عصر حاضر کی فکری اساس کیا ہے؟ نئی نسل کو سب سے بڑے کس فتنے…

عصر حاضر کی فکری اساس کیا ہے؟ نئی نسل کو سب سے بڑے کس فتنے سے خطرہ ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

 آج کی فکری اساس کو تبدیل کرنے کے لیے عالم اسلام کے ہر مفکر اور مجتہد کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ لادینیت کا چنگھاڑتا ہوا دیو ہماری تہذیب اور کلچر پر پنجے گاڑ چکا ہے۔ مذہب سے بغاوت اور دین سے دوری میں اسلام کے کئی لال و گہر چھین لیے ہیں۔ مسلمانوں کی فکری اساس صرف معاشی ترقی کی بجائے اخروی کامیابی اور دنیاوی تعمیر کے اسلامی اصولوں کی آئینہ دار ہونی چاہیے۔ یہ اساس کیسے تبدیل ہوگی۔۔۔؟ یا نئ بنیاد کیوں کر استوار ہوگی۔۔۔؟ نیا ڈھانچہ کس زاویے سے تیار ہوگا۔۔۔؟ اس کے لیے غیر اسلامی افکار کا ہر سوتا بند کرنا ہوگا۔ لادینی نظریات کے ہر دریچے پر قفل لگانا ہوگا۔ مسلمانوں کو منافق یا تقیہ باز بننے کے بجائے سچا اور کھرا مسلمان بننا ہوگا۔ مسلمان کہلا کر کفر کے ارتکاب اور اسلام کا حامل ہو کر لادینیت کے فروغ کا فریب ہر سطح پر بند کرنا ضروری ہے۔ 

مسلمانوں کی فطری اساس مادیت کے طوفانوں میں باقی رہ سکتی تھی۔ لیکن کیوں کر اقوام عالم کی خامہ فرسائیوں اور ظلمت دہر کے تھپیڑوں میں بھی اس کر فروزاں کیا جا سکتا ہے۔ مگر کیسے۔۔۔؟ جدید ترقی اور خالص دہریت زدہ سوچ کی موجودگی میں بھی یہ چراغ روشنی دے سکتا ہے مگر کس سبب سے۔۔۔؟ ہاں اگر امت مسلمہ قرآن و حدیث کے متن کی تفہیم میں پہلے ہی عہد کو کسوٹی بناتی، قرآن کے اولین مخاطبین کے طرز زندگی کو حرز جاں قرار دیتی، صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین، خلفائے راشدینؓ، اور اہلِ بیت عظامؓ، سے فہم قرآن و سنت کے لیے یوزہ گری کرتی۔۔۔ جاہلیت جدیدہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے جاہلیت قدیمہ سے ہم کلام ہونے والوں سے رہنمائی حاصل کرتی، ہر قانون کی یادداشت، ہر ضابطے کی عملی تصویر، ہر مشک کا پریکٹیکلی نمونہ، ہر متن کی اصلی تعبیر، ہر جمال کی حقیقی تفصیل، ہر نقطے کا اصلی حل، اسی آئینے سے حاصل کرتں جس نے آفتاب نبوت کی تابش ضیا سے براہ راست لمعہ افروزی کی تھی۔ محمدی چراغ کی روشنی سے احاطہ عالم کو منور کیا تھا۔ خدا اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے نور سے صحن چمن کو جگمگ کیا تھا۔ بنجر قلوب کو فطری اصولوں کی روشنی سے راحت زا بنایا تھا۔ انسانوں کی فکری "اساس" کو مادیت و مغربیت اور دہریت و لادینیت سے محفوظ رکھنے کے لیے محمدی رفقاء (صحابہ کرامؓ) کی عالمگیر اور آفاقی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔

 اہلِ سنت والجماعت ایک طرف انسانوں کی فکری "اساس" کے اس حقیقی مرکز کو ہر قوم اور ملک کے سامنے متعارف کرا رہی ہے۔ دوسری طرف اس اساس کو منہدم اور مضمحل کرنے والے اسباب و علل کو مٹانا چاہتی ہے۔ فکری تباہی کے گرداب میں جان بلب دنیا کا ہر مسلمان اسلام کا دامن تھام کر ہی زلالتوں کے طوفان سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ لیکن دامن اسلام کو تھامنے اور قرآن و سنت سے سچی رہنمائی کے لیے ذاتی خیال اور رائے کی بجائے فہم اسلام کے لیے (صحابہ کرامؓ) پہلے لوگوں ہی کو وجدان، ادراک و معیار بنایا جائے۔

 اس طرح ایک طرف کم مائیگی کی گمراہی سے ہر شخص محفوظ ہوگا دوسری طرف قرآن و سنت کے حقیقی حکم کی بجا آوری بھی ہو سکے گی۔

1: فان آمنوا بمثل مآ امنتم به فقدا هتدوا (القرآن)

 ترجمہ:"اگر وہ صحابہ کرامؓ کی طرح ایمان لائیں تو ان کا ایمان معتبر ہے ورنہ گمراہی ہے"

2:(عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين) (الحديث)

 ترجمہ: "تم پر میری اور میرے خلفاء کی سنت کا پکڑنا لازم ہے"

3: (اصحابى كاالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم) (الحديث)

 ترجمہ: "میرے صحابہؓ ستاروں کی طرح ہیں جس کے پیچھے چلو گے کامیاب ہو جاؤ گے"


صفحہ 2 از 2