شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج - ردِ رافضیت | دفاع…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 6

حضرت حسینؓ کی شہادت: 10 محرم الحرام جمعہ کے دن حضرت حسینؓ نے فجر کی نماز ادا کی، آپؓ کے ساتھیوں میں بتیس سوار اور چالیس پیاده تھے، حضرت حسینؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور فوج کو مخاطب کر کے انہیں یاد دلانے لگے کہ وہ کون ہیں کس کے نواسے اور بیٹے ہیں، اور ان کی کیا حیثیت اور مقام ہے! وہ فرماتے تھے کہ لوگو! اپنے دل کو ٹٹولو اور اپنے ضمیر سے پوچھو، کیا مجھ جیسے شخص سے جنگ کرنا جبکہ میں تمھارے نبیﷺ کا نواسہ ہوں درست ہے؟ (البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 179)

شمر الجوشن کی فوج میں وہ کوفی بھی تھے جنھوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھے تھے اور آپ کو کوفہ آنے کی پرزور دعوت دی گئی، جب یہ  لشکر سامنے آیا تو حضرت حسینؓ نے انھیں پہچان لیا اور ان کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا:

"ويلكم يا أهل الكوفة أنسيتم كتبكم وعهودكم التي أعطيتموها و أشهدتم الله عليها، ويلكم أدعوتم ذرية أهل بيت نبیکم، وزعمتم أنكم تقتلون أنفسكم دونهم حتى اذا أتوكم سلمتموھم الی ابن زیاد من قسوھم من ماء الفرات، بئس ما خلفتم نبیکم فی ذریتہ ما لکم لاسقاکم اللہ یوم القیامۃ (ناسخ التواریخ: 335) 

اے اہل کوفہ! افسوس ہے تم پر کیا تم اپنے خطوط اور اپنے وعدوں کو بھول گئے، جو تم نے ہم سے کیے تھے، اور تم نے اس پر خدا کو گواہ بنایا تھا، حیف صد حیف! تم نے اپنے نبی کے اہل بیت کو بلایا اور یہ وعدہ کیا کہ ان کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دو گے، اور جب تمہارے وعدوں پر بھروسہ کر کے وہ تمہارے پاس آئے تو تم نے انھیں ابن زیاد کے حوالہ کر دیا، جس نے ان پر فرات کا پانی بند کر دیا تم نے اپنے نبی کی اولاد کے ساتھ نہایت ہی گھناؤنا برتاؤ کیا ہے، قیامت کے دن خدائے پاک تمہیں بھی پیاسا ہی رکھے)

اسی اثناء میں شمرذی الجوشن آگے بڑھا اور حضرت حسینؓ کے قافلہ پر حملے شروع کر دیے، گھمسان کی جنگ ہوئی، حضرت حسینؓ کے جاں نثار ایک ایک کر کے آپ پر فدا ہوتے رہے، آپؓ ان کے لیے دعا کرتے رہے اور "جزاكم الله أحسن جزاء المتقين" فرماتے رہے، آپؓ کے سامنے آپؓ کے رفقاء اور خاندان کے افراد شہید ہوتے گئے، آپؓ تنہا بچے لیکن کسی کی ہمت نہ تھی کہ آپؓ کا سامنا کرے، آپ بڑی دیر تک میدان میں گھومتے رہے لیکن مقابلہ کے لیے کوئی آگے نہ بڑھا، بالآخر شمر نے کوفی جنگجوؤں کو للکار کر کہا: اب حسینؓ کا کام تمام کرنے میں کیا انتظار ہے؟ آگے بڑھو اور انھیں گھیرے میں لے کر حملہ کرو، وہ چاروں طرف سے بڑھے، حضرت حسینؓ نے ثابت قدی سے مقابلہ کیا، پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے لپک کر آپ کے شانہ مبارک پر وار کیا، سنان بن انس نے نیزہ سے حملے کیے، اور پھر گھوڑے سے اتر کر سر مبارک تن سے جدا کر دیا۔ (لعنة الله عليهم أجمعين)

شیعہ حضرت حسینؓ کے قاتل: حضرت حسینؓ کربلا کے میدان میں جس مظلومیت کے ساتھ شہید ہوئے وہ تاریخ اسلام کا ایک سیاہ باب ہے، اور اس کی سیاہی میں شیعوں کی سیاہ طبیعت کا ہی اثر ہے، حضرت حسینؓ کی شہادت اور کربلا کے اس المناک واقعہ کی تمام تر ذمہ داری کوفہ کے شیعان حسینؓ پر عائد ہوتی ہے، جنھوں نے فریب دہی و فتنہ پردازی کے ارادہ سے آپ کو دعوت دی، پھر انتہائی کمینہ پن، خیانت کاری اور بزدلی سے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا، آپ کے خلاف تلوار میں اٹھائیں اور آپ کے اور آپ کے رفقاء کے خون سے اپنے دامن کو تر کر لیا۔

تاریخ میں ساری شہادتیں موجود ہیں کہ شیعوں نے کس طرح حضرت حسینؓ کے ساتھ غداری کی اور خود حضرت حسینؓ اور ان کے خاندان افراد نے کس طرح ان شیعوں کو لعنت ملامت کی اور ان سے بیزاری بلکہ نفرت کا اظہار کیا ہے، ذیل میں چند نمونے ملاحظہ ہوں: 

اہل کوفہ شیعہ تھے: جن کوفیوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھے، ان سے معاہدے کے ان کے لیے قسمیں کھائیں، اور اپنے گلے میں ان کی بیعت کا طوق ڈالتے ہوئے ان کے ساتھ بے وفائی کی وہ سب شیعہ ہی تھے، اس کی گواہی مشہور شیعہ مصنف صاحب خلاصة المصائب نے دی ہے:

"اہل بیت کو شہید کرنے والوں میں کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا بلکہ سب کوفی تھے"

(خلاصۃ المصائب: صفحہ 201)

اور اہل کوفہ کے مذہب کی وضاحت قاضی نور اللہ شوستری نے اس طرح کی:

" تشیع اہل کوفہ حاجت با قامت دلیل ندارد و سنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل و محتاج دلیل است"

(مجالس المومنین، مجلس اول، صفحہ: 25)

  (اہل کوفہ کے شیعہ ہونے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کوفیوں کا سنی ہونا خلاف اصل ہے جو محتاج دلیل ہے۔)

حضرت حسینؓ کی گواہی:"خدایا اگر تو انہیں زندہ رکھ، تو  انہیں ٹکڑیوں میں بانٹ کے رکھ، ان کے در میان پھوٹ ڈالدے، کبھی حکمرانوں کو ان سے مطمئن نہ رکھ، انھوں نے ہمیں بلایا تھا کہ ہماری مدد کریں گے۔ مگر یہ دشمنی پر اتر آئے اور ہمارے قتل کے در پے ہو گئے (الارشاد للمفید: 241)

ایک دوسرے موقع پر شیعوں کو بددعا دیتے ہوئے فرمایا:

ہم سے بیعت کرنے کے لیے تم اس طرح لپکے جیسے ٹڈیوں کے دل کے دل ٹوٹ پڑتے ہیں، تم پروانوں کی طرح نچھاور ہوئے، پھر تمہی نے بیعت توڑ بھی دی، ہلاکت ہو، تباہی ہو، بربادی ہو امت کے ان فرعونوں پر! باطل کی ان ٹکڑیوں کے ان پس ماندہ حصوں پر! کتاب اللہ کے پس پشت ڈالنے والوں پر! تمہی ہو جنھوں نے ہمیں بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ ہمیں موت کے گھاٹ اتارا، سن لو ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

(الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 24)

حضرت زین العابدین کی گواہی: حضرت زین العابدینؒ اس جانکاه واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں، وہ فرماتے ہیں:

کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم نے میرے والد کو خطوط لکھ کر کوفہ بلایا تھا مگر تم نے دھوکہ دیا، ان سے پیمان وفا باندها مگر انہی سے لڑ بیٹھے، ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اب تم کیا منہ لے کر رسول اللہﷺ کے پاس جاؤ گے؟جب آپﷺ فرمائیں گے تم نے میرے گھر والوں سے لڑائی کی، میری حرمت پامال کی، دفع ہو جاؤ تم لوگ میری امت کے نہیں۔ 

(الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 32) 

"جب امام زین العابدین عورتوں کے ہمراہ کربلا سے تشریف لائے اور وہ بیمار تھے تو اس وقت کوفہ کی عورتیں اور مرد گریباں چاک رو پیٹ رہے تھے۔ اس وقت امام زین العابدین اپنی کمزور آواز میں فرمانے لگے: ”یہ لوگ رو رہے ہیں حالانکہ ان کے علاوہ کسی غیر نے ہمیں قتل نہیں کیا"

(الاحتجاج جلد 2 صفحہ 158)

صفحہ 5 از 6