شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج - ردِ رافضیت | دفاع…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 6

حضرت حسینؓ کی روانگی کا عزم: کوفہ کوئی معمولی شہر نہیں تھا، یہ انتہائی حساس جگہ پر واقع تھا، اسلامی مملکت کی سب سے بڑی چھاؤنی تھی، جو حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں قائم کی گئی تھی، یہیں سے ایران و شام کی طرف جانے والی شاہراہ کو بھی کنٹرول کیا جاتا تھا، اس لیے حضرت حسینؓ یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوفہ کی عظیم اکثریت ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے جیسا کہ ان کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے تو اس کے ذریعہ اسلامی نظام کو درست کیا جا سکتا ہے اور اس میں جو تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے، اور دین محمدی کو ان بدعات سے روکنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، اسکے علاوہ ان کے معتمد خاص حضرت مسلم بن عقیلؓ کی طرف سے اطمینان بخش رپورٹیں پہنچ چکی تھیں، چالیس ہزار کوفیوں نے بیعت بھی کر لی تھی، اس لیے ظاہری طور پر کوفہ نہ جانے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی۔

چنانچہ حضرت مسلمؓ کی طرف سے جواب ملنے کے بعد حضرت حسینؓ نے بلاتامل روانگی کا پختہ ارادہ کر لیا، اور اپنے اہل وعیال کے ہمراہ کوفہ کے لیے روانہ ہوئے۔ متعدد صحابہؓ نے حضرت حسینؓ کو روکنا بھی چاہا، کیونکہ کسی کو بھی اہل کوفہ کے وعدوں اور  ان کی بیعتوں پر اعتبار نہ تھا، جن صحابہؓ نے آپ کو روکنے کی کوشش کی ان کے نام یہ ہیں: عبداللہ ابنِ عمر، عبداللہ ابنِ عباس، عبداللہ ابنِ عمرو بن العاص، ابوسعید خدری، عبداللہ ابنِ زبیر، اور آپ کے برادر محمد بن علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہم)

لیکن حضرت حسینؓ سفر کا پختہ عزم کر چکے تھے اور انہیں یقین تھا اہل کوفہ ان کے ساتھ پوری وفاداری برتیں گے، اور پھر حضرت مسلم بن عقیلؓ نے بھی آنے کی دعوت دی تھی۔ اس کے علاوہ آپؓ کے سامنے جو بلند اور عظیم مقاصد تھے اس کے لیے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے، راستہ میں اموی دور کے مشہور شاعر فرزدق سے ملاقات ہوئی اس نے کہا:

لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنوامیہ کے ساتھ‘‘

(طبری: جلد 1 صفحہ 218) 

حضرت حسینؓ مسلم بن عقیلؓ کے انجام سے بے خبر کوفہ کی جانب روانہ تھے، آپ 8 ذی الحجہ کو مکہ سے روانہ ہوئے، اور 9 ذی الحجہ کو ابن عقیلؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ راستہ میں محمد بن اشعث کے قاصد نے آپ کو مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی پوری اطلاع دی، اور واپسی کا مشورہ دیا، دوسرے ذرائع سے بھی آپ کو حالات معلوم ہونے لگے۔ اس واقعہ سے آپ کو سخت صدمہ پہنچا اور آپ بہت دلگیر ہوئے، اور فرمایا:”ہمارے شیعہ نے ہمیں ذلیل کیا“ (خلاصۃ المصائب: 49)

پھر حضرت مسلمؓ کے گھر والوں سے بھی مشورہ کیا، آخر رائے یہی ٹھہری کہ کوفہ پہنچ کر حکمت عملی کی جائے، اور ممکن ہے کہ اہل کوفہ حضرت حسینؓ کو بنفس نفیس سامنے دیکھیں تو جسم و جان سے آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں، اس کے علاوہ مسلم بن عقیلؓ کا قصاص بھی لینا ضروری تھا۔

