المستدرک للحاکم مصنفہ محمد بن عبد الله حاکم نیشاپوری - ردِ…

المستدرک للحاکم مصنفہ محمد بن عبد الله حاکم نیشاپوری

  محمد علی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: حاکم نیشاپوری ابو عبد الله محمد بن عبد الله معروف ابنِ بیع یہ بہت بڑے شیعیوں میں سے ہے اور ان کی شریعت کے ستون ہیں ابنِ بیع کا میلان شیعیت کی طرف تھا۔ شیعہ سنی دونوں اس کے تشیع کی تصریح کرتے ہیں ذہبی نے ابن طاہر سے بیان کیا کہ میں نے ابو اسماعیلی انصاری سے حاکم کے متعلق پوچھا کہنے لگے حدیث میں ثقہ ہے اور خبیث رافضی ہے پھر ابنِ طاہر نے کہا باطنی طور پر متعصب شیعہ تھا اور خلافت و تقدیم میں سنی ہونا ظاہر کرتا تھا۔ معاویہ اور ان کی آل سے منحرف تھا اور یہ بات اس کی اعلانیہ تھی اس کا کوئی عذر اس کی طرف سے نہیں کیا گیا ذہبی کہتے ہیں اس کا انحراف جنگ صفین سے وہ تو ظاہر ہے رہا معاملہ شیخین کا تو وہ ان دونوں کی ہر حال میں تعظیم کرتا تھا لہٰذا وہ شیعی ہے رافضی نہیں کاش کہ وہ مستدرک نہ لکھتا کیونکہ اس میں اس نے ان کے فضائل سے روگردانی کی ہے اور بےجا تصرف کیا ہے ابنِ شہر آشوب نے معالم العماء میں اس کا ذکر کیا اور صاحب الریاض نے قسم اول میں اس کا تذکرہ کیا جہاں اس نے شیعہ علماء کی تعداد بیان کی ہے یہی ان سے منقول ہے۔

لسان المیزان:( محمد) بن عبد الله ابضی النيسابوري الحاكم ابو عبد الله الحافظ صاحب التصانيف. إِمَامٌ صُدُوقٌ وَلَكِنَّهُ يُصِحَ فِي مُسْتَدْرَكِهِ أَحَادِيثَ سَاقِطَةً فَيَكْثُرُ مِنْ ذَالِكَ فَمَا أَدْرِي هَلْ خَفِيَتْ عَلَيْهِ فَمَا هُوَ مِمَّنْ يَجْهَلُ ذَالِكَ وَإِنْ عَلِمَ فَهُو خِيَانَةٌ عَظِيمَةٌ ثم هُوَ شِيعي مَشْهُورُ بِذَالِكَ مِنْ غَيْرِ تُعَرِّضِ لِلشَّيْخَينِ وَقَدْ قَالَ ابو طاهر سالت ابا اسماعیل عبد الله الانصارى عَنِ الْحَاكِمِ الى عبد الله فَقَالَ إمَام فِي الْحَدِيثِ رَافِضِي خَبِيث قُلْتُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْإِنْصَافَ مَا الرَّجُلِ بِرَافِضي بل شیعی فقط

(لسان الميزان: جلد 5 صفحہ 232 حرف الميم)

ترجمہ: محمد بن عبد الله حاکم نیشاپوری صاحب تصانیف کثیرہ امام صدوق ہے لیکن مستدرک میں اس نے گری پڑی احادیث کا بھی صحت کا خیال نہ کیا اور اُس نے کثرت سے کی ہے میں نہیں سمجھتا کہ ایسا اس نے جہالت اور ان احادیث سے بےخبری کی بنا پر کیا ہے لیکن ایسا ہو نہیں سکتا اور یا پھر یہ اس کی بہت بڑی خیانت ہے پھر وہ مشہور شیعی ہے ہاں شیخین کے درپے نہیں ہوتا تھا ابو طاہر نے کہا کہ میں نے ابو اسماعیل عبداللہ انصاری سے حاکم کے متعلق پوچھا تو کہنے لگے حدیث کا امام اور خبیث رافضی ہے۔ میں کہتا ہوں اللہ انصاف کو پسند کرتا ہے حاکم رافضی نہیں شیعہ تھا فقط

لمحہ فکریہ: حاکم صاحب المستدرک بالاتفاق شیعہ ہے اور اس کا اقرار دونوں مذاہب کی کتب میں موجود ہے جس کے چند حوالہ جات پیش خدمت کیے جا چکے ہیں ہاں اس کے رافضی ہونے کو بالاتفاق تسلیم نہیں کیا گیا جس کی وجہ رافضی کی تعریف ہے اگر رافضی وہ ہے جو شیخین کو غاصب کہے اور بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی کرے تو اس معنیٰ میں حاکم نیشا پوری رافضی نہیں کیونکہ شیخین کے بارے میں اس کے ظاہری خیالات درست ہیں اور اگر رافضی کی تعریف یہ کی جائے جو کہ سیدنا معاویہؓ پر لعن طعن کرے اور اس کے کچھ مسائل اہلِ سنت کے معتقدات کے خلاف ہوں تو اس معنیٰ میں حاکم رافضی ہے کیونکہ من جملہ مسائل و معتقدات اہلِ سنت میں سے ایک مسئلہ افضلیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ہے جسے حاکم تسلیم نہیں کرتا تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ حدیث کے امام بن کر بھی شیعیت سے نہیں بچ سکے اس لیے جس محدث پر شیعیت ٹپکتی ہو اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتے حاکم نے مستدرک میں جو حدیث طیر ذکر کی اور جس پر امام ذہبی نے فیہ التشیع لکھا وہ اہلِ سنت کے خلاف بطور حجت ہرگز تسلیم نہیں ہو سکتی

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارُ


صفحہ 2 از 2