ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 4 از 13

مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور مشیر نہ بنائیں،کیونکہ نصاریٰ ہوں یا یہود، منافقین ہوں یا مشرکین، کوئی جماعت تمہاری حقیقی خیر خواہ نہیں ہو سکتی، بلکہ ہمیشہ یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ تمہیں بیوقوف بنا کر نقصان پہنچا ئیں،اور دینی و دنیوی خرابیوں میں مبتلاء کریں۔ان کی آرزو یہ ہے کہ تم تکلیف میں رہو، اور کسی نہ کسی تدبیر سے تم کو دینی یا دنیوی ضرر پہنچے۔ جو دشمنی یا ضرر ان کے دلوں میں ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے۔ لیکن بسا اوقات عداوت غیظ و غضب سے مغلوب ہو کر کھلم کھلا بھی ایسی باتیں کر گذرتیں ہیں جو ان کی گہری دشمنی کا صاف پتہ دیتی ہیں ۔ مارے دشمنی و حسد کے ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی۔ پس عقلمند آدمی کا کام نہیں کہ ایسے دشمنوں کو راز دار بنائے ۔ اللّٰه تعالیٰ نے دوست و دشمن کے پتے اور موالات کے احکام بتلا دئیے ہیں، جس میں عقل ہو گی اس سے کام لے گا۔

(معارف القرآن جلد 2 صفحہ 186)۔

 اس آیت کے تحت شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللّٰه خان صاحبؒ لکھتے ہیں: 

کفار سے ترکِ موالات کے بارے میں ہم نے کھلے الفاظ میں اپنے احکام دے دیئے ہیں اور وہ آیتیں کھول کر بیان کر دی ہیں جن میں کفار کی دوستی سے روکا گیا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان یہودیوں کے بغض وعناد اور حسد و دشمنی کی نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں تاکہ ان کو فوراً پہچان لو اور ان سے علیحدہ رہو۔قومی اور ملی دشمنوں سے دوستانہ تعلقات سیاسی نتائج کے لحاظ سے بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات دشمن کو کوئی کلیدی رازوں کا پتہ چل جاتا ہے، جس سے کئی اہم جنگی اور دوسرے تعمیری منصوبے نا کام ہو جاتے ہیں۔ جنگ جیتنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی خفیہ جنگلی تدبیروں کو دشمن کی رسائی سے بالاتر رکھا جائے۔یہ وقت چونکہ مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کا تھا اس لیے مسلمانوں کو خبردار کر دیا گیا تا کہ وہ محتاط رہیں۔

(جواہر القرآن جلد1صفحہ 174)

 اس آیت کے تحت حافظ عمادالدین ابو الفداء ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں: 

حضرت عمر بن خطابؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا منشی مقرر کر لیں آپؓ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مؤمن کو بطانہ بنالوں گا جو اللّٰه تعالیٰ جل شانہ نے منع کیا ہے۔ 

اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہیئے ، ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ ان کی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے۔ (تفسير ابنِ كثيرجلد1صفحہ 456)

 2):حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰؒ اشعری نے ایک مرتبہ ایک ذمی(نصرانی) کو اپنا منشی( پی اے) مقرر کر لیا تو امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کو سرزنش و ملامت کا خط لکھا اور قرآن کریم کی یہ آیت لکھی:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ  ۖۚ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ(آل عمران:118)۔

 ترجمه:اے ایمان والو تم اپنوں کے(مسلمانوں کے) سواکسی کو بھیدی جگری دوست) مت بناؤ، وہ کوئی کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں، وہ تو چاہتے ہیں کہ تم جس قدر بھی تکلیف (اور مصیبت) میں رہو،ان کی دشمنی تو ان کی زبانو (باتوں) سے ٹیکتی ہے اور جو کچھ(عداوت) ان کے سینوں میں ہے وہ تو اس سے بہت زیادہ ہے(جوان کی باتوں سے ٹپکتی ہے) ہم نے بتا دیئے تم کو اتے پتے،اگر تم کو منتقل ہے( تو ان کی عداوت سے ہوشیار رہو)۔

ایک اور واقعہ

ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے صوبے کا میزانیہ(بجٹ) پیش کیا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو بہت پسند آیا۔سیدنافاروقِ اعظمؓ ان کا میزانیہ(بجٹ) لے کر مجلس شوریٰ میں آئے اور ان سے فرمایا تمہار ا منشی کہاں ہے؟تاکہ تمہارا یہ میزانیہ اراکین شوریٰ کے سامنے پیش کرے؟ تو انہوں نے عرض کیا وہ تو مسجد نبوی ﷺمیں نہیں آئےگا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے پو چھا کیوں؟کیا وہ ناپاکی کی حالت میں ہے؟ تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے عرض کیا: جی نہیں وہ نصرانی ہے۔ اس پر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کو سرزنش کی اور فرمایا:تم ان نصرانیوں کو اپنے سے قریب کرتے ہو؟ حالانکہ اللّٰه تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں سے دور رکھا ہے۔ تم ان کو عزت دیتے ہو؟ حالانکہ اللّٰه تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا ہے۔تم ان کو امین (معتمد علیہ) بناتے ہو؟ حالانکہ اللّٰه تعالیٰ نے ان کو خیانت کار بتلایا ہے۔

ایک اور روایت میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ سے مروی ہے کہ آپؓ نے فرمایا:اٹل کتاب(یہودیوں اور نصرانیوں) کو حکومت کا اہل کار یا افسر مت بناؤ اس لئے کہ یہ لوگ سود کو حلال سمجھتے ہیں۔تم سرکاری عہدوں پر اور رعایا پر ایسے لوگوں کو مقرر کرو جو اللّٰه تعالیٰ سے ڈرتے ہوں۔

نوسوسال پہلے کا حال

امام قرطبیؒ فرماتے ہیں لیکن اب اس زمانہ میں تو حالات بالکل بدل چکے ہیں، یہودیوں اور نصرانیوں کو عام طور پر اسلامی حکومتوں میں ذمہ دار، افسر اور کلرک مقرر کر دیا گیا ہے، اور اس طرح انہوں نے نادان و ناسمجھ عوام پر پورا اقتدار حاصل کر لیا ہے۔

 نوسوسال بعد کا حال

صفحہ 4 از 13