ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 7 از 13

غیرمسلم جج اگر طلاق وغیرہ کے متعلق فیصلہ دیتا ہے تو شرعی طور پر اس کا فیصلہ صحیح اور معتبر نہ ہوگا، اس فیصلہ کی وجہ سے مسئلہ طلاق میں بیوی کو آزادی حاصل نہ ہوگی۔اس مسئلہ کو علامہ شامیؒ نے ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

 لم ينفذ حكم الكافر على المسلم ويقذ للمسلم على الذمی

(فتاویٰ دار العلوم زكريا:جلد4صفحہ242)

13)حضرت مولانا خالد سیف اللّٰه رحمانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:مسجد پر غیرمسلم کی تولیت کے نہ درست ہونے کی صراحت قرآن کریم نے کردی ہے:ماکان للمشركين ان يعمروا مسجد اللّٰه شهدين على انفسهم بالكفر۔

 (كتاب الفتاوىٰ جلد2صفحہ147حصه چہارم)

14)حضرت مولانا مفتی محمد انعام الحق قاسمی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: زکوٰۃ کی تقسیم کا کام 

غیرمسلم کے سپرد کرنا جائز نہیں،اس میں مسلمان کی تو ہین لازم آتی ہے،اور ایک غیرمسلم کی سرداری مسلمانوں پر ہوگی، اور زکوٰۃ کی رقم کا غلط استعمال ہوگا،اور زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی،اور اس کا ذمہ دار وہ شخص ہو گا جس نے غیرمسلم کو زکوٰۃ کی تقسیم کا کام دیا ہے۔ 

(زکوٰۃ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیاصفحہ334)

15)حضرت مولانا مفتی محمد جعفر علی رحمانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ سنی کے نکاح میں شیعہ گواہ نہیں بن سکتا۔

وفي الفتاوىٰ الهندية:الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ باللّٰه فهو كافر ويجب أكفار الروافض في قولهم برجعة الامرات الى الدنيا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الاله الى الائمة وبقولهم في خروج امام باطن وبتعطيلهم الأمر والنهي الى ان يخرج الامام الباطن وبقولهم ان جبريل عليه السلام غلط في الوحي الى محمد دون عملى ، وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين ، كذافي الظهيرية]۔(محقق و مدلل جديد مسائل جلد2صفحہ174)

16)حضرت مولانا مفتی اسامہ پالن پوری ڈینڈ رولوی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: کافر کو قاضی بنانا درست نہیں،کیونکہ کافر،ادنیٰ ولایت، اور وہ شہادت کے اہل نہیں تو اعلیٰ ولایت ، قضاء کے بدرجہ اولیٰ اہل نہ ہوں گے۔

(فقہی ضوابط:حصہ سوم صفحہ66)

17)حضرت مولانا فتح محمد صاحب لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ:مسجد کا متولی غیرمسلم نہیں ہوسکتا۔

(حلال وحرام کے احکام:صفحہ309)

18)حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ فرماتے ہیں کہ اب حکومت سے بھی یہی مطالبہ ہے کہ اسمبلی میں یا عدالت میں شیعہ کے کفر کا اعلان کیا جائے،اور اگر یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بات کریں،اور اگر غیرمسلم ہیں تو مسلمان کی طرح حقوق کیوں حاصل کر رہے ہیں ؟ مسلم کی طرح ماحول اور معاشرے میں گھسے ہوئے کیوں ہیں؟ اور ان کے مسلم ہونے کی شہرت میں جو مسلم لڑکیاں ان کے نکاحوں میں جا رہی ہیں،اور یہ نکاح ہوتا ہی نہیں بلکہ زنا ہے۔ تو ان کو بچانے کے لئے ہمارے پاس کیا طریقہ ہے کہ ہم سنی بچیوں کو اس عذاب سے بچائیں،اور دوسرے حقوق جن پر وہ مسلم کی حیثیت سے غاصبانہ قبضہ کئے ہوئے ہیں۔اس کے لئے ہمارے پاس کیا دفعہ ہے؟ 

(میں نے سپاہِ صحابہؓ کیوں بنائی صفحہ15)