کربلا میں: حضرت حسینؓ نے اپنا سفر جاری رکھا اور کربلا میں پہنچ کر قیام کیا، کربلا میں کوفہ کے چند لوگ آپ کے پاس آئے، ان سے آپ نے دریافت کیا کہ کوفہ کے کیا حالات ہیں؟ اس کے جواب میں مجمع بن عبدالله العامری نے کہا:

"کوفہ کے اشراف اور عہدہ دار آپ کے خلاف جتھہ بنائے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کو بڑی بڑی رشوتیں مل چکی ہیں، اور ان کے مطالبات پورے کیے گئے ہیں، وہ سب کے سب آپ کے خلاف برسر پیکار ہیں، رہے عوام تو ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔

(البدایہ و النہایہ: جلد 8 صفحہ 173)"

اب ابن زیاد کے حکم سے عمر بن سعد بن ابی وقاص چار ہزار کا کوفی لشکر لے کر آپ کے پاس پہنچے، انھوں نے آپ کو ابن زیاد کے پاس چلنے کا حکم دیا، اس کے جواب میں حضرت حسینؓ نے ان کے سامنے تین باتیں رکھیں، فرمایا:

"تم مجھے چھوڑ دو، جیسے آیا ہوں واپس چلا جاؤں، اگر اس سے انکار کرتے ہو تو مجھے ترکوں کی طرف جانے دو کہ میں وہاں جہاد میں شریک ہو جائیں، اور اگر اس سے بھی انکار ہے تو مجھے یزید کے پاس لے چلو اور میں اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدوں، اور پھر وہی جو فیصلہ کرنا چاہے کرے۔

(البدایہ و النہایہ: جلد 8 صفحہ 173)

عمر بن سعد نے یہ پیغام ابن زیاد تک پہنچا دیا ان کی بھی مرضی تھی کہ حضرت حسینؓ کو یزید کے پاس بھیج دیا جائے لیکن ایسی صورت میں یہ امر یقینی تھا کہ اہل کوفہ کی غداری اور ان کی دھوکہ بازی طشت ازبام ہو جاتی، اور اہل بیت اور فرزندان علیؓ سے ان کی محبت عقیدت کا سارا بھرم کافور ہو جاتا، اور یہ بھی ممکن تھا کہ ان کی غداری کے نتیجہ میں ان کے خلاف فرد جرم عائد ہوتا اور پوری شیعہ قوم کی جگ ہنسائی کی نوبت آتی، اس لیے یہ ضروری ہوا کہ حضرت حسینؓ کو یزید کے پاس جانے سے روکا جائے۔

چنانچہ ملعون شمرذی الجوشن جو کہ ابن زیاد کا خاص مقرب تھا اس نے ابن زیاد کو ورغلاتے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم یہ تو ناممکن بات ہے حسینؓ کو چاہیے کہ وہ خود کو پہلے ابن زیاد کے حوالہ کریں، چنانچہ ابن زیاد نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ وہ پہلے خود کو میرے حوالہ کریں پھر میں فیصلہ کروں گا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے۔

ابن زیاد نے شمر سے کہا کہ عمر بن سعد اگر تعمیل حکم میں تساہل برتیں اور حسینؓ کو گرفتار کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیں تو تُو اس کی جگہ فوج کا افسر ہے۔ چنانچہ شمر ذی الجوشن نے عمر بن سعد کی جگہ خود سنبھالی اور پانچ ہزار کی فوج لے کر حضرت حسینؓ کے بہتر (72) جیالوں سے مقابلہ کے لیے نکل پڑا۔

حضرت حسینؓ کو جب علم ہوا کہ ان کے سلسلہ میں فیصلہ ابن زیاد کو کرنا ہے تو آپؓ کو اس کی بدنیتی اور سازشی ارادوں کو سمجھنے میں دیر نہ لگی اور آپ نے گرفتاری دینے سے انکار کر دیا، آخر نوبت جنگ تک پہنچی۔ 

صفحہ 4 از 6