ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 13

فائدہ: فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان حاکم کیلئے یہ جائز نہیں کہ اہلِ ذمہ میں سے کسی کافر کو اپنا منشی اور پیشہ کار بنائے۔ اس لیے کہ وہ کافر مسلمانوں کا خیر خواہ نہ ہوگا اور اسلامی حکومت کے راز اور امور مملکت سے اپنی ہم قوم حکومت کو مطلع کرے گا۔بلکہ جن مسلمان وزیروں اور امیروں نے کسی غیر مسلم عورت سے نکاح کر لیا یا اس کو اپنے گھر میں رکھ لیا تو پھر اسلامی حکومت کے راز غیر مسلموں پر ظاہر ہوئے اور اسلامی حکومت کو شدید نقصان پہنچا اور ان غیر مسلم عورتوں نے مسلمان شوہر سے زائد اپنے ہم مذہب کافروں کی مصلحت کا لحاظ رکھا جیسا کہ تجربہ اور تاریخ اس کی شاہد ہے۔ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا بھی یہی مسلک تھا کہ وہ غیر مسلم منشی اور پیشکار بنانے کو ناپسند فرماتے تھے، اور اسی آیت سے استدلال فرماتے تھے۔

تنبیه: شریعتِ اسلامیہ کا یہ حکم کہ غیر مسلم کو اپنا دوست اور رازدار نہ بنایا جائے اور امورِ مملکت میں اس کو دخیل نہ بنایا جائےعین حق اور معین حقیقت ہے۔

یہ امر بالکل بدیہی ہے کہ غیر مذہب والا اپنے مذہب اور اپنے اہلِ مذہب ہی کی خیر خواہی کرتا ہے دوسرے اہلِ مذہب کی خیر خواہی نہیں کرتا۔تمام مغربی ممالک کو دیکھ لیجیئے کہ وہ کبھی بھی کسی مسلمان کو وزارت اور سفارت کا منصب سپرد نہیں کرتے ۔

مگر افسوس کہ آج کل کے نام نہاد مسلمان جب اس قسم کا حکم سنتے ہیں تو اس کو تعصب اور تنگ نظری سمجھتے ہیں۔حالانکہ اگر ان کو اپنے حقیقی بھائی کی خیر خواہی پر اطمینان نہ ہو تو اس کو بھی اپنا بطانہ(راز دار) بنانا گوارا نہیں کرتے۔ مگر جب خدا تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو! جو شخص اسلام کا اور مسلمانوں کا خیرخواہ نہ ہو بلکہ ان کا دشمن اور حاسد ہو،اس کو اسلامی حکومت میں کوئی عہدہ اور منصب نہ ہو تو یہی لوگ اللّٰه تعالیٰ کے اس قانون پر نکتہ چینی کرنے لگتے ہیں۔

تمام دنیا کی حکومتوں کا یہ مسلم قانون ہے کہ حکومت میں حکومت کے باغی کو کوئی عہدہ اور منصب نہیں دیا جا سکتا باغی کو عہدہ دینا، سیاسیاتِ ملکیہ میں بالاجماع حرام ہے۔ پس اگر اسلام یہ کہتا ہے کہ اسلامی حکومت میں ایسے شخص کو کہ جو اسلام سے باغی ہو یعنی کافر ہو اس کو کوئی عہدہ اور منصب نہ دو تو اس پر کیوں ناک منہ چڑھاتے ہیں؟

اپنے بانی کیلئے عہدہ دینا تو ناجائز اور حرام ہو، اور اللّٰه تعالیٰ کے باغی اور سرکش کیلئے عہدہ دینا جائز ہو۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کا باغی تو مجرم ہے اور اللّٰه تعالیٰ کا باغی بے قصور ہے۔ تو اس کا مطلب تو یہ نکلا کہ(معاذاللّٰه)آپ کی شان،اللّٰه تعالیٰ سے بڑھ کر ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کی فانی اور مجازی حکومت سے انحراف اور بغاوت کرے تو وہ قتل اور ہمیشہ قید کا مسحق بنے اور احکم الحاکمین سے اگر بغاوت(کفر) کرے تو اس کو وزیر بنانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔یہ وسعتِ قلب نہیں بلکہ بے غیرتی ہے۔

(معارف القرآن جلد2صفحہ 39)۔

 ان آیات کے تحت حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحبؒ لکھتے ہیں

ربطِ آیات:آج کے درس میں اہلِ ایمان کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ مسلمان اہلِ کتاب کی دشمنی کے پیشِ نظر ان کو اپنا مخلص دوست نہ بنائیں۔

 کلیدی آسامیوں پر غیر مسلموں کی تقرری کا نقصان:

غیر مسلموں سے دوستی اور رازداری کرنے سے اس لئے منع فرمایا گیا کہ یہ لوگ اہلِ اسلام کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ لہٰذا کوئی راز کی بات ان تک نہیں پہنچنی چاہیئے ۔ایسا کرنے سے مسلمانوں کی ترقی اور تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ اسی لئے امام ابوبکر جصاصؒ فرماتے ہیں کہ:

کسی غیر مسلم کو اسلامی ملک میں عہدے پر فائز نہیں کرنا چاہیئے،انہیں نہ وزیر بنانا چاہئیے،نہ مشیر اور نہ ہی پارلیمنٹ کا ممبر منتخب کرنا چاہیئے کسی عیسائی، یہودی ، ہندو، قادیانی(یاشیعہ)کو وزیر یا مشیر یا افواج کا کمانڈر بنا دیا جائے تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے دور میں سیدنا حذیفہؓ نے اپنا کاتب ایک غیر مسلم کو مقرر کرنا چاہا تھا مگر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے انکار کر دیا تھا اور فرمایا جسے خدا تعالیٰ نے دور کیا تم اُسے کیوں قریب کرنا چاہتے ہو ۔

حضرت مولانا شاہ ولی اللّٰه محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ:

وثیق نامی روم کا عیسائی سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا غلام تھا، بڑا ذہین اور اعلیٰ درجے کا حساب دان تھا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا اگر تم ایمان لے آؤ تو میں تمہیں کوئی ذمہ داری کا کام سونپ دوں گا۔ مگر وہ شخص ایمان نہ لایا، اور آپؓ نے اسے کوئی عہدہ نہ دیا ۔ جب آپؓ زخمی ہوگئے تو اُسے پھر بلا کر ایمان اور عہدہ کی پیش کش کی مگروہ رضامند نہ ہوا ۔آپؓ نے اُسے آزاد کر دیا،مگر کوئی عہدہ نہ دیا۔ 

اس روایت سے یہ چیز ثابت ہوگئی کہ کسی غیر مسلم کو اسلامی حکومت میں کوئی کلیدی آسامی پیش نہیں کی جاسکتی۔اگر ایسا ہوگا تو اہلِ اسلام کے لئے لازماً نقصان کا باعث ہوگا۔

 مسلمانوں کے ساتھ بدخواہی:

غیر مسلموں کی خصلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَدُّوۡامَا عَنِتُّمۡ‌ۚوہ تمہاری مشقت کو پسند کرتے ہیں۔ان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان مصیبت میں گرفتار ہوں۔ اور دیکھو قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِم ان کی اسلام دشمنی کی بات بعض اوقات اُن کی زبانوں پر بھی آجاتی ہے۔ وہ لاکھ کوشش کریں کہ اُن کی اسلام کے ساتھ دشمنی مخفی رہے مگر پھر بھی منہ سے کوئی نہ کوئی بات ایسی نکل جاتی ہے، جو ان کی اندرونی خباثت کا مظہر ہوتی ہے۔ اسی لئے غیر مسلموں کے ساتھ دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔

صفحہ 2 از 13