ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 12 از 13

جواب: مسلمانوں کی قبرستان کی خدمت ایسے شخص سے لی جائے جو قبروں کے آداب واحترام سے واقف ہو۔غیرمسلم ان احکامِ اسلامیہ سے واقف نہ ہوگا جو قبروں کے متعلق ہیں اور اس سے حفاظت قبور کی اسلامی خدمت کماحقه انجام پذیر نہیں ہو سکتی۔ اس لئے جہاں تک ممکن ہو مسلمان ملازم رکھنا لازم ہے۔ جہاں مسلمان ملازم نہ مل سکے تو مجبوری ہے۔ 

(کفایت المفتى: جلد 10صفحہ524:523)

سوال:نصیر آباد میں چند افراد نے سیرت النبیﷺ کے جلسہ کی صدارت متواتر تین روزہ کافر اور مشرک کے حوالہ کی۔آیا اس جماعت کا یہ فعل شریعتِ اسلام کے موافق ہے یا مخالف؟ تقریر کرنے والے علماء اہلسنت والجماعت تھے۔

جواب:صدر کو بسا اوقات مقررین کی تقریروں پر محاکمہ یا بعض مقررین کے بیانات پر تنقید کرنی ہوتی ہے، اس لئے کسی خاص جلسہ کی صدارت کیلئے مقصدِ جلسہ اورمتعلقاتِ مقصد کا ماہر شخص ہی موزوں ہوتا ہے۔ نیز مذہبی اجتماعات میں مذہبی حیثیت سے ممتاز شخصیت کو صدر بنانا مناسب ہے۔ بنابریں ان لوگوں کا انتخاب ناموزوں اور نا مناسب واقع ہوا۔

(کفایت المفتی:جلد 13 صفحہ 126)

سوال: ایک دشمن صحابہ کرامؓ کے حق میں ممبری کا ووٹ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اپنی نمائندگی کے لئے ایسے شخص کو رائے دینی چاہیئے جو اہلِ اسلام کی مذہبی معاشرتی سیاسی اور صحیح ترجمانی کر سکے۔ اور جو شخص اس کے خلاف کسی ایسے شخص کو رائے دے جس سے یہ توقع نہ ہو بلکہ اس میں مضرت کا اندیشہ ہو، وہ غلطی پر ہے۔اور اس اعانت کی وجہ سے گنہگار ہوگا ۔

جو شخص صحابہ کرامؓ کو گالیاں دے، حدیث شریف میں اس پر لعنت آئی ہے۔ایسے شخص سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

 (فتاویٰ محمودیہ:جلد 4 صفحہ 619)

 سوال:ایک شخص کو قبرستان میں ملازم رکھا ہے حفاظت کیلیے،بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شیعہ ہے، مگر معاملات بہت صاف ہیں ، حفاظت خوب کرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے آدمی کو رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اگر اس سے کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ نہیں ہے تو اس کو ملا زم رکھنا درست ہے۔ اگر کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہے یا احتمال ہے کہ سنیوں کی قبروں کا احترام نہیں کرے گا، بلکہ بے حرمتی کرے گا تو اس کو ملازم رکھنا درست نہیں۔

قال الله تعالیٰ:

یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْابِطَانَةً مِنْ دُوْنِكُمْ۔

قال ابوبكر الجصاس فنهى الله تعالىٰ :المؤمنين ان يتخذوا اهل الكفر بطانة من دون المؤمنين وان يستعينوا بهم في خواص امور هم واخبر عن ضمائر هؤلاء الكفار للمؤمنين فقال:لا يألونكم خبالا يعنى لا يقصرون فيما يجدون السبيل اليه من افساد امور كم لان الخبال هو الفساد:

 وكذلك عمر الى ابى موسى ينهاه ان يستعين باحد من

اهل الشرك في كتابته، وتملا قوله تعالىٰ: لا تتخذوا بطانة من دونكم، لا يألونكم خبالا

 تاہم اس سے بہتر اچھے عقائد کا آدمی اگر مل جائے تو اس کورکھنا زیادہ اچھا ہے۔

(فتاویٰ محمودیه:جلد 16صفحہ 578)

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ اقلیت کے حقوق کا تحفظ ہر ملک کی ذمہ داری ہے؟

جواب: اقلیت کے حقوق کا تحفظ صرف اُس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کی سرگرمیاں ملک کے مفاد میں ہوں اور اقلیت کی سرگرمیاں ملک کے خلاف ہو تو ان کےساتھ رعایت کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہوتا ہے۔

اس ملک میں فقہ جعفریہ کو پبلک لاء کے طور پر کسی صورت میں نافذ نہیں کیا جاسکتا ، یہ مطالبہ پاکستان کو کئی حصوں میں تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ پوری دنیا کا قانون ہے کہ پبلک لاء اکثریتی آبادی کے لحاظ سے نافذ کیا جاتا ہے۔ اورپرنسل لاء میں اقلیت کو اپنے رسم و رواج کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت ہوتی ہے بشرطیکہ اس سے کسی اکثریت کی دل آزاری نہ ہوتی ہو۔

سوال: کیا اسلامی مملکت میں کفار و مرتدین کو کلیدی عہدے دیئے جا سکتے ہیں؟

جواب : غیر مسلموں کو اسلامی مملکت میں کلیدی عہدوں پر فائز کرنا بنصِ قرآن ممنوع ہے۔ 

( آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد 1: صفحہ 65)

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جس ملک میں غیر مسلم معاہد کا درجہ رکھتے ہوں ملکی معاملات میں کیا ان کا درجہ کم تر ہوگا ؟

جواب: ہاں بعض معاملات میں کم تر ہوگا۔ ان کو حکومت کی کلید ہ آسامیوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔ قضاء اور افتاء کا کام ان کے سپرد نہیں کیا جائےگا۔

وغیر ذلک:معاملات کے اندر وہ ہمارے اسلامی قوانین کے پابند ہوں گے۔ مثلاً خریدوفروخت،اجارہ وغیرہ اور عبادات کے اندر ان کو شریعت حقہ کے مطابق ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ وہ اس میں آزاد رہیں گے۔ (فتاویٰ مفتی محمود جلد یازدهم صفحہ313)

کیا سنیوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا تخریب کاری ہے؟امیرِ عزیمت حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ:آج ہمارا ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان حالات میں ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے۔ہر آدمی،ہرطبقہ ہر جماعت واویلا کر رہی ہے شور و غوغہ کئے ہوئے ہیں کہ ہمارے حقوق غصب کئے جارہے ہیں ، ہمارے حقوق کو چھینا گیا ہے، ہمارے حقوق ہمیں واپس دلائے جائیں۔ ہر طبقے کی کوئی نہ کوئی تنظیم ،کوئی نہ کوئی جماعت کوئی نہ کوئی فرد موجود ہے جو ان کے مطالبات کو ان کی ضروریات کو،ان کے حقوق کو جو غصب کئے گئے ہیں۔ ان کے لئے تحریک چلائے ہوئے ہیں،ان کیلئے اپنی ہمت اور اپنی استطاعت کے مطابق ہر فرد،ہر جماعت اور ہر گروہ کوشاں ہے۔

صفحہ 12 از 13