ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 8 از 13

حضرت مولانا محمد احمد لدھیانوی صاحب فرماتے ہیں کہ: ایک دوسرے نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اگر یہ مملکت ایک اسلامی فلاحی مملکت ہے تو پھر اس میں بسنے والوں کی اکثریت کون سے عقائد و نظریات کی حامل ہے۔ تمام اعداد و شمار اور سرکاری وغیر سرکاری رپورٹیں اور زمینی حقائق اس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ اس ملک کی اکثریتی آبادی اہلِ سنّت والجماعت کے عقائد و نظریات کی حامل ہیں ۔ دوسری طرف وہ اقلیت ہے جو اہلِ سنّت والجماعت کے عقائد سے کلی طور پر متصادم ہے۔اس اقلیت کا اپنے عقائد و نظریات کے ساتھ اس ریاست میں زندگی گذارنا نہ صرف یہ کہ ان کا آئینی حق ہے بلکہ شرعی اور اخلاقی حق بھی ہے۔اس اقلیت کا احترام اور تحفظ اس ملک کی اکثریت یعنی اہلِ سنّت والجماعت پر واجب ہے، اور یہی میثاقِ مدینہ کا تصور ہے اور یہی خلافتِ راشدہ کے عادلانہ نظام سے ثابت ہے۔

جب دنیا کا کوئی بھی عمرانی معاہدہ اکثریت کو اقلیت کے عقائد و نظریات کا احترام کرنے کا پابند بناتا ہے تو اقلیت پر یہی اصول دوگنی طاقت کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔ 

اکثریت کو اگر اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اقلیت کے عقائد و نظریات اور ان کے شعائر کی توہین کرے تو اقلیت کو اس بات کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ بیچ چوراہے پر کھڑے ہو کر اکثریت کے عقائد و نظریات اور شعائر کی تو ہین کرے۔

 افسوس یہ کہ اس ملک میں یہی ہو رہا ہے۔ یعنی کہ یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست ہے اور اس ملک میں رہنے والوں کی اکثریتی آبادی اہل سنت والجماعت کے عقائد پر کار بند ہے لیکن اس اکثریتی مسلم آبادی کو اسی اسلامی فلاحی ریاست میں : دفاعِ صحابہ کرامؓ کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو تب لڑی جاتی جب اہلِ سنّت والجماعت کے عقائد و نظریات رکھنے والے افراد اس ملک میں اقلیت کی صورت میں جی رہے ہوتے۔ یہ وہ صورت حال ہے کہ جس میں ریاست کا کردار کلیدی ہونا چاہیئے تھا مگرحالات و واقعات نے ثابت کیا کہ ریاست نے اکثریت کی آواز پر کان نہ دھر کر اقلیت کو طاقت فراہم کی،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثریت کی صفوں میں یہ احساس اُبھرنے لگا کہ شاید آئینی جدوجہد کا راستہ ہمارے لئے کارآمد ثابت نہیں ہو رہا۔ اور یہی احساس بغاوت کا سبب بنا اور بالآخر اکثریت کی صفوں میں سے کچھ لوگ نکل کھڑے ہوئے اور تشدد کا راستہ اختیار کر لیا گیا ۔

اب بھی تماشا یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ بھی اقلیت کے ہمنوا بن کر اس تاثر کو ابھار رہے ہیں کہ اکثریت ہی دراصل اس ملک میں شیعہ سنی اختلافات یا فسادات کی وجہ ہیں۔ اس صورت حال کو ہمیں عمل اور ردِ عمل والے کلیہ میں رکھ کر دیکھنا چاہیئے۔ اس بات پر تو سبھی متفق ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے میں کفر کے فتویں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔کفر کی انہی فتویٰ کو ہم بنیاد بنا لیتے ہیں اور اکائی سے فتویٰ بازی کے سلسلے کا جائزہ لینا شروع کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ جائز لیں گے تو جلد اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گئے کہ کفر کا پہلا فتویٰ وہی ہو سکتا ہے جو حضراتِ شیخینؓ( سیدنا ابوبکر صدیقؓ اورسیدنا فاروقِ اعظمؓ) پر لگا ہے۔پھر اس کے بعد دوسری جانب سے اگر کسی نے کوئی جوابی فتویٰ دیا ہے تو اس کی حیثیت فتویٰ کی نہیں بلکہ ایک ردِ عمل کی ہے۔

آج اس ملک میں بڑی آسانی کے ساتھ اہلِ سنّت والجماعت کو تکفیری کہہ دیا جاتا ہے مگر میں یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ ردِ عمل میں کفر کے فتوے دینے والے تو تکفیری ہیں مگر صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ کی عزت سے کھیلنے والے اور ان کو کافر کہنے والے کیونکر تکفیری نہیں؟

اب مسئلہ صحابہ کرامؓ و ازواجِ مطہراتؓ کو ماننے یا نہ ماننے سے نہیں ہے بلکہ ان توہین آمیز لٹریچر سے ہے جو اس ملک کی اکثریتی آبادی اہلِ سنّت والجماعت کیلیے نا قابل برداشت ہے۔ یہ مسئلہ اگر کل حل کر دیا جاتا تو فسادات بھی کل ہی ختم ہو جاتے اور اگر یہ مسئلہ آج بھی باقی رہے گا تو فسادات بھی باقی رہیں گے۔

دنیا کی تاریخ یہ ہے کہ جب اکثریت کو اقلیت کے مقابلے میں اپنے حقوق کی جنگ لڑنی پڑ جائے تو بغاوت جنم لیتی ہے اور بغاوت نام ہی اُس عصر کا ہے جو کسی بھی اصول، ضابطے یا فتوے کا لحاظ نہیں رکھتا، پھر آئینی جدوجہد پر یقین رکھنے والی قیادت کی نصیحتیں تشدد پسند حضرات کو امن پسندی پر مائل نہیں کر سکتیں۔

 میری جماعت کی قیادت اسی طرح کی آزمائش سے گذر رہی ہے۔آئینی جدو جہد اور قومی سلامتی کیلئے ہمارے کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اس وقت ہمیں دو طرفہ محاذ سے جنگ لڑنی پڑ رہی ہے ۔ 

ایک طرف ہم ریاستی اداروں کے سامنے اپنے جائز مطالبات رکھ رہے ہیں اور ان مطالبات کی منظوری چاہتے ہیں اور دوسری طرف ہم تشدد پر اصرار کرنے والی سوچ کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں ۔ دوسرے محاذ پر کامیابی کا مکمل انحصار پہلے محاذ کی کامیابی پر ہے۔ اگر ہم پہلے محاذ پر نا کام ہوگئے تو دوسری محاذ پر ہماری شکست یقینی ہوگی۔ یہ شکست ہماری نہیں بلکہ ان اداروں کی ہوگی جو اُس وقت متحرک ہوتے ہیں جب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہوتا ہے۔ اداروں کا یہ طرزِ عمل ہمیشہ بھاری نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے جس کی قیمت بہر طور قوم کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

اقلیت کو جب اکثریت کے احترام پر آمادہ نہ کر لیا جائے اُس وقت تک اکثریت کو دیے جانے والا امن کا کوئی بھی درس کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ آج بھی اس ملک میں تحفظ اہلِ سنّت کے نام پر سنی عوام سڑکوں پر ہیں۔ یعنی کہ اس ملک کی اکثریتی آبادی جسے سنی کہا جاتا ہے وہ اپنے تحفظ کی بھیک مانگنے کے لئے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے۔ اکثریت اور اقلیت کی جاری یہ جنگ اب بھی کافی حد تک آئینی دائروں میں گھوم رہی ہے، مگر کب تک آئینی دائروں میں گھومتی رہے گی۔؟

تمام ریاستی اداروں کو چاہیئے کہ وہ آئینی جدوجہد کا گلیشئیر پگھلنے سے پہلے پہلے غیر یقینی صورت حال کے حقیقی اسباب تلاش کریں اور حقیقی طور پر ان اسباب کا سد باب کریں۔ 

(نظامِ خلافتِ راشده رساله صفحہ9مئی 2014)

صفحہ 8 از 13