ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 5 از 13

مصنفؒ فرماتے ہیں یہ نوبت تو اب سے نو سو سال پہلے امام قرطبیؒ کے زمانہ میں پہنچ چکی تھی تو ہم اپنے اس زمانے کے متعلق کیا کہیں جبکہ اسلامی ملکوں میں شریف (دیندار) اور ذلیل( بے دین) لوگ ایک دوسرے میں غلط ملط ہو چکے ہیں۔اپنے ملکوں میں اپنے اوپر ہم نے ان کو کس قدر اقتدار دے رکھا ہے، ان کے ساتھ میل جول اور الفت و محبت کے روابط و تعلقات کتنے بڑھا رکھے ہیں؟حالانکہ ان دشمنانِ دین وملت کے ساتھ اختلاط اور ارتباط،دوستی و موالات کے حرام ہونے کے بارے میں قرآن کریم کی بہت سے واضح اور قطعی آیات اور صریح احادیث صحیحہ موجود ہیں۔

(فتاویٰ بینات، جلد2،صفحہ 107)

 )3جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی کا فتویٰ:

اثناء عشری شیعہ فرقہ جو ضروریاتِ دین اور اسلام کے مسائل قطعیہ کا منکر ہو، مثلاً:سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت کا قائل ہو یا قرآن کے بارے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی غلطی کا قائل ہو یا صدیقِ اکبرؓ کے صحابی ہونے کا منکر ہو وامثال ذالک تو یہ بالاتفاق کافر ہیں۔جن کے بارے میں علماء حق پہلے بھی کفر کا فتویٰ دے چکے ہیں۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد رکھنے والوں سے سلسلہ مناکحت اور ان کا ذبیحہ اور نذر و نیاز کی چیزیں کھانا اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا یا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اسی طرح ان کو مسلمانوں کا حاکم یا سربراہ بنانا،یہ سب

 ناجائز اورحرام ہیں۔

(بحوالہ تاریخی دستاویزصفحہ83)

4)اگر چہ پاکستان میں شیعہ آبادی دو فیصد سے زیادہ نہیں،اس کے باوجود شیعہ لیڈر اور کارکن ہر شعبے میں مساوی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ملک پاکستان میں تقریبا 60 فیصد اعلیٰ عہدوں پر فائزہ شیعہ افراد اپنی برادری کے لوگوں کی خوب پشت پناہی کرتے ہیں اور انہیں ہر قسم کا فائدہ پہنچاتے ہیں ۔

5)علامہ ابنِ تیمیہؒ نےفرمایا کہ قلبی میل جول اور محبت(جو کفار کے ساتھ ممنوع ہے) کا تعلق اگرچہ قلب سے ہے لیکن ظاہری مخالفت کفار کے ساتھ قطع تعلق میں زیادہ مؤثر ہے، اور یہ قطع تعلق مطلوب ہے۔ پھر ظاہری تعلق اگرچه قلبی تعلق کا سبب قریب یا بعید نہ بن سکے لیکن اس میں قطع تعلق کی مصلحت بھی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ ظاہری تعلق اور میل ہی کی طرف مائل کرتا ہے، جیسا کہ انسانی طبعیت اور عادت کا تقاضا ہے۔

اسی لئے اسلاف رحمہ اللّٰہ ان آیات سے(جن میں کفار سے مودت و موالات کی ممانعت ہے)اس بات پر استدلال کرتے رہے ہیں کہ سلطنت و انتظام کے امور میں بھی ان سے مدد نہ لی جائے جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ سے ذکر کیا کہ میرا ایک نصرانی

 کاتب ہے۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ناراضگی کا اظہار فرما کر کہا کہ کیا تم نے اللّٰه تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا:

 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ

 اے ایمان والوں یہود و نصارٰی کو اپنا دوست نہ بنایا کرو وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔

تم نے کسی مسلمان کو کیوں نہ کاتب بنالیا؟میں نے عرض کیا کہ مجھے اس کے لکھنے سے مطلب ہے، اور اس کا دین اسی کیلئے ہے تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ جب اللّٰه تعالی نے ان کی اہانت کی ہے، تو میں ان کا اکرام نہیں کروں گاجب اللّٰه تعالیٰ نے ان کو ذلیل کیا، تو میں ان کا اعزاز نہیں کروں گا۔ اور جب اللّٰه تعالیٰ نے انہیں دور کر دیا، تو میں ان کو قریب نہیں کروں گا۔

علامہ ابنِ تیمیہؒ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے عاملوں(وزراء) کولکھ دیا تھا کہ اہلِ کتاب سے لکھنے کا کام نہ لیا کرو،اس لئے کہ اس طرح تم میں اور ان میں محبت قائم ہو جائے گی، جو شرعاً ممنوع ہے۔اور نہ ان کیلئے کنایہ کے الفاظ استعمال کرو، اس لئے کہ یہ تعظیم و تکریم کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔

ایک اور جگہ آیتِ قرآنی لست منهم فی شئی کے ذیل میں فرمایا:کہ اسکا تقاضا یہ ہے کہ ان سے تمام امور میں احتراز کیا جائے۔

(اقتضاء الصراط المستقيم: صفحہ 22،34)

6)حضرت مولانا مفتی مہربان علی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ

 ترجمه:اے ایمان والو!مت بنا و یہود و نصارٰی کو دوست، وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے، اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں سے ہے، اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو ۔(القرآن۔سورۃالمائدة آیت51)

 وقال اللّٰه تعالیٰ:

 فَتَـرَى الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوۡنَ فِيۡهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰٓى اَنۡ تُصِيۡبَـنَا دَآئِرَةٌ‌ ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ *

 ترجمہ:اب تو دیکھے گا اُن کو جن کے دل میں بیماری ہے دوڑ کر ملتے ہیں اُن میں ، کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ نہ آجائے ہم پر گردش زمانہ کی سوقریب ہے کہ اللہ تعالی جلدظاہر فرمادے فتح یا کوئی حکم اپنی پاس سے تو لگیں اپنے جی کی چھپی بات پر پچھتانے۔(القرآن۔سورۃالمائدةآیت52)

امام ابو بکر جصاص رازیؒ اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ:ان آیات میں اللّٰه تعالیٰ نے کفار کی دوستی اور ان کے ازلال سے منع فرمایا،اور ان کی ازلال اوراہانت کا حکم فرمایا،اور ان سے مسلمانوں کے (اجتماعی) کاموں میں امداد لینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اس میں اُن کی عزت اور برتری ہے۔

اسی طرح دیگر بھی کئی آیتیں ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے اپنی عزت و وقار کو مجروح کر کے کفار سے استعانت لینا صحیح نہیں، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:

یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْابِطَانَةًمِّنْ دُوْنِكُمْ لَایَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًاؕ

 اے ایمان والو! نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا، وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں۔

صفحہ 5 از 13