عالم یا طالب علم کے کسی بستی سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ اس…

عالم یا طالب علم کے کسی بستی سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن تک کے لئے عذاب اٹھا لیتا ہے۔(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 2 از 3
جلیل القدر ائمہ محدثین کا کلام اس روایت کے تحت: 
1: امام الفقہاء والمحدثین امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس کو من گھڑت قرار دیا چنانچہ فرماتے ہیں:
أخرجه الثعلبی فی تفسيره وهو موضوع قال الشيخ ولی الدين العراقی فی سنده أحمد بن عبد الله الجويباری ومأمون بن أحمد الهروی كذابان وهو من وضع أحدهما۔
ترجمہ: اس روایت کو امام ثعلبیؒ نے اپنی تفسیر میں نقل کیا اور یہ موضوع ہے امام شیخ ولی الدین عراقی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی سند میں احمد بن عبداللہ الجویباری اور مامون بن احمد الھروی ہیں اور یہ دونوں کذاب ہیں اور اس روایت کو ان دونوں میں سے کسی ایک نے گڑھا ہے۔
(كتاب نواهد الأبكار وشوارد الأفكار: جلد، 1 صفحہ، 253)
2: علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ نے بھی اس کو موضوع قرار دیا:
أخرجه الثعلبی فی تفسيره وهو موضوع۔
(كتاب الفتح السماوی: جلد، 1 صفحہ، 119)
جیسا کہ امام ولی الدین عراقی نے اس روایت کے موضوع من گھڑت ہونے کی وجہ بتا دی کہ اس کی سند میں دو کذاب احادیث گھڑنے والے راوی ہیں۔
1: أحمد بن عبد الله الجويباری۔
یہ وہ لعنتی شخص ہے جس نے نبیﷺ پر ایک ہزار سے زائد احادیث کو گڑھا ہے۔
امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے کہا جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ گھڑنے میں اس کی مثال دی جاتی ہے۔(ميزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 107)
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا اس نے نبیﷺ پر ایک ہزار سے زیادہ احادیث گڑھی ہیں۔
(لسان الميزان: جلد، 1 صفحہ، 194)
امام ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہﷺ پر جھوٹ گڑھتا ہے اس کی روایت ترک کر دی جائیں اور یہ ان میں سے ایک ہے جو روایات گڑھتے ہیں۔
(المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبی نعيم الأصفہانی: جلد، 1 صفحہ، 60)
امام دارقطنی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ جھوٹا ہے دجال ہے خبیث ہے یہ حدیث گڑھنے والا ہے اس کی روایت نہ لکھی جائے اور نہ انہیں بیان کیا جائے۔
(موسوعة أقوال الدارقطنی: صفحہ، 69)
امام ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ صاحب مستدرک امام حاکم رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ خبیث اور کذاب ہے اس نے کثیر روایات کو فضائل اعمال میں گڑھا ہے۔
(لسان المیزان: جلد، 1 صفحہ، 194)
امام ابو حاتم بن حبان رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ دجال ہے اس کا ذکر کتابوں میں نہ کیا جائے۔
(المجروحين لابنِ حبان: جلد، 1 صفحہ، 154)
خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ان مشہور راویوں میں سے ایک ہے جو احادیث گھڑتے ہیں۔
(الزيادات على الموضوعات: جلد، 1 صفحہ، 124)
امام نسائیؒ اور ابو الحسن بن سفیان اور امام ابنِ عدیؒ نے اسے جھوٹا اور روایات گھڑنے والا کہا۔
(لسان الميزان: جلد، 1 صفحہ، 193)
(ميزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 106)
2: مأمون بن أحمد الهروی۔
یہ شخص بھی دجال احادیث گھڑنے والا ہے۔
امام ابنِ حبان رحمہ اللہ نے اس کے حوالے سے فرمایا کہ یہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے اور یہ ایسے لوگوں سے روایت کرتا ہے جنہیں اس نے دیکھا تک نہیں اور یہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا ہے۔
(كتاب المجروحين لابنِ حبان ت حمدی: جلد، 2 صفحہ، 383)
امام ابن الجوزیؒ نے فرمایا کہ نہ ہی اس کا کوئی دین ہے اور نہ ہی اس میں کوئی خیر والی بات ہے بلکہ یہ احادیث گھڑنے والا ہے۔
(كتاب الموضوعات لابن الجوزی: جلد، 2 صفحہ، 48)
حجۃ اللہ فی الارضین شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کذاب راویوں میں سے ایک ہے۔
(كتاب الدراية فی تخريج أحاديث الهداية: جلد، 1 صفحہ، 152)
امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا راوی ہے۔
(كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة: جلد، 1 صفحہ، 98)
امام ابن حجر عسقلانیؒ نقل کرتے ہیں کہ امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوریؒ نے اس کی مرویات کو نقل کر کے فرمایا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے زرہ برابر بھی علم سے نوازا ہے وہ اس کی مرویات کو دیکھ کر یہ گواہی دے گا کہ یہ نبیﷺ پر جھوٹ اور افتراء ہیں۔
(كتاب لسان الميزان: جلد، 5 صفحہ، 8)
اسی طرح امام ابو نعیم اصفہانیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا راوی ہے اور یہ ثقہ راویوں سے جھوٹی روایات بیان کرتا ہے۔
(كتاب لسان الميزان: جلد، 5 صفحہ، 8)
امام شمس الدین ذہبیؒ نے اس کو کذاب قرار دیا۔
(كتاب تنقيح التحقيق للذهبی: جلد، 1 صفحہ، 137)
امام ابو عبد اللہ الجوزقانیؒ نے اس کو کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا قرار دیا۔
(كتاب الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير: جلد، 1 صفحہ، 445)
امام ابنِ قیسرانیؒ نے اس کو دجال احادیث گھڑنے والا قرار دیا۔
(كتاب معرفة التذكرة: صفحہ، 214)
اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تفسیر ثعلبی کی روایت بھی بلاشک و شبہ موضوع من گھڑت ہے اس کی نسبت بھی نبیﷺ کی طرف کرنا حرام ہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ اس روایت کا ایک شاہد کا ذکر کرتے ہیں الكاف الشاف فی تخريج أحاديث الكشاف: صفحہ، 3 پر جو کہ مسند الدارمی میں ضعیف سند سے منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رِفْدَةُ الْغَسَّانِی حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ الْأَنْصَارِی قَالَ كَانَ يُقَالُ: إِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ الْعَذَابَ بِأَهْلِ الْأَرْضِ فَإِذَا سَمِعَ تَعْلِيمَ الصِّبْيَانِ الْحِكْمَةَ صَرَفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ قَالَ مَرْوَانُ: يَعْنِی بِالْحِكْمَۃ الْقُرْآنَ۔
(كتاب مسند الدارمی ت حسين أسد: 3388 إسناده ضعيف لضعف رفدة بن قضاعة وهو موقوف على ثابث)
(كتاب مسند الشاميين للطبرانی: جلد، 3 صفحہ، 293 ھو ضعيف أيضاً كما ذكر السابق)
ثابت بن عجلان انصاریؒ نے کہا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ زمین کو عذاب کا ارادہ کرتا ہے لیکن جب بچوں کو حکمت کی تعلیم لیتے سنتا ہے تو ارادہ بدل دیتا ہے مروان نے کہا حکمت سے مراد قرآن کی تعلیم ہے۔
صفحہ 2 از 3