ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 11 از 13

سوال: کیا اسلامی مملکت میں کفار و مرتدین کو کلیدی عہدے دیئے جاسکتے ہیں؟

جواب: غیر مسلموں کو اسلامی مملکت میں کلیدی عہدوں پر فائز کرنا بنصِ قرآن ممنوع ہے۔ 

( آپ کے مسائل اور ان کا حل:جلد2 صفحہ140)

سوال: ہمارے کالج میں ایک تقریب ہو رہی ہے جس میں مقابلہ نعت وحمد حسن قراءت،اور مقابلہ تقاریر وغیرہ ہوگا۔اس مقابلے کیلئے مہمان خصوصی ایک غیر مسلم کو چنا گیا ہے۔ علامہ صاحب ! ذرا تشریح فرمائیں کہ یہ کیسا فعل ہے؟ اس فعل کی حمایت کرنے والوں کا کیا کردار ہوگا ؟

 جواب: مقابلہ حسن قراءت اور مقابلہ حمد و نعت اگر دینی کام ہے تو اس اجلاس کی صدارت کے لئے بھی وہی شخصیت موزوں ہو سکتی ہے جو مسلمان ہونے کے علاوہ فنِ قراءت میں ماہر ہو ، اور حمد و نعت کا صحیح موازنہ کر سکتا ہو محفلِ قراءت کا مہمان خصوصی ایک غیر مسلم کو بنانا کو یا قراءت اور محفلِ قراءت کے ساتھ اچھوتی قسم کا مذاق ہے۔ ایسی محفل میں مسلمان طلبہ شرکت نہ کریں اور اس کے خلاف احتجاج کریں۔

(آپ کے مسائل اور ان کا حل:جلد 2 صفحہ628)

سوال:کیا ایک مسلم ملک میں غیر مسلم جج ہو سکتا ہے؟

 جواب :شرعاً جائز نہیں ہے۔

سوال: ایک دشمن صحابہ کرامؓ کے حق میں ممبری کا ووٹ دینا جائز ہے یا نہیں؟

 جواب:اپنی نمائندگی کے لئے ایسے شخص کو رائے دینی چاہئے جو اہلِ اسلام کی مذہبی معاشرتی سیاسی اور صحیح ترجمانی کر سکے ۔ اور جو شخص اس کے خلاف کسی ایسے شخص کو رائے دے جس سے یہ توقع نہ ہو بلکہ اس میں مسرت کا اندیشہ ہو، وہ غلطی پر ہے۔اور اس اعانت کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔جو شخص صحابہ کرامؓ کو گالیاں دے، حدیث شریف میں اس پر لعنت آئی ہے۔ ایسے شخص سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ (وہ بدبخت) مسلمانوں کی صحیح ترجمانی کرے گا؟

 (جامع الفتاوىٰ:جلد 4 صفحہ 138)

سوال:صحیح العقیدہ عالمِ دین اہلِ تشیع کے مدرسہ میں فاضل عربی کی کتب پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟وضاحت مطلوب ہے؟

جواب: بہت سی وجوہ کی بناء پر ان سے علم حاصل کرنا درست نہیں ۔مثلاً:

¹- اگر وہ کتب دینیہ ہیں تو دینی کتب ایسے اشخاص سے پڑھنے درست نہیں ۔

²-شاگرد ہونے کی صورت میں ان کی تعظیم بھی کرنی ہوگی،حالانکہ وہ اس تعظیم کے اہل نہیں ہے۔

³-ان سے مخالطت و مجالست کی وجہ سے متاثر ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔

الحاصل ان سے کچھ نفع کے ساتھ بہت سے نقصانات کا اندیشہ بھی ہے۔اور اس لئے بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ استاد کا رنگ طلبہ میں منتقل ہوتا ہے۔

(جامع الفتاوىٰ:جلد 4صفحہ214)

سوال:ایک مرحوم صاحب خیر کی ملکیت صورت میں ہے مرحوم کا کوئی وارث نہیں ہے، ان کی اس ملکیت میں 16 کرایہ دار رہتے ہیں اور وہ خود بھی اس میں رہتے تھے،انہوں نے اپنی وفات سے پہلے عمارت کی آمدنی کیلئے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے اور وصیت کی ہے کہ اس کی جو آمدنی ہو پہلے اس سے مکان کی تعمیر و مرمت کی جائے اور پھر جو رقم بچا کرے وہ محلہ کی چار مسجدوں میں تقسیم کی جایا کرے۔ مذکورہ عمارت کے کل پانچ افراد ٹرسٹی ہیں ان میں ایک شخص شیعہ آغا خانی کھو جا بھی ہے۔ ہم اہل سنت و الجماعت حنفی المسلک ایسے آدمی کوٹرسٹی (منتظم) قائم رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: واقف نے غلطی کی ہے کہ سنی ٹرسٹیوں کے ساتھ آغا خانی کوٹرسٹی بنایا۔اب اگر اس کی وجہ سے وقف کو نقصان پہنچتا ہو اور واقف کا مقصد فوت ہو جاتا ہو تو بدلا جا سکتا ہے۔ اگر قانونی طور پر اس کی منظوری ہوگئی ہو تو قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ کاروائی کی جائے تاکہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔

