شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج - ردِ رافضیت | دفاع…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 6

حضرت زینب کی گواہی: امیرالمومنین حضرت علیؓ کی صاحبزادی اہل کوفہ سے فرماتی ہیں:

”اے کوفہ والو! اے دھوکہ بازو! مکار اور دغابازو! تمھاری مثال اس بڑھیا کی سی ہے جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا مگر دوسرے ہی لمحہ اپنی محنت ضائع کردی، غرور و تکبر، جھوٹ اور مکاری کے سوا تمھارے اندر ہے ہی کیا تم میرے بھائی پر ماتم کرتے ہو؟ ہاں کرو خوب ماتم کرو خوب روؤ، ہنسنا تمھارے مقدر میں نہ ہو، تمھارے دامن پر داغ لگ چکا ہے، خاندان نبوت کا خون کب تک ارزاں سمجھتے رہو گے؟

(الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 20، 30)

حضرت فاطمہ صغریٰ کی گواہی:

”اے کوفہ والو! اے غدارو! اے مکارو! اے گھمنڈی انسانو! تمھاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم اہل بیت کو آزمائش میں ڈالا، اور تمہیں ہمارے ذریعہ آزمایا، ہم تو آزمائش میں کھرے اترے، مگر تم ہمارے ناشکرے نکلے، اور ہمیں جھٹلانے لگے، اور تم نے ہم سے جنگ وقتال کو جائز ٹھہرایا، ہمارے مال کو تم نے لوٹ لیا، اسی طرح کل ہمارے پیارے دادا کو بھی تم نے قتل کیا تھا۔

تمھاری تلواروں سے ہمارا خون اب بھی ٹپک رہا ہے۔ ہلاکت ہو تمھارے لیے خدا کی لعنت اور اس کے عذاب کا انتظار کرو جو تم پر آیا چاہتا ہے، وہ تھمارا شیرازہ منتشر کر کے تمہیں باہم دست و گریباں کردے گا، پھر قیامت کے دن وہ تمھیں دردناک عذاب سے دوچار کرے گا ان مظالم کی پاداش میں جو تم نے ہم پر کیے ہیں، سن لو! خدا کی لعنت ظلم کرنے والوں پر! اےکوفہ والو! تمہارا بیڑہ غرق ہو۔"

(الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 28)

حضرت عبداللہ بن عمر کی گواہی

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں: عراق والے مجھ سے مکھی مارنے کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں حالانکہ انہی لوگوں نے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی کے بیٹے کو قتل کیا ہے۔

(بخاری: 3753)

لیجیے یہ تھا سارا واقعہ کربلا پڑھیں اور شیئر کریں تاکہ شیعہ سے متاثر لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔

شعبہ بناتُ الصحابہؓ

زیرسرپرستی: ادارہ دارالتحقیق ودفاع الصحابہؓ


صفحہ 6 از 6