ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 10 از 13

یعنی نمائندہ سنی برملا کہتا ہے کہ میں اپنا ووٹ کامیاب ہونے پر شیعہ مذکور کو چیئرمین کیلئے دوں گا بلکہ یہ شیعہ سبّی ایک سنی کو نمائندگی کیلیے کھڑا کر کے شیعہ لوگوں کو ووٹوں کے بارے میں عہد و پیماں لے رہا ہیں۔ تو عندالشریعت اگر پکا مسلمان اس شیعہ سے اپنا کیا ہوا وعدہ توڑ دے تو جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ بھی فرمادیں کہ شریعت میں شیعہ سنی کو عہد کر دینا انتخاب میں کیا ہے؟

 جواب:جو شخص صحابہ کرام (رضوان اللّٰه علیھم اجمعین)کا مخالف اور گالیاں دینے والے یا سننے والے یا سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو تہمت دینے والے کو امداد دیتا ہے وہ گنہگار ہے اور عہد اور دعائے خیر کوئی قبول نہیں،پکا سنی مسلمان اس قسم کے عہد سے باز آئے ۔ نیز ایسے سنی کہلانے والے سے بالکل ووٹ دینے کا عہد نہ کرے جس سے صحابہ کرامؓ اور امہات المؤمنینؓ کو سب و شتم بکنے والوں کی امداد کا شبہ ہو ۔ اور اگر کسی نے غلطی سے عہد بھی کر دیا ہے تو فورا وعدہ

 توڑ کر کسی دیندار پکے مسلمان کو ووٹ دیں جس سے اس قسم کے لوگوں کی امداد کا بالکل شبہ نہ ہو۔

ووٹ کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ ووٹ دینا شہادت دینا ہے۔ اس اعتبار سے غیر مستحق امیدوار کو ووٹ دینا جھوٹی گواہی دینا ہے جو گناہ کبیرہ ہے اور رسولﷺ نے جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قرار دیا ہے۔

لہٰذا اگر اس پکے سنی مسلمان نے اس کی شیعہ سے وعدہ بھی کیا ہو اور حلفاً بھی کیوں نہ کیا ہو اس پر اس ناجائز وعدے کو تو ڑنا لازم ہے اور حلفاً وعدہ کیا ہو تو دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا تین روزے رکھ دے تا کہ وہ اس گناہ کبیرہ کی جھوٹی گواہی دینے سے بچ جائے گا اور قسم سے بھی بری الذمہ ہو جائے گا۔

علاوہ اس کے ایک شیعہ غالی کو چیئرمین کیلئے ووٹ دینا اور اسے چیئرمین بنانا مسلمانوں کو دینی و مذہبی نقصان پہنچانا ہے اور ان کی دینی بر بادی ہے ۔اگر یہ پکا سنی مسلمان امیدوار شیعہ سے عہد و پیمان بھی توڑ دے پھر بھی مسلمان ووٹروں کو اس کے مقابلے میں جو دوسرے سنی مسلمان امیدوار کھڑے ہیں ان میں اپنے ووٹ کیلئے دیانت دار اور امانت دار، دین و مذہب پر سیرت وصورت کے لحاظ سے جو زیادہ پابند ہوا سے منتخب کرائیں اور سنی مسلمان نمائندہ شیعہ سے عہد و پیمان نہ توڑے تو مسلمان ووٹر ایسے امیدوار کو قطعاً ووٹ نہ دیں ورنہ مذکورہ بالا وعید حدیثیہ یعنی شرک کے برابر گنا اور کبیرہ میں پڑیں گے۔

(فتاویٰ مفتی محمود جلد11 صفحہ366)

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ مذہب اہلسنّت والجماعت کے اپنے مذہبی عالم فاضل یا اپنے مذہب کا کوئی دین دار کے ہوتے ہوئے کو چھوڑ کر دنیاوی لالچ یا وہمی دباؤ کی وجہ کر کے اہلِ شیعہ جو

سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور صحابہ کرامؓ کا سبّی شیعہ ہو اور بے نمازی وغیرہ بھی ہو۔اس کے ساتھ دستِ بیعت یا معاہدہ ہو کر وقت مقابلہ حق و باطل کا ہوتے ہوئے سرے میدان پر اہلِ سنّت والجماعت کے کوئی چند افراد اپنے مذہب کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ووٹوں سے یا معاونت سے مذکورہ شیعہ کے ساتھ دستِ بیعت کرتے ہیں جس سے اہلِ شیعہ باطل مذہب اپنے آپ کو سچا ہونا دلیل پکڑتے ہیں کہ ہم سچے ہیں، ہمارا مذہب سچا ہے۔ اہلِ سنّت والجماعت ایسے ایمان فروشوں کیلئے کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ آیا وہ افراد ایمان پر قائم ہیں اور نکاح باقی ہیں یا نہیں؟ نیز نمازِ جمعہ اس کا پڑھنا پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز دعا سلام کیسا ہے؟ اگر بے علمی کی وجہ کر کے زبانی معاہدہ کر بیٹھیں کہ ووٹ شیعہ سبّی کو دیں گے تو اس وعدہ کا عندالشریعت کیا فیصلہ ہے؟ نیز اگر اپنے مذہب کا ووٹ لینے والا کوئی نہ ہو تو اہلِ شیعہ کے لئے ووٹ استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: شیعہ امیدوار کو سنی کے مقابلہ میں ووٹ دینا نا جائز اور سخت گناہ ہے لیکن صرف چونکہ ووٹ دینا اس کے مذہب کی تصدیق اور حق سمجھنا نہیں ہے۔ لہٰذا مؤمن باقی رہے گا اس کا نکاح بھی باقی ہوگا، نمازِ جنازہ بھی اس کا پڑھا جائے گا۔ ہاں سنی کے مقابلہ میں شیعہ کو ووٹ دینا گناہ ہے اسے تو بہ کرنا لازم ہے۔

اگر شیعہ کو ووٹ دینے کا اس نے معاہدہ کر لیا ہے تو شریعت میں وہ اس معاہدہ کا پابند نہیں ہے بلکہ اسے اس کے خلاف کرنا ضروری ہے۔ اور قسم اٹھانے کی صورت میں اس کے اوپر لازم ہے کہ قسم توڑ کر سنی مسلمان کو ووٹ دے کر کفارہ یمین ادا کرے۔ اور اگر اپنا ہم مذہب کھڑا نہ ہوا ہو تو ووٹ کو استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ چونکہ کسی ایک امید وار نے منتخب ہونا ہوتا ہے اس لئے امیدواروں میں جو دین و مذہب میں اہلِ سنّت والجماعت کے قریب ہو ، دین و مذہب میں مفید ممبری کیلئے اس کے حق میں استعمال کریں ۔ (فتاویٰ مفتی محمود:جلد 11صفحہ380)

 سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس ملک میں غیر مسلم معاہدہ کا درجہ رکھتے ہوں ملکی معاملات میں کیا ان کا درجہ کم تر ہو گا ؟

جواب: ہاں بعض معاملات میں کمتر ہو گا۔ ان کو حکومت کی کلیدی آسامیوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا ،قضاء اور افتاء کا کام ان کے سپرد نہیں کیا جائے گا و غیر ذلک معاملات کے اندر وہ ہمارے اسلامی قوانین کے پابند ہوں گے۔

(فتاویٰ مفتی محمود: جلد11صفحہ 313)

 سوال: ہم نے بہت کوشش کی کہ مسجدان حرکتوں سے باز آجائیں لیکن اس کے باوجود انہیں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ تو اس صورت میں ہم ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں؟

 جواب :ان کی اصلاح کی کوشش ضروری ہے۔ لہٰذا اصلاح کی کوشش میں لگے رہیں اور جب تک ان کی اصلاح نہ ہو ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے اور نہ ہی اپنے بچوں کو ان کے پاس پڑھنے کیلئے بھیجنا چاہیے۔ 

(فتاویٰ دار العلوم زكرياجلد1صفحہ171)

 سوال: کیا غیر مسلم کی گواہی یا قضا مسلمان پر نافذ ہو سکتی ہے یا نہیں؟

جواب: بصورت مسئولہ غیر مسلم کی شہادت اور قضا مسلمان کے معاملات خصوصاً دینی امور میں نافذ نہیں ہوگی،یعنی کفار اہلِ شہادت نہیں اور جواہلِ شہادت نہیں وہ قضا کے بھی اہل نہیں ۔

واضح رہے کