ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 13 از 13

مگر ایک طبقہ، ایک گروہ، ایک جماعت دنیا کے اندرایسی بھی گزری ہے جن کے حقوق کی بات ہم ( سپاہِ صحابہؓ والے ) کرتے ہیں لیکن مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ملک میں اگر مہاجر کے حقوق کی بات ہوتی ہے تو کوئی آدمی انہیں تخریب کار اور ملک کا دشمن نہیں کہتا۔ اگر کوئی پنجاب اور مرکز کے حقوق کی بات کرتا ہے تو کوئی شخص اسے ملک دشمن اور تخریب کار نہیں کہتا۔ اگر کوئی شخص کلرکوں کے حقوق کیلئے تحریک چلائے ہوئے ہے تو اسے کوئی آدمی نہیں کہتا کہ ہمارا ملک اس وقت خطرات میں گھرا ہوا ہے آپ کچھ عرصہ کیلئے اپنے مطالبات کو ملتوی کر دیں ۔ اگر کوئی بندہ جٹ، غیرجٹ ،آرائیں، غیر آرائیں۔ اور قومیت ولسانیت کی بنیاد پر سرائیکی اور غیر سرائیکی سرحدی ، غیر سرحدی۔ پنجابی،غیر پنجابی۔ مہاجر،غیر مہاجر کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے کوئی تخریب کار نہیں کہتا۔ اسے کوئی شخص ملک دشمن نہیں کہتا۔اس جماعت کو حب الوطنی کا سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ سندھو ویش کا نعرہ لگانے والے ملک کے وفادار ہیں، ملک کے خیر خواہ ہیں لیکن اگر ملک کی عظیم جماعت سپاہِ صحابہؓ کے قائدین اور ان کے جماعت کے رفقاء، صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ کے تقدس عظمت،شرافت،ناموس اور حقوق کی بات کرتے ہیں سُنّی حقوق کی بات کرتے ہیں توانہیں تخریب کار کہا جاتا ہے، انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے۔


صفحہ 13 از 13