حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایت…

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس واقعہ میں پرہیزگاروں اور اللہ کے مقرب بندوں کے لیے اس کی مدد و معیت کی ایک نادر مثال موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے خلاف حضرت سعدؓ کی دعا قبول فرمائی اور ان سب کو بددعا کے برے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ بے شک حضرت سعدؓ جیسے لوگوں کی دعا کی قبولیت اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ نیکوکار اور پرہیزگار لوگوں پر اللہ کی خاص عنایت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے منکرین، اسلام کے اس پوشیدہ و مؤثر ہتھیار سے بہت خوف کھاتے ہیں اور تمام تر دنیاوی و مادی اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود اس کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور نہ اسے روک پاتے ہیں۔ جن لوگوں کے خلاف حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے بددعا کی تھی ان کی بری موت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دل شر و فساد اور نفس پرستی کی آماجگاہ تھے اور اسی چیز نے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا۔

اس موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے اپنی طرف سے دفاع کیا تھا اور کہا تھا: ’’میں پہلا شخص ہوں جس نے مشرکوں سے لڑتے ہوئے کسی مشرک کا خون بہایا اور رسول اللہﷺ نے میرے نام کے ساتھ اپنے ماں باپ کو ذکر کیا، مجھ سے پہلے کسی کو یہ سعادت نہ ملی چنانچہ آپؓ نے غزوۂ احد کے موقع پر کہا تھا: 

فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ۔ 

ترجمہ: ’’تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔‘‘ 

میں اسلام لانے والا پانچواں فرد ہوں۔ بنو اسد کے لوگ کہتے ہیں کہ میں انہیں اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتا ہوں اور شکار میں مشغول رہتا ہوں۔

بہرحال محمد بن مسلمہؓ ان لوگوں کے ساتھ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو بھی لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور پوری تحقیق سے آپؓ کو آگاہ کیا۔ آپؓ نے فرمایا: اے سعد! تم نماز کیسی پڑھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: پہلے کی دو رکعتیں لمبی اور آخر کی دونوں مختصر کرتا ہوں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: تمہارے بارے میں میرا ایسا ہی گمان ہے۔ پھر فرمایا: اگر احتیاط کا تقاضا نہ ہوتا تو ان شر پسندوں کا راستہ بالکل واضح تھا۔ پھر پوچھا: اے سعد! تم کوفہ پر کس کو اپنا جانشین بنا کر آئے ہو؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان کو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے عبداللہ ہی کو وہاں کا مستقل گورنر نامزد کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 104) اس واقعہ میں حضرت عمرؓ کے قول ’’اگر احتیاط کا تقاضا نہ ہوتا تو ان شر پسندوں کا راستہ واضح تھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی شکایات کی حقیقت واضح ہو گئی، وہ ظالم اور جاہل ہیں اور پھر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ حضرت سعدؓ ان شکایات سے بے داغ اور بری ہیں، تاہم امت مسلمہ کی مصلحت اس بات کی متقاضی ہے کہ فتنوں کے وجود میں آنے اور پر پرزے نکالنے سے قبل ہی انہیں دبا دیا جائے تاکہ اختلاف و انتشار اور قتل و خونریزی کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ مدعی علیہ یعنی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تہمت سے بری تھے اس لیے ان کی ثقاہت و عظمت میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گورنری اور کسی بھی ذمہ داری کو اپنے لیے غنیمت نہیں بلکہ بارگراں سمجھتے تھے اور مکلف کیے جانے پر اسے ایسا فریضہ سمجھتے تھے جس سے اللہ کی رضا مندی حاصل کر سکیں گویا مسلمانوں کے کسی معاملہ کی ذمہ داری اللہ کے پرہیزگار بندوں کے لیے عمل صالح کی بجا آوری اور آخرت سنوارنے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر یہ مناصب و ذمہ داریاں باعث فتنہ ہو جائیں تو حکمت کا تقاضا ہے کہ اس سے کنارہ کشی کر لی جائے، جیسا کہ ہم اس واقعہ میں دیکھ رہے ہیں اور چونکہ ہر ناگہانی واقعہ سابقہ روایات میں تبدیلی کا ایک رخ متعین کرتا ہے اس لیے حضرت عمرؓ نے بھی یہی کچھ کیا کہ جب حضرت سعدؓ پر کچھ لوگوں نے انگلی اٹھائی تو حضرت عمرؓ نے آپؓ کو اس منصب سے ہٹا دیا اور آپؓ کے نائب اور قابل اعتماد فرد عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان کو وہاں کا گورنر بنا دیا۔

(التاریخ الإسلامی: الحمیدی: جلد 11 صفحہ 222) پھر حضرت سعدؓ کو آپؓ نے مدینہ میں باقی رکھا اور انہیں اپنے مشیروں میں شامل کر لیا

(دور الحجاز فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 257) اور جب آپؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا کہ جس سے پھر جانبر نہ ہو سکے تو جن چھ افراد کو خلافت کے لیے نامزد کیا ان میں حضرت سعدؓ کو بھی شامل کیا اور اپنے بعد نامزد ہونے والے خلیفہ کو وصیت کر گئے کہ سعد کو کہیں کا گورنر ضرور بنا دیں گے کیونکہ ان میں کسی برائی کی وجہ سے میں نے ان کو معزول نہیں کیا تھا بلکہ مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں وہ شرپسند عناصر کی برائی کا نشانہ نہ بن جائیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 225)


صفحہ 2 از 2