شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج - ردِ رافضیت | دفاع…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 6

حضرت حسنؓ کی زندگی میں حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہؓ کی یہ رائے ماننے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ حضرت حسنؓ سے ولی عہدی کا وعدہ کر چکے تھے، لیکن حضرت حسنؓ کی شہادت کے بعد حضرت معاویہؓ کو اس مشورہ پر انشراح ہو گیا۔ حضرت معاویہؓ کا یہ ایک اجتہادی فیصلہ تھا نیز برادرانہ شفقت ومحبت کی بنا پر ایسا فیصلہ غیرطبعی اور غیر فطری بھی نہ تھا، اس کے علاوہ حضرت معاویہؓ کے سامنے یزید کی وہ اخلاقی اور معاشرتی خرابیاں اتنی عیاں نہ تھیں جن سے دوسرے افراد واقف تھے، بلکہ چاپلوسں اور مفاد پرست ان کے سامنے دوسرا ہی رخ پیش کرتے، بہرحال، 49ھ میں انھوں نے یزید کے عمومی بیعت کی دعوت دی لیکن اس دعوت کو عام طور پر مسلمانوں نے ناپسند کر دیا، اور سخت اختلاف کا اظہار کیا کیونکہ یہ اسلامی مزاج کے عین مخالف فیصلہ تھا لوگوں کو یزید کے مشاغل اور اس کی سیر وتفریح کا خوب علم تھا، حالات کی مخالفت کو خود یزید نے بھی سنجیدگی سے لیا، اور اس وقت بیعت کا یہ معاملہ رک گیا۔

تفصیلات دیکھیں: (البدایہ و النہایہ: جلد 8 صفحہ180) 

یزید کی ولی عہدی کی خبر جب اہل کوفہ کو پہنچی تو پولیس خوشامد پسند کوفی وفد کی شکل میں حضرت معاویہؓ کے پاس پہنچے اور ان سے درخواست کی کہ آپ کے بیٹے جیسا کوئی قابل اور ماہر سیاست نظر نہیں آتا، ہم سب یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت کرنے کو تیار ہیں، اور پھر شام و عراق میں یزید کی بیعت کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا، اور یہ شہرت کردی گئی کہ شام و عراق اور کوفہ و بصرہ سب یزید کی بیعت متفق ہیں۔

56ھ کا آغاز ہوا تو حضرت معاویہؓ نے یزید کے لیے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کر دیا، اور تمام علاقوں میں اس کی اطلاع بھیج دی اور پھر مسلمانوں کی اکثریت نے یہ بیعت قبول کرلی، جن میں متعدد صحابہ کرامؓ بھی شامل تھے۔

حضرت حسینؓ کا موقف

دوسری جانب ایک جماعت ایسی بھی تھی جس نے محسوس کیا کہ یہ عمل اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف ہے، اگر ابھی اس پر روک نہ لگائی گئی تو آگے چل کر مسلمانوں میں ولی عہدی کی یہ رسم چل پڑے گی اور اس کے ذریعہ قیصر وکسری کی روایتیں زندہ ہو جائیں گی، اس کے علاوہ یزید کی اخلاقی برائیاں اور اس کا فسق و فجور بھی کھل کر سامنے آچکا تھا اور اس کی جو برائیاں اعلانیہ نہیں تھیں وہ امیر معاویہؓ کے انتقال اور اس کے حاکم بننے کے بعد طشت ازبام ہوگئیں، اس لیے اسی وقت اس کی مخالفت ضروری تھی۔

ملاحظہ ہو: (مقدمہ ابن خلدون: 18)

مخالفت کرنے والوں میں نمایاں نام عبداللہ ابن زبیر، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن عباس، عبدالرحمٰن ابن ابی بکر اور سبط رسول حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم) کا تھا، جن کی عظمت و مرتبت مسلم و قابل تقلید تھی۔

