ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 9 از 13

 سوال: یہاں کے قاضی صاحبان شادی بیاہ میں بذاتِ خود نکاح نامہ کی خانہ پری کرکے بخوشی عقد پڑھاتے ہیں لیکن طلاق یا خلع کا موقع آیا تو کورٹ کا راستہ بتلاتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟

جواب: مسلمان کیلئے قطعاً جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات غیر اسلامی سرکاری عدالتوں میں لے جائیں، غیر مسلم ججوں کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں غیر معتبر ہے، اور ان کا فسخ کیا ہوا نکاح باقی رہتا ہے اور نکاح ثانی جائز نہیں ہوتا۔

(كتاب الفتاوىٰ جلد 3صفحہ 44حصه ششم)

 سوال: آج کل پاکستانی فوج میں اقلیتی حقوق سے متعلق بیرونی دباؤ کے زیرِ اثر ہندوؤں اور سکھوں کو افسر منتخب کرنے پر غور و فکر جاری ہے، اس کے ابتدائی مرحلے کے طور پر فوج کے اندر مختلف لوگوں کی آراء معلوم کی جارہی ہیں،اگر ایسا ہو گیا تو اس کا نقصان ظاہر ہے۔ آپ اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں؟

جواب: کفار کے ساتھ بلا ضرورت میل جول رکھنے سے بھی منع کیا گیا ہے کہ اس سے اُن کے بُرے اخلاق مسلمانوں میں منتقل ہونے کا اندیشہ بلکہ یقین ہو جاتا ہے، چہ جائیکہ کسی کافر کو کسی شعبے میں مسلمانوں کی نگرانی سونپی جائے ، پھر فوج تو حساس ادارہ ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کا اجتماعی مفاد وابستہ ہے۔ اسلام و پاکستان کے دشمنوں کو اس میں شامل کرنا ہی سنگین غلطی ہے اور دشمن کو افسر مقرر کرنا تو زیادہ خطر ناک ہے، جو اسلامی

تعلیمات کے علاوہ غیرت کے بھی خلاف ہے۔

(آپ کے مسائل کا حل جلد،1،صفحہ 105)

سوال:نکاح میں غیر مسلم گواہ ہو تو نکاح صحیح ہو گا یا نہیں؟

جواب: مسلمان کے نکاح کے صحیح ہونے کیلئے گواہوں کا بھی مسلمان ہونا ضروری ہے، غیرمسلم شاہد کے

 روبرو کیا گیا نکاح معتبر نہیں کہلائے گا۔

(فتاوىٰ دينيه:جلد3 صفحہ213)

سوال: ایک مرحوم خیر کی ملکیت صورت میں ہے مرحوم کا کوئی وارث نہیں ہے، ان کی اس ملکیت میں 16 کرایہ دار رہتے ہیں اور وہ خود بھی اس میں رہتے تھے، انہوں نے اپنی وفات سے پہلے عمارت کی آمدنی کیلئے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے اور وصیت کی ہے کہ اس

کی جو آمدنی ہو پہلے اس سے مکان کی تعمیر و مرمت کی جائے اور پھر جو رقم بچا کرے وہ محلہ کی چار مسجدوں میں تقسیم کی جایا کرے۔ مذکورہ عمارت کے کل پانچ افراد ٹرسٹی ہیں ان میں ایک شخص شیعہ آغاخانی کھوجا بھی ہے۔ ہم اہلِ سنّت و الجماعت حنفی المسلک ایسی آدمی کوٹرسٹی (منتظم) قائم رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟

 جواب: واقف نے غلطی کی ہے کہ سنی ٹرسٹیوں کے ساتھ آغا خانی کوٹرسٹی بنایا۔اب اگر اس کی وجہ سے وقف کو نقصان پہنچتا ہو اور واقف کا مقصد فوت ہو جاتا ہو تو بدلا جا سکتا ہے۔ اگر قانونی طور پر اس کی منظوری ہوگئی ہو تو قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ کاروائی کی جائے تا کہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔

صورت مذکورہ میں سنی ٹرسٹیوں کی اکثریت ہے تو ایک نے اگر مخالفت کی تو وہ کامیاب نہ ہوگا، کیونکہ فیصلہ اکثریت کی رائے سے ہو گا۔ بہر حال نہ سانپ بچے نہ لاٹھی ٹوٹے کے اصول پر کام کیا جائے ۔ 

( فتاویٰ رحیمیه:جلد9صفحہ46)

 سوال: ہمارے یہاں مسلمانوں کی ایک کمیٹی ہے اس کے منتظمین تمام مسلمان ہیں،وہ لوگ چندہ میں اللہ کے لیے رقم اور زکوٰۃ کی رقم بھی وصول کرتے ہیں اور زکوٰۃ کے پیسوں میں آج تک غریب مسلمانوں کو مفت دوا وغیرہ دیتے تھے، اور تقسیم کا یہ کام مسلمان ہی کو سپرد کیا جاتا تھا مگر اب ایک غیرمسلم کو ملازم رکھ کر وہ کام اس کو سپرد کیا گیا،اب وہ غیرمسلم اپنی مرضی سے جس کو چاہتا ہے مفت دوا دیتا ہے، حتیٰ کہ غریب حاجت مند مسلمانوں کے ہوتے ہوئے غیر مسلموں کو بھی مفت دوا دیتا ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہیں کہ :

 کیا زکوٰۃ جیسی اہم عبادت جو نماز روزہ وغیرہ کی طرح ایک اسلامی فریضہ ہے، اس کی تقسیم کا کام غیر مسلم کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب: زکوٰۃ کی تقسیم کا کام غیرمسلم کو سپرد کرنا جائز نہیں،اس میں مسلمانوں کی توہین لازم آتی ہے، اور ایک غیرمسلم کی سرداری مسلمانوں پر ہوگی،اور زکوٰۃ کی رقم کا غلط استعمال ہوگا، اور زکوٰۃ دہندگان کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، اور اس کے ذمہ دار انجمن کے منتظمین ہوں گے۔

 در مختار میں ہیں: (هو اى العاشر : حر مسلم بهذا يعلم حرمة تولية اليهود على الاعمال (قوله هو مسلم ) ولا يصح أن يكون كافراً لانه لا يعلى عملى المسلم بالآية بحر والمراد بالآية قوله تعالىٰ ولن يجعل اللّٰه للكافرين على المؤمنين سبيلا:

: غاية الاوطار: میں ہے کہ:عاشر آزاد ہو مسلمان ہو۔ یعنی نہ غلام ہو،نہ کافر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہود کو عامل بنانا حرام ہے۔

(فتاویٰ رحیميه:جلد7 صفحہ179) 

 سوال:کیا قاضی کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے؟

 جواب:مسلمان کے حق میں قاضی کا مسلمان ہونا باتفاق ائمہ اربعہؒ ضروری ہے، خواہ مقدمہ حدود کا ہو یا کسی اور باب سے متعلق ہو۔

(فتاویٰ دار العلوم کراچی:جلد 5 صفحہ57)

 سوال: ہمارے علاقے میں چند گھرانے اہلِ سنّت کے ہیں اور عموماً یہاں شیعہ آباد ہیں۔اس علاقے میں برائے وصولی زکوٰۃ شیعہ چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں وہ ہم سے زکوٰۃ وصول کر کے حکومت کو دیتے ہیں اور پھر اس میں سے اہلِ تشیع کو بھی دیا جاتا ہے۔ اگر ہم دینے سے انکار کریں تو وہ زبردستی لے جاتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ہماری زکوٰۃ ادا ہو گی یا نہیں؟

جواب:چونکہ شیعہ عموماً خارج از اسلام ہیں۔ان کو زکوٰۃ کا چیئرمین مقرر کرنا اضاعت زکوٰۃ ہے۔

(وفي الهنديه ويرط في العامل أن يكون حراً مسلماً غیرهاشمی، كذا في البحر ناقلا عن الغاية)

کیونکہ عامل کو بھی زکوٰۃ ہی سے حصہ دیا جاتا ہے۔

وفي الهنديه واما اهل الذمه فلا يجوز صرف الزكوٰة اليهم بالاتفاق

( فتاویٰ فریدیه:جلد3 صفحہ388)

 سوال: ایک پکا سنی مسلمان عبد الکریم خان شیعہ منکر اصحاب و امهات المؤمنین(رضوان اللّٰه علیھم اجمعین)کو ووٹ دلوانے کا عہد کرتا ہے جس سے شیعہ مذکور اپنی امداد پاش لینا چاہتا ہے۔

صفحہ 9 از 13