شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج - ردِ رافضیت | دفاع…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 6

حضرت حسینؓ کے مشورہ پر مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے، کوفیوں نے آپؓ کا بہت ہی پر تپاک خیر مقدم کیا، آپ وہاں ہانی بن عروہ کے گھر پر ٹھہرے، لوگ آتے اور حضرت حسینؓ کے لیے بیعت کرتے، یہ سلسلہ چلتا رہا اور چند ہی دنوں میں اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کر لی، انھوں نے طلاق و عتاق کی قسمیں بھی کھائیں (یعنی اگر وہ اپنی بات سے پھرے تو ان کی بیوی کو طلاق اور ان کا غلام آزاد) یہ سلسلہ چلتا رہا اور تقریباً چالیس ہزار تک پہنچ گیا، حضرت مسلم کو یقین ہو گیا کہ اہل کوفہ پوری طرح حضرت حسینؓ کے ساتھ ہیں، بس انھوں نے حضرت حسینؓ کو پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں۔ یہاں حالات اطمینان بخش ہیں، شیعہ مورخ کے بقول حضرت مسلم نے لکھا:

آپ کے ساتھ ایک لاکھ تلواریں ہیں، تاخیر نہ کیجیے۔

(الارشاد للمفید: 220)

یہ پیغام ملتے ہی حضرت حسینؓ نے کوفہ روانگی کی تیاریاں شروع کر دیں۔

کوفہ میں اس وقت حضرت نعمان بن بشیر گورنر تھے انہیں جب علم ہوا کہ حضرت مسلم بن عقیل یزید کے خلاف بیعت لے رہے ہیں تو انھوں نے اس معاملہ کو کوئی اہمیت نہ دی اور پوری چشم پوشی کا اظہار کیا۔ کوفہ ہی کے کچھ یزیدی حاشیہ برداروں نے یزید تک یہ خبر پہنچادی، یزید نے فوراً کارروائی کی اور حضرت نعمان بن بشیر کو معزول کر کے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر متعین کر دیا۔

ابن زیاد نے کوفہ پہنچتے ہی چاروں طرف اپنے جاسوس روانہ کر دیے، جب اسے معلوم ہوا کہ حضرت مسلم بن عقیلؓ نے ہانی بن عروہ کے گھر کو اپنا مرکز بنارکھا ہے تو اس نے ہانی بن عروہ کو گرفتار کر لیا، مسلم بن عقیل کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے چار ہزار کوفیوں کا لشکر تیار کیا اور ابن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا، کوفہ کے سردار ابن زیاد کے حامی تھے۔ انھوں نے فوجیوں کو مال ودولت کی رشوتیں دیں، انہیں ڈرایا دھمکایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورتیں آتیں اور اپنے بیٹوں کو لے جاتیں، مرد آتے اور اپنے بھائیوں اور دوستوں کو لے جاتے، اور قبائل کے سربراہ اور شورش میں حصہ لینے سے اپنے لوگوں کو روکتے، آخر پوری فوج تتر بتر ہو گئی، اور ابن عقیل کے ساتھ تین سو آدمی رہ گئے، پھر اور گئے اور صرف تیس رہ گئے۔ مغرب کی نماز تک صرف دس بچے اور پھر وہ سب بھی چلے گئے اور حضرت مسلم تنہا رہ گئے، پورے کوفہ میں ایک شخص بھی ان کا ساتھ دینے والا نہ بچا۔