حکومتِ یزید کے کارندوں نے حضرت حسینؓ کے انکار بیعت کو وہ اہمیت دی جو باقی اصحاب کو نہیں دی، وہ جانتے تھے کہ حضرت حسینؓ کی لوگوں کے دلوں میں بڑی اہمیت و عظمت ہے، آپ نواسہ رسولﷺ اور جلیل القدر ہستی حضرت علیؓ کی اولاد ہیں، اس لیے حکومت کے ارکان کی پوری توجہ اس بات پر تھی کہ آپ بیعت کر لیں لیکن ان کے اصرار اور کوششوں کے باوجود حضرت حسینؓ نے جھکنا یا نرم پڑنا قبول نہ کیا، اور اپنے موقف پر پوری بصیرت اور عزم و ارادہ کے ساتھ قائم رہے۔ البتہ جب حکومت کا دباؤ بڑھنے لگا تو آپ مدینہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں پناہ گزیں ہو گئے۔ 

اہل کوفہ کے دعوت نامے

اہل عراق اور اہل شام کے درمیان حضرت علیؓ کے دور سے اختلافات قائم تھے، اہل عراق حضرت علیؓ کے ہمنوا تھے اور کوفہ ان کا دارالخلافہ تھا، اہل شام حضرت معاویہؓ کے حامی تھے اور دمشق ان کا پایہ تخت تھا، اگرچہ حضرت حسنؓ نے آپسی اختلافات کو ختم کر کے صلح اختیار کر لی تھی، لیکن اہل عراق اور اہل شام اپنے دلوں میں آپسی نفرت کی چنگاری دبائے ہوئے تھے، جو گاہے بگاہے اپنا اثر ظاہر کرتی، چنانچہ جب اہل کوفہ کو خبر پہنچی کہ حضرت حسینؓ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کر دیا ہے، تو انھوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط روانہ کیے جن میں اس بات کی وضاحت کی کہ وہ خود بھی یزید کو ناپسند کرتے ہیں، بلکہ وہ تو حضرت معاویہؓ کے بھی خلاف ہیں، اور ہمیشہ وہ حضرت علیؓ کےحامی رہے ہیں، اور آج بھی وہ حضرت علیؓ کی اولاد کو ہی خلیفہ بنانا چاہتے ہیں، انھوں نے صراحت کی کہ ان کے گردنوں میں یزید کی بیعت نہیں ہے بلکہ وہ حضرت حسینؓ کی ہی بیعت کرنا چاہتے ہیں اور انھی کو اپنا خلیفہ تسلیم کرتے ہیں، اور بڑی تاکید سے حضرت حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ وہاں اس سے اسلامی نہج پر خلافت کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔

اہل کوفہ نے جو خطوط لکھے ان کے نمونے شیعوں کی ہی کتاب سے ملاحظہ ہوں:

بسم الله الرحمن الرحيم 

حسین بن علی کے نام، جو اپنے اور اپنے والد امیر المؤمنین کے شیعوں کی طرف سے امیر المؤمنین ہیں، سلام الله علیک، امابعد! لوگ آپ کے منتظر ہیں، آپ کے سوا ان کی کوئی رائے نہیں، اے رسول اللہﷺ کے بیٹے جلدی کیجیے جلدی۔ والسلام

(کشف الغمہ: جلد 2 صفحہ 32 الارشاد للمفید: 203)

ایک دوسرا خط ملاحظہ ہو:

"اما بعد! باغات سرسبز ہو چکے ہیں، پھل تیار ہو چکے ہیں، بس  آپ مضبوط لشکر کی طرف آجائیے۔ والسلام"

(الارشاد للمفید: 205، اعلام الوریٰ للطبرسی: 223) 

حضرت حسینؓ کورمضان المبارک کی 20 تاریخ کو پہلا خط ملا لیکن آپ نے اس کو کھولا تک نہیں، اور اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔

ثم لم يمس الحسين يومه ذلك۔ (الاخبار الطوال از علامہ دینوری: 231)

حضرت حسینؓ کی خدمت میں اہل کوفہ کے جو خطوط پہنچے ان کی تعداد کم و بیش پانچ سو کی تھی، ان خطوط کے علاوہ کئی وفود بھی حضرت حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے قسمیں کھا کھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلایا، ان خطوط اور وفود سے حضرت حسینؓ ضرور متاثر ہوئے لیکن ان کوفیوں کے سابقہ کارناموں کے پیش نظر حالات کی تحقیق ضروری تھی، چنانچہ اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو حالات کا جائزہ لینے کے لئے کوفہ روانہ کیا۔

مسلم بن عقیلؓ کوفہ میں

صفحہ 2 از 6