حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایت…

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جراح بن سنان اسدی کی قیادت میں کوفہ کے کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اپنے امیر سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کی۔ واضح رہے کہ یہ ایسے نازک وقت کا واقعہ ہے کہ جب نہاوند میں مجوسیوں کا فوجی لشکر مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کے لیے زور شور سے تیاریاں شروع کر رہا تھا اور شکایت کرنے والے گروہ کو مسلمانوں پر دشمن کے ناگہانی حملہ آور ہونے کی کوئی فکر نہ تھی، حالانکہ حضرت سعدؓ اپنی رعایا کے لیے نہایت مہربان اور عدل پرور ثابت ہوئے تھے۔ باطل پسندوں اور فرقہ بندی کرنے والوں کے خلاف سخت تھے اور حق پرستوں اور اطاعت شعاروں کے لیے نرم تھے۔ اس کے باوجود جو لوگ برحق فیصلہ کے سامنے خود کو جھکانا نہیں چاہتے تھے اور من مانی زندگی گزارنا چاہتے تھے انہوں نے آپؓ کے خلاف ہنگامہ آرائی کی اور امیر المؤمنین سے شکایت کے لیے ایسا وقت منتخب کیا جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ امیر المؤمنین ہماری شکایت پر زیادہ توجہ دیں گے، وہ نازک وقت یہی تھا کہ مسلمان عنقریب شروع ہونے والی جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے اور وقت کا تقاضا تھا کہ وہ متحد رہیں اور ان کی اتحادی قوت دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے لیے کام آئے۔ واضح رہے کہ اس شر پسند گروہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت عمرؓ ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کو ہر چیز پر فوقیت دیتے تھے بالخصوص پیش نظر جنگی حالات میں۔ بہرحال شرپسند گروہ کو یہ امید تھی کہ موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ دوسری طرف حضرت عمرؓ نے بھی ان کی شکایت کو قبول کیا اور کہا کہ اس کی تحقیق کی جائے گی۔ حالانکہ آپؓ بخوبی واقف تھے کہ یہ لوگ فتنہ انگیز و شر پسند ہیں اور من مانی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپؓ نے ان کے بارے میں اپنی رائے پوشیدہ نہیں رکھی اور اسے کھلے لفظوں میں کہہ دیا ’’مجھے غالب گمان ہے کہ تم لوگ گورنر پر ظلم کر رہے ہو اور حقائق چھپا رہے ہو پھر بھی آپؓ لوگوں کی شکایت کی تحقیق کی جائے گی۔‘‘ آپؓ نے شکایت کے لیے ایسے نازک وقت کے انتخاب کو دیکھ کر ہی سمجھ لیا تھا کہ ان کی نیت بری ہے۔ ان سے کہا:

’’تمہارے برے ارادے کی دلیل یہی ہے کہ تم ایسے وقت میں یہ معاملہ پیش کر رہے ہو جب دشمنوں اور مسلمانوں کی جنگی تیاریاں انتہائی عروج پر ہیں، تاہم اللہ کی قسم تمہارے معاملے کی تحقیق سے کوئی چیز میرے لیے مانع نہیں ہو سکتی اگرچہ دشمن تم پر حملہ آور ہی کیوں نہ ہو جائے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 103) چنانچہ ایک طرف مسلمان ایرانیوں سے محاذ آرائی کے لیے تیاریاں کر رہے تھے ، عجمی بھی اپنا لشکر اکٹھا کر رہے تھے اور دوسری طرف حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہؓ کو جو افسران کے خلاف آنے والی شکایات کی تحقیق کرتے تھے معاملہ کی تحقیق کے لیے بھیجا۔ محمد بن مسلمہؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس پہنچے تاکہ اہل کوفہ سے ان کے خلاف شکایت کی حقیقت معلوم کریں۔ یہ ایسا وقت تھا کہ نہاوند کی جنگ میں شرکت کے لیے مختلف شہروں میں مجاہدین کے دستے تقسیم کیے جا رہے تھے۔ محمد بن مسلمہؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو لے کر کوفہ کی مسجدوں میں جاتے اور علی الاعلان ان کے بارے میں لوگوں سے تحقیق کرتے۔ ان کے خلاف شکایات کی تحقیق خفیہ طریقہ سے نہیں کرتے تھے اور ایسا کرتے کیوں؟ اس دور میں یہ ان کی شان کے خلاف تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 103) اس طرز تحقیق سے ہمارے سامنے صحابہ کرامؓ کا یہ منہج سامنے آتا ہے کہ ذمہ داروں اور ان کے ماتحت عملہ کے درمیان اگر کوئی اختلاف اور رنجش ہوتی تو وہ کس طرح اس کی تحقیق کرتے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تحقیق علی الاعلان ہوتی تھی۔ ذمہ دار بھی موجود ہوتا اور اس کا ماتحت عملہ بھی۔ بہرحال محمد بن مسلمہؓ جس مسجد میں بھی جاتے وہاں کے لوگوں سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے اور ان سب کا یہی جواب ہوتا کہ ’’ہم ان کے بارے میں خیر ہی جانتے ہیں، ان کی جگہ پر ہم دوسرا امیر نہیں چاہتے، ان کے خلاف ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہم کسی شکایت کی تائید کرتے ہیں۔‘‘ صرف وہ لوگ جنہیں جراح بن سنان اور اس کے ساتھیوں نے بہکا رکھا تھا وہ لوگ حضرت سعدؓ کی طرف کسی برائی کو منسوب تو نہ کرتے البتہ خاموش رہتے اور قصداً کوئی تعریف نہ کرتے۔ جب یہ تحقیقی ٹیم بنو عبس تک پہنچی تو محمد بن مسلمہؓ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں اگر تم میں سے کوئی آدمی شکایت کی حقیقت جانتا ہو تو وہ بتا دے چنانچہ حضرت اسامہ بن قتادہؓ نے کہا: اگر آپ نے ہمیں اللہ کا واسطہ دیا ہے تو ہم بتاتے ہیں، سنیے، یہ عطیات و غنائم کو برابر تقسیم نہیں کرتے، رعایا میں عدل و انصاف نہیں کرتے اور غزوات میں شریک نہیں ہوتے۔ اس وقت حضرت سعدؓ نے کہا: اے اللہ! اگر اس کی بات جھوٹ ہے اور یہ شہرت و مکاری کے لیے یہ بات کہہ رہا ہے تو اس کی آنکھیں بے نور کر دے، بچوں کی کثرت کر دے اور اسے فتنوں میں مبتلا کر دے۔‘‘ پھر نتیجہ یہی ہوا کہ وہ اندھا ہو گیا اور اس کے دس بیٹیاں پیدا ہوئیں کسی عورت کے بارے میں سنتا تو غلط نیت سے اسے قبضہ میں کرنا چاہتا اور جب پکڑا جاتا تو کہتا: ’’یہ سعد جیسے نیک و با برکت آدمی کی بددعا کا نتیجہ ہے۔‘‘ پھر حضرت سعدؓ نے پورے فتنہ پرور گروہ کے لیے یہ بددعا کی: ’’اے اللہ! اگر یہ لوگ غرور، شر و فساد اور جھوٹا علم لے کر نکلے ہیں تو انہیں سخت آزمائش میں ڈال دے۔‘‘ چنانچہ وہ سب سخت آزمائش سے دوچار ہوئے۔ جس دن حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر بلاس آباد میں ’’جراح‘‘ نے جان لیوا حملہ کیا تو تلواروں سے اس کے جسم کے ٹکڑے ہو گئے۔ ’’قبیصہ‘‘ پتھروں سے مارا گیا، اور ’’اربد‘‘ تلوار کی پشت سے مار مار کر ہلاک کیا گیا۔

صفحہ 1 از 2