کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی - ردِ…

کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی

  محمد علی

صفحہ 4 از 4

ترجمہ:  ابوشامہ مقدسی نے کہا ایک محمد بن یوسف گنجی 29 رمضان کو دمشق کی جامع مسجد میں قتل کیا گیا یہ فقہ اور حدیث کا عالم تھا لیکن اس میں منطق کا غلبہ تھا اور رافضی مذہب کی طرف میلان تھا ان کی اعراض کے پیش نظر ان کے لیے اس نے کتابیں لکھی اور تصنیفات کے ذریعے رافضی ستاروں کا تقرب حاصل کیا جن میں اسلامی اور تاتاری دونوں طرح کے سردار تھے پھر الشمس القمی نے اس کی مؤافقت کی کہ دونوں مل کر غائب لوگوں کے اموال ان کے سپرد کریں ان پر ان لوگوں نے شور مچایا جنہیں اس سے تکلیف ہوئی تھی نماز صبح کے بعد اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا اس کا پیٹ چاک کیا گیا اسی طرح اس کے ساتھی دوسرے ظالموں اور مددگاروں کو کیا گیا جیسا کہ شمس بن ماسکینی اور ابن بخیل جو گھوڑوں کی تربیت کا ماہر تھا پھر اس مصنف کا تذکرہ مخة الینونینی نے کیا ہے کہ جو اس کا ہم عصر تھا اس نے کہا کہ جب مظفر کا خط 28 رمضان کو دمشق میں پہنچا جس سے دشمنوں کے تباہ ہونے کی خوشخبری تھی اس خط میں اس نے وعدہ کیا کہ وہ وہاں پہنچے گا اور عدل کرے گا لہٰذا عوام نے دمشق پر حملہ کر دیا اور جامع دمشق میں محمد بن یوسف گنجی کو قتل کر دیا محمد بن یوسف گنجی اہلِ علم سے تھا لیکن اس کی ضمیر میں شرارت تھی اس کا مذہب شیعہ کی طرف میلان تھا اس کے ساتھ ساتھ اسے شمس قمی کی ہم نشینی حاصل تھی جو دمشق میں ہلاکو خان کی طرف سے غائب لوگوں کے اموال پکڑنے پر شریک تھا لہٰذا وہ بھی وہاں قتل ہو گیا اور یونینی نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس نے اپنی کتاب میں ایک جگہ پر اس کا ذکر کیا لکھا ہے کہ محمد بن یوسف گنجی ادیب اور فاضل آدمی تھا اور نظم بخوبی کہتا تھا وہ جامعہ دمشق میں قتل کیا گیا کیونکہ تاتاری نواب کے ساتھ یہاں آیا تھا ابنِ کثیر نے اپنی تاریخ میں اس کا ذکر ان الفاظ سے کیا ہے کہ اس کو عام اہلِ سنت نے جام دمشق میں قتل کیا یہ رافضی شیخ تھا تاتاریوں کے لیے لوگوں کے مال لوٹا کرتا تھا یہ خبیث ضمیر اور لوگوں کا مال جمع کرنے والا تھا اللہ نے اسے ذلیل کیا اس کو منافقین کی طرح لوگوں نے قتل کیا ابنِ تعزی نے فخر کرتے ہوئے اس کے گھٹیا فعل کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے قتل پر اہلِ دمشق نے بہت خوشیاں منائی اسے جامع دمشق میں قتل کیا گیا یہ اہلِ علم میں سے تھا لیکن طبعاً شرارتی تھا اور ذلیل قسم کا راوی تھا اس کا جوڑ توڑ تاتاریوں کے ساتھ تھا۔ 

 حرفِ آخر: کفایة الطالب کے مقدمہ میں چار معتبر کتب کے مصنفین نے محمد بن یوسف گنجی کو بدمذہب گمراہ اور ذلیل شیعہ کہا ہے یہ ہلاکو خان کا ساتھی تھا جس نے بغداد کے اہلِ سنت کے ساتھ بہت مظالم ڈھائے اس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے اس کا شمس قمی نام شیعی سے گہرا تعلق تھا رافضی سرداروں کو خوش کرنے کے لیے کتابیں لکھنا اس کا مشغلہ تھا اہلِ سنت کے مال کو لوٹنا جائز قرار دینے والا تھا یہی وجہ ہے کہ بعد یہ آیت نقل کی ہے کہ صاحب البدایہ و نہایہ نے اس کے حالات کے بعد یہ آیت نقل فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمدللہ رب العالمین ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں ان حوالہ جات اور مصنف کی اپنی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن یوسف گنجی شیعہ تھا اس نے اسی مذہب کی اشاعت کی لہٰذا اس سے اہلِ سنت کا عالم اور اس کی کتاب کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہنا بہت بڑا دھوکہ ہے غلام حسین نخفی وغیرہ شیعہ مصنف نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر اس سے اہلِ سنت میں لا کھڑا کیا ورنہ حقیقت حال وہی ہے جو گزشتہ صفحات میں آپ ملاحظہ کر چکے ہیں۔

نوٹ: کتاب کفایة الطالب کے بیرونی صفحہ ٹائٹل پر اس کے مصنف کا تذکرہ ان الفاظ سے کیا گیا ہے ابی عبداللہ محمد بن یوسف بن محمد القرشی الکنجی الشافعی اس آخری لفظ الشافی کو محض دھوکہ دینے کے لیے لکھا گیا اگر یہ واقعی شافی اہلِ سنت ہوتا تو پھر اس کتاب میں اہلِ تشیع کے عقائد مذمومہ کی تردید ہوتی اور پھر مطبوعہ حیدریہ نجف اس کے چھاپنے کی جرأت نہ کرتا۔

 فاعتبروا یا اولی الابصار


صفحہ 4 از 4