مسلم بن عقیلؓ کوفہ میں بے یارو مددگار ہو گئے۔ کوئی راستہ تک بتانے والا نہ تھا، وہ کوفہ کی گلیوں میں سراسیمہ پھر رہے تھے کہ ایک گھر کے باہر ایک عورت کھڑی نظر آئی، مسلم بن عقیل نے اس سے پناہ مانگی عورت حالات سے آگاہ نہ تھی، مسلم بن عقیلؓ کی پریشان حالی پر اسے رحم آ گیا، اپنے گھر میں پناہ دی، کھانے کو روٹی دی، اسی دوران اس کا لڑکا گھر پہنچا، اسے حالات کا بخوبی علم تھا، جب معلوم ہوا کہ یہی ابن عقیل ہیں تو اس نے مخبری کر دی، اور یکایک ابن زیاد کی فوج کے ستر سپاہیوں نے پورے گھر کا محاصرہ کر لیا، مسلم کو اس کا علم ہوا تو تلوار سونت کر ان کے مقابلہ کو نکلے، ستر آدمیوں کا تنہا مقابلہ آسان نہ تھا، زخموں سے چور ہو کر واپس گھر میں داخل ہوئے، فوجیوں نے گھر کی چھت پر چڑھ کر پتھر برسانے شروع کیے اور پھر گھر میں آگ لگا دی، ان کا دم گھٹنے لگا، آخر اس گھر کے مالک عبدالرحمٰن نے آپ کو پناہ دی، آپ نے خود کو اس کے سپرد کیا۔

مگر اس نے آپ کو دشمنوں کے حوالہ کرنا چاہا، آپ پھر بھی مقابلہ کی کوشش کرتے رہے، محمد ابن اشعث نے پکار کر کہا کہ میں تمھیں امن دیتا ہوں، اپنی جان ہلاک نہ کرو۔ یہ نہ تمھیں قتل کریں گے اور نہ تھیں کوئی تکلیف پہنچائیں گے۔ چنانچہ ابن عقیل کو گرفتار کر لیا گیا تلوار چھین لی گئی، اور ایک خچر پر بٹھا کر ابن زیاد کے سامنے پیش کیا۔ اس وقت مسلم بن عقیلؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں یقین تھا کہ اب وہ شہید کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے ابن اشعث سے کہا: میں اپنی جان کے لیے نہیں روتا ہوں، بلکہ میں حسینؓ اور آل حسینؓ کے لیے رو رہا ہوں جو عنقریب میری تحریر پر یہاں کوفہ آنے والے ہیں، اور میں جانتا ہوں کہ ان کے ساتھ یہاں کیسا برتاؤ کیا جائے گا، تم نے مجھے امان دی تھی، اور میں جانتا ہوں کہ تمہارے اس امان کو قائم رکھنا تمھارے بس میں بھی نہیں ہے، اور یہ لوگ مجھے ضرور قتل کر دیں گے، تو اب کم از کم میری ایک بات مان لو کسی کو حسینؓ کے پاس بھیج کر میری حالت کی اطلاع دیدو، اور کہ دو کہ واپس لوٹ جائیں، اہل کوفہ کے خطوط سے دھوکہ نہ کھائیں، یہ وہی لوگ ہیں جن سے تمہارے والد بھی پریشان تھے۔

مسلم بن عقیلؓ کو ابن زیاد کے محل میں پیش کیا گیا، ابن زیاد نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا انھیں محل کی چوٹی پر چڑھایا گیا، وہ تکبیر و تہلیل اور تسبیح و استغفار پڑھتے رہے۔ اتنے میں ایک شخص جس کا نام بکیر بن عمران تھا اس نے ان کی گردن مار دی، اور ان کا سر قصر سے نیچے پھینک دیا، اور پھر جسم بھی نیچے گرا دیا۔ (البدایہ و النہایہ: جلد 7 صفحہ156)

حضرت مسلم بن عقیل 9 ذی الحجہ کو شہید کردیے گئے، اور ادھر 8 ذی الحجہ کو حضرت حسینؓ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے۔

نوٹ: یہ اہل کوفہ وہی لوگ ہیں جن کے ذہنوں میں ابن سبا کے بوئے ہوئے بیج پروان چڑھ رہے تھے، جو اسی کے ساختہ پرداختہ نے خود کو شیعان علی کہنے والے انہی کوفیوں نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کی، ان سے جنگ کی، انھیں شہید کیا، حضرت حسنؓ کا خیمہ لوٹا، ان کو ذلیل کیا، اور اب حضرت حسنؓ کے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بلا کر ان کے ساتھ غداری کی، انھیں دھوکہ دیا، اور چار و ناچار انہیں موت تک پہنچا دیا۔ (اللہ کی لعنتیں ہوں ان پر بےشمار)۔ 

صفحہ 3 از 6