ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 6 از 13

علامہ ابو بکر جصاص رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کے(اجتماعی) کاموں اور ملازمتوں میں کفاراہل ذمہ ذمہ سے امداد لینا جائز نہیں۔

اس طرح آیت کریمہ:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ میں بھی اس چیز کی وضاحت کر دی گئی ہے۔

اس آیت کے ذیل میں علامہ ابوبکر جصاص رازیؒ فرماتے ہیں کہ:ان آیات میں حق تعالیٰ نے کفار کی دوستی اور ان کے اعزاز سے منع فرمایا ہے، اور ان کی اہانت و ازلال کا حکم دیا ہے، اور ان سے مسلمانوں کے (اجتماعی) کاموں میں امداد لینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اس میں ان کی عزت اور برتری ہے۔

 نیز ارشادباری تعالیٰ ہے:الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا

ترجمه: وہ جو بناتے ہیں کافروں کو اپنا رفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر،کیاڈھونڈتے ہیں ان کے پاس عزت،سو عزت تو اللّٰه تعالیٰ ہی کے واسطے ہے ساری۔

(جامع الفتاوىٰ جلد8 صفحہ373)

7) حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ:اگر کسی جگہ فیصلہ کندگان حاکم غیرمسلم ہو تو اس کا فیصلہ بالکل غیر معتبر ہے،اس کے حکم سے فسخ وغیرہ ہرگز نہیں ہو سکتا

لان الكافر ليس باهل للقضاء على المسلم كما هو مصرح في جميع كتب الفقه حتیٰ کہ اگر روداد مقدمہ

 غیرمسلم مرتب کرے اور مسلمان حاکم فیصلہ کرے یا بالعکس تب بھی فیصلہ نافذ نہ ہوگا الی قولہ:اور اگر فیصلہ کسی جماعت کے سپرد کیا جاوے جیسا کی بعض مرتبہ ججوں کی جیوری کے سپرد ہو جاتا ہے یا بیچ میں پیش ہوتا ہے یا چند اشخاص کی کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے تو اس صورت میں ان سب ارکان کا مسلمان ہونا شرط ہے، کوئی غیرمسلم جج اور مجسٹریٹ اور ممبر بھی اس کا رکن ہو تو شرعاً اس جماعت کا فیصلہ کسی طرح معتبر نہیں،ایسے فیصلہ سے تفریق وغیرہ ہر گز صحیح نہ ہوگی۔

 (الحيلة الناجزه صفحہ31)

8)حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ فرماتے ہیں کہ: خلافِ اسلام تقریر کرنے والے کافر کی تعریف کرنا حرام ہے، اور ایسا شخص مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہوسکتا۔

(امداد المفتين:جلد 2 صفحہ 844)

9)حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کے خلاف شہادت دینے کیلئے یہ شرط ہے کہ گواہ مسلمان ہو سچا ہو غیر جانب دار ہو۔ اور شیعہ میں یہ تینوں شرطیں مفقود ہیں۔ لہٰذا مسلمان کے خلاف اس کی گواہی مردود ہے۔

(جواہر الفتاوىٰ جلد1صفحہ389)

10)حضرت مولانا مفتی غلام الرحمٰن صاحب فرماتے ہیں کہ:سیدنافاروقِ اعظمؓ جیسے مدبر،سیاسی شخصیت اور حکمران نے تمام ممالکِ خلافت کو یہ فرمان بھیجا تھا کہ ذمیوں(مسلمان ملک میں رہنے والے غیر مسلموں) کے ساتھ مکاتبت کا تعلق مت رکھو، کہیں تم میں اور ان میں اس بہانہ سے مؤدت و محبت پیدا نہ ہو جائے ۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے ہاں ایک نصرانی کاتب ملازم تھا جس پرسیدنافاروقِ اعظمؓ انتہائی غصہ ہوئے تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے کہا کہ اے

امیرالمؤمنین!مجھے اس کی کتابت سے کام ہے، مجھے اس کے دین سے کیا تعلق ؟ توسیدنافاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ جن کی توہین اللّٰه تعالیٰ نے خود کی ہے میں اُن کی تکریم نہیں کروں گا، جن کو اللّٰه تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے میں اُن کو عزت نہیں دوں گا، اور جن کو اللّٰه تعالیٰ نے دُورکیا میں اُن کو مقرب نہیں بناؤں گا۔

حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ نے مذکورہ مکالمے سے انتہائی جامع اصول کا استخراج کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:

1) جب تک کوئی مضطرانہ ضرورت داعی نہ ہو، اصل یہی ہے کہ غیر مسلموں سے استغاثہ اور وہ بھی ایسی کہ جس میں ان کی تکریم ہوتی ہو، قرین عقل و دین نہیں۔

2)یہ عذر کسی طرح قابلِ سماعت نہیں کہ ہمیں صرف ان کی خدمات درکار ہیں، نہ کہ ان کا مذہب کیونکہ اس تحصیلِ خدمات کے ذیل میں ان کے ساتھ معیت اس شدت و تغلیظ کو کم کردے گی جو ایک مسلمان کا اسلامی شعار بتلایا گیا ہے اور یہی قلت تغلیظ بالآخر مداہنت ،چشم پوشی اوراعراض عن الدین کا مقدمہ لے کر کتنے ہی شرعی منکرات کے نشونما کا ذریعہ ثابت ہوگی۔

 3)مان لیا کہ ایک شخص حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جیساراسخ الایمان بھی ہے اور اشتراکِ عمل سے اس میں کوئی تزلزل بھی نہیں آسکتا لیکن یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایسی ذمہ دار ہستی کا اشتراکِ عمل عام مسلمانوں کیلیے بڑی استعانت اور زیادہ اختلاط کا دروازہ کھول دے اور عوام اپنے لئے اس طرزِ عمل کو حجت شمار کریں۔

4)جس مخلوق کی اس کے خالق نے تکریم نہ کی اور ان کو پھٹکار دیا،اس کی تکریم اور ان کو پیار کرنا شرائعِ الٰہیہ کی توہین اور افعالِ خداوندی کی صریح تکذیب ہے۔ 

5)اسلام میں سیاست محض مقصود نہیں، بلکہ محض دین مقصود ہے۔ پس اگر سیاست ہی کا کوئی شعبہ تخریبِ دین یا مداہنت وحق پوشی کا ذریعہ بننے لگے تو بے دریغ اس کو قطع کر کے دین کی حفاظت کی جائے گی ، ورنہ قلبِ موضوع اور انقلاب ماہیت لازم آجائے گا۔

(فتاویٰ عثمانیه:جلد10 صفحہ327)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ 

مسلمان کے خلاف کافر کی گواہی درست نہیں۔

(فتاوىٰ عثمانيه جلد 9صفحہ 260)

11)حضرت مولانا محمد رفعت قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ: زکوٰۃ کی تقسیم کا کام غیرمسلم کے سپرد کرنا جائز نہیں۔اس میں مسلمانوں کی تو ہین لازم آتی ہے، اور ایک غیرمسلم کی سرداری مسلمانوں پر ہوگی،اور زکوٰۃ کی رقم کا غلط استعمال ہوگا،اور زکوٰۃ دہندگان کی زکوٰۃ ادانہ ہوگی،اور اس کے ذمہ دار،انجمن کے منتظمین ہوں گے(یعنی جو شخص بھی یہ زکوٰۃ کی تقسیم کا کام غیرمسلم کو دے گا، وہ ہی ذمہ دار ہو گا)۔

(مسائل رفعت قاسمی مسائل زكوٰة جلد 5 صفحہ 190)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

کسی کافر کو اس کام پر مامور نہ کیا جائے(یعنی زکوٰۃ کی تقسیم نہ کرائی جائے)۔

( مسائلِ رفعت قاسمی: مسائلِ زكوٰة جلد 5،صفحہ190)

12)حضرت مولانا مفتی رضاء الحق صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:غیرمسلم کو قاضی نہیں بنایا جاسکتا۔اگر قاضی غیرمسلم ہو اور فیصلہ کرے تو نافذ نہیں ہوگا۔(فتاویٰ دارالعلوم زكريا:جلد8،صفحہ168)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 6 از 13