19) چونکہ شیعہ لوگ حکومت کو زکوٰۃ نہیں دیتے اس لیے زکوٰۃ و عشر کمیٹیوں اور متعالقہ محکموں سے شیعہ ارکان و افسران کو فی الفور الگ کیا جائے،اور جب وہ زکوٰۃ نہیں دیتے تو شیعہ اداروں اور افراد کو بھی زکوٰۃ نہ دی جائے۔اور زکوٰۃ و عشر کی جگہ شیعہ لوگوں پر متبادل ٹیکس عائد کیا جائے۔

(ماہنامہ نظامِ خلافتِ را شدہ فروری 2014صفحہ 18)

 20)جنرل ضیاء الحق نے جب زکوٰة و عشر کا قانون نافذ کیا تو اہلِ تشیع نے مارشل لاء کے ضابطوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے وفاقی سیکرٹریٹ پر قبضہ کر لیا اور اس وقت وہ وہاں سے پلٹے جب اُن کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا گیا کہ اہلِ تشیع کے لئے جداگانہ زکوٰۃ آرڈنینس نافذ کر دیا گیا ہے۔

اس طرح ایک ہی ملک میں دو اذانوں،دو کلموں اور دو دینیاتوں کی طرح زکوٰۃ کے بھی دو قانون تسلیم کر لئے گئے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ملکی قانون کے مطابق شیعوں کو زکوٰة دینے سے تو مستثنیٰ کر دیا گیا مگر خود ان کے ملکی خزانے سے زکوٰۃ لینے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ (

ماہنامہ نظامِ خلافتِ راشده فروری 2014 صفحہ16)

21) حضرت مولانا علامہ خالد محمودؒ فرماتے ہیں کہ: شیعہ یہ بھی مانتے ہیں کہ پاکستان میں اکثریت اہلِ سنّت کی ہے اور انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ اہلِ سنّت ، صحابہ کرامؓ کے بارے میں وہ سیدنا علیؓ ہوں یا سیدنا امیرِ معاویہؓ ہوں،سیدناسلمان فارسیؓ ہوں یا سیدنا

 عمروبن عاصؓ ہوں کس قدر حساس واقع ہوئے ہیں پھر شیعہ اس عالی ظرفی کو کیوں خیر آباد کہہ آئے جو ان کی اپنی کتابوں کی روشنی میں خود سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد کی علمی میراث اور فکری تراث تھی۔

پھر شیعہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ملکی مشترک آبادیوں پر اہلِ سنّت کا حق ان کے حق سے کہیں زیادہ ہے پھر یہ سب کچھ جانتے ہوئے اور سیدنا علیؓ اور اولادِ علیؓ کی سیرت پہچانتے ہوئے اتنی بڑی اکثریت کو محرم میں ملک سے باہر کیوں سمجھ لیتے ہیں(یعنی اہلِ سنّت اکثریت کے سارے نظام کو درہم برہم کرتے ہیں)اور سڑکوں پر اس دریدہ دینی سے کیوں نکلتے ہیں کو یا ان کے سوا اس ملک میں نہ کوئی دیکھنے والی آنکھ ہے نہ کوئی سننے والا کان ہے بس ہم ہیں جو چاہے کرتے پھرے اور جو چاہیں بکتے پھریں۔ اختلاف میں اتحاد کی راہ تلاش کرنا اور اکثریتی آبادی کو بڑا بھائی سمجھ کر ان کے عقائد و جذبات اور ان کی ہدایات کا پورا احترام کرنا کیا یہ آلِ رسولﷺکی مشترکہ عالی ظرفی نہ تھی؟

 ياد ركهو!

تاریخی اختلاف ہوں یا سیاسی اعتقادی اختلاف ہوں یا عملی ملکی سلامتی اور وحدت ملی کی ہر مرحلے پر حفاظت ہونی چاہیئے ، شیعہ سے ہمارے اختلاف کو اصولی ہیں فروعی نہیں لیکن یہ اس درجے میں بھی نہیں کہ وہ دس محرم کی عزاداری کیلئے ملک کی اتنی عظیم اکثریت کو عملاً شہر بدر کر دیں اور کہیں آزادی یہی ہیں کہ ہم جو چاہیں کریں اور جہاں چاہیں پھریں ہماری اس خود ساختہ سانحہ کربلا کی عزاداری پر قانون کی کوئی گرفت نہ ہونی چاہیئے ۔

(خلفاء راشدین:جلد1صفحہ670)

22)اقلیت بمقابله اكثريت

صفحہ 7 از 13