صورت مذکورہ میں سنی ٹرسٹیوں کی اکثریت ہے تو ایک نے اگر مخالفت کی تو وہ کامیاب نہ ہوگا، کیونکہ فیصلہ اکثریت کی رائے سے ہو گا۔بہر حال نہ سانپ بچے نہ لاٹھی ٹوٹے:کے اصول پر کام کیا جائے۔

 (جامع الفتاوىٰ: جلد 7:صفحہ 90)

سوال: ہمارے چک نمبر (221:B:E) میں موجود زکوٰۃ وعشر کمیٹیوں کی سلیکشن کی صورت میں ایک شخص نور محمد ولد عزیز بخش کو زکوٰۃ کمیٹی کا نمبر بنا دیا گیا جو کہ مرزائی ہے، بظاہر وہ اپنی ذات کو مسلمان کہلاتا ہے لیکن حقائق سے معلوم ہوا کہ وہ مرزائی ہے۔ کیا یہ شخص زکوٰۃ کمیٹی کا ممبر بن سکتا ہے؟

جواب: مرزائی ممبر مسلمانوں کے مال میں تصرف کا شرعاً مجاز نہیں ہے،خصوصاً جبکہ نظامِ زکوٰۃ کے اصول میں ہے کہ شیعہ اور مرزائی عشر و زکوٰۃ کمیٹی کا ممبر و عہدیدار نہیں بن سکتا ۔ نیز قرآن کریم میں واضح اعلان ہے کہ کافر مسلمان پر کسی قسم کا فوقیت کا اہل نہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ولین يجعل الله للكفرين على المؤمنين سبیل ہدایہ میں ہے لاتقبل شھادته ای الکافرعلی المسلم۔

(خیر الفتاویٰ جلد3،صفحہ464)

سوال: مقام مٹیلہ ملک برما میں انجمن مسلم کمیٹی قائم ہے جس کے اغراض و مقاصد میں ابھی صرف انتظام تجہیزوتکفین میت، مسافرین و نادار مسلمان ہیں۔ جس میں پانچ ممبر ہیں،اس میں اثناء عشری بھی ہیں کیا ایسے شخص کو مبر بنانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا شیخینؓ کو گالی دینے سے کفر لازم آتا ہے؟

جواب: شیخینؓ کو سبّ و شتم کرنے والے روافض کو بہت سے فقہاء نے کافر لکھا ہے،اور جو روافض سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے افک کے قائل ہیں یا سیدنا صدیق اکبرؓ کے صحابیت کے منکر ہیں یا سیّدنا علیؓ کی الوہیت کے قائل ہیں وہ باتفاق کافر ہیں۔پس ایسے روافض کو ممبر بنانا درست نہیں ہے۔

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلل ومكمل جلد5صفحہ346)

سوال: جن مسائل میں شرعی قاضی کا فیصلہ ضروری ہے ان میں غیر مسلم حاکم کا اگر قانونِ شریعت کے موافق بھی ہو، کافی ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب: غیر مسلم کو قاضی بنانا درست نہیں تھا، کیونکہ قضاء کے شرائط میں سے ہے کہ قاضی مسلمان ہو۔پس غیرمسلم حکام قاضی شرعی کے قائم مقام نہیں ہو سکتے اور ان کا فیصلہ ضرورت شرعیہ کو پورا نہیں کرسکتا۔ قاضی کو قاضی بنانا صحیح نہیں، جب تک اس میں شہادت کے شرائط نہ پائے جائیں، یعنی مسلمان ہونا،مکلف ہونا،آزاد ہونا وغیرہ۔صلاحیت منصب قضاء کیلئے چندشرطیں ہیں۔ان میں سے عاقل ہونا،بالغ ہونا،آزاد ہونا اور مسلمان ہوتا ہے۔

(كفايت المفتى:جلد11صفحہ341)

سوال: مشرکین شرعی نجس و غیر محتاط کو مسلمانوں کی قبروں کے کاموں کے ہوتے ہوئے مقرر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

صفحہ 11 از 13