ہے یعنی خدا اور اس کے رسولﷺ سے مقابلہ کرنا ہے یہ عبارت اور عقیدہ بھی وحید الزمان کے کٹر شیعہ ہونے کا ثبوت ہے اہلِ سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں عنقریب اہلِ سنت کا عقیدہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے سیدنا امیر معاویہؓ کے صحابی ہونے میں کسی کو بھی شک نہیں یہ اگرچہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے دونوں فریق (فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے اور اس دن یا اس کے بعد ایمان لانے والے) کے ساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے برابر نہیں وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل ایمان قبول کیا اور اللہ کے راستہ میں خرچ کیا یہ لوگ ان لوگوں سے مرتبہ میں بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے؟ 

 (سورہ حدید: آیت 10)

سیدنا امیر معاویہؓ نے قبول ایمان کے بعد بہت سے معرکوں میں شرکت فرمائی اسلام کو پھیلایا غریبوں کی خدمت کی کیا مذکورہ آیت کریمہ کے مطابق سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں بھلائی کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یا نہیں؟ اگر ان پر وعدہ صادق آتا ہے تو پھر ان کے حق میں اور ان کے اسم گرامی کے ساتھ حضرت رضی اللہ عنہ وغیرہ الفاظ لکھنے دراصل وعدہ خداوندی کا مظہر ہے اور اسے "بہت بڑی دلیری کہنا خود بہت بڑی دلیری ہے جو کم از کم ایک مسلمان سے متوقع نہیں ہو سکتی اب ہم ایک عبارت ذیل میں درج کر رہے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اہلِ سنت کے عقیدہ کی ترجمان ہے۔

صفحہ 2 از 4