ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 3 از 13

اور یہ کہ اسلام دشمن طاقتیں کبھی مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتیں،ان کی اندرونی خباثت بسا اوقات ان کی زبانوں پر تو آتی رہتی ہے۔ مگروَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ جو کچھ ان کے دلوں میں چھپی ہوئی غلاظت ہے، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لہٰذا ان سے ہمیشہ خبردار رہنا چاہیئے ۔ کوئی راز کی بات ان تک نہیں پہنچنی چاہیئے ۔ اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا: قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ ہم نے اپنی نشانیاں اور احکام کھول کھول کر بیان کر دیئے ہیں۔اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو تو ان پرسختی سے عمل پیرا ہو جاؤ۔ اگر اس کے باوجود تم غیر مسلموں پر اعتماد کرو گے، ان کو وزیر مشیر بناؤ گے برے بڑے عہدوں پر فائزہ کرو گے تو پھر بہت بڑے قومی نقصان کےخود ذمہ دار ہو گے۔

اہلِ کتاب کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کرنے کے بعد اللّٰه تعالیٰ نے اہلِ کتاب، مشرکین اور منافقین سے دوستی کرنے سے منع فرما دیا، اور خبر دار کر دیا کہ اُن کو اپنے ولی رازدان نہ بناؤ ، ورنہ وہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا دیں گے۔ اُن کی حالت یہ ہے کہ جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالتی ہے، وہ اُس کو پسند کرتے ہیں، ان کی اسلام دشمنی بسا اوقات ان کی زبانوں پر آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمہارے خلاف جو بغض و عناد ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے، اس کو اللّٰه تعالیٰ ہی جانتا ہے تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمام احکام کھول کر بیان کر دیئے ہیں، اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو، تو ان کو سمجھ جاؤ اور غیر مسلموں کو اپنا دلی دوست نہ بناؤ، نہ ہی ان کو راز سے آگاہ کرو ، انہیں وزیر و مشیر نہ بناؤ کہ اس طرح تمہاری اندرونی

 باتیں اُن تک پہنچتی ہیں، جو تمہارے نقصان کا باعث بنتی ہیں، وہ تمہاری کامیابی پر کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ لہٰذا ان کی ہر وقت کوشش یہ ہوگی کہ تم کسی نہ کسی طرح ناکام ہو کر مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ۔

آج ہمارے گردو پیش یہی کچھ ہو رہا ہے۔ کافر طاقتیں مسلمانوں کے اندرونی معاملات میں دخیل ہو رہی ہیں، مسلمان اپنی نالائقی کی وجہ سے اپنے مشن سے ہٹ چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں اغیار کو رازدان بنایا جا رہا ہے،اُن سے مشورے طلب ہوتے ہیں اور پھر وہی لوگ اندرونی راز حاصل کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اُن کی ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ انہی کے دام میں گرفتار رہیں ۔ 

آج ہم نے ان کفار کو اپنا راز دار بنالیا ہے، وہ ہمیں اچھا اور خیر خواہی کا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں؟وہ تو ہمیشہ ہماری ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی لئے اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا کہ غیر اقوام کے ساتھ دلی دوستی قائم نہیں کرنی چاہیے۔

یک طرفہ محبت:

اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا:ھانتم أولا،تحبونهم: اے ایمان والو تم تو دوسروں سے محبت کرتے ہو جو لايحبونكم مگر وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔مطلب یہ کہ تم ان کفار کو اپنا راز دار بنا رہے ہو، ان کو مشیر بنا رکھا ہے، ان سے محبت بڑھا رہے ہو، مگر وہ تم سے دلی لگاؤ نہیں رکھتے ۔ لہٰذا ان کے ساتھ تمہاری محبت یکطرفہ ہے، محبت ہمیشہ جانبین کی طرف سے ہونی چاہیئے۔ لہٰذا صرف تمہاری طرف سے یک طرف محبت کوئی محبت نہیں۔ وہ تو اللّٰه تعالیٰ اس کے رسولﷺ،قرآن کے شدید ترین دشمن ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ صرف تمہاری طرف سے دوستی اور محبت اہلِ اسلام کے لئے لازماً نقصان کا باعث ہوگی۔

(معالم العرفان فی دروس القرآن جلد4 382)

 اس آیت کے تحت مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں

 يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ* یعنی اے ايمان والو! اپنے (یعنی مسلمانوں کے) علاوہ کسی کو گہرا اور راز دار دوست نہ بناؤ۔ تو اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملت والوں کے سوا کسی کو اس طرح کا معتمد اور مشیر نہ بناؤ

کہ اس سے اپنے اوراپنی ملت و حکومت کے راز کھول دو۔

ابنِ ابی حاتمؓ نے نقل کیا ہے کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ سے کہا گیا کہ یہاں ایک غیر مسلم لڑکا ہے جو بڑا اچھا

 کاتب ہے، اگر اس کو آپ اپنا منشی بنائیں تو بہتر ہو، اس پر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا یعنی اس کو میں ایسا کروں تو مسلمانوں کو چھوڑ کر دوسرے ملت والے کو راز دار بنالوں گا۔جو نصِ قرآن کے خلاف ہے۔ 

امام قرطبیؒ بڑی حسرت اور درد کے ساتھ مسلمانوں میں اس تعلیم کی خلاف ورزی اور اس کے برے نتائج کا بیان اس طرح فرماتے ہیں: 

یعنی اس زمانہ میں حالات میں ایسا انقلاب آیا کہ یہود ونصاریٰ کو رازدار و امین بنالیا گیا، اور اس ذریعہ سے وہ جاہل اغنیاء و امراء پر مسلط ہوگئے ۔

آج بھی کسی ایسی مملکت میں جس کا قیام کسی خاص نظریہ پر ہو وہاں اس نئی روش کے زمانے میں بھی کسی ایسے شخص کو جو اس نظریہ کو قبول نہیں کرتا مشیر اور معتمد نہیں بنایا جاسکتا۔ روس اور چین میں کسی ایسے شخص کو جو کیمونزم پر ایمان نہیں رکھتا ہو، کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز نہیں کیا جاتا اور اس کو مملکت کا رازدار اور مشیر نہیں بنایا جاتا ۔

اسلامی مملکتوں کے زوال کی داستانیں پڑھیں تو زوال کے دوسرے اسباب کےساتھ بکثرت یہ بھی ملے گا کہ مسلمانوں نے اپنے امور کا راز دار و معتمد غیر مسلموں کو بنالیا۔سلطنتِ عثمانی کے زوال میں بھی اس کو کافی دخل تھا۔

آیت مذکورہ میں اس حکم کی وجہ بیان کی گئی ہے: 

*لا يألونكم خبالا الخ* یعنی وہ لوگ تمہیں وبال و فساد میں مبتلاء کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھتے، اور تمہارے دُکھ پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ بعض تو ان کی زبانوں سے ظاہر ہو پڑتا ہے۔ اور جو کچھ وہ اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں، وہ اور بھی بڑھ کر ہے۔ ہم تو تمہارے لئے نشانیاں کھول کر ظاہر کرچکے ہیں،اگر تم عقل سے کام لینے والے ہو۔

صفحہ 3 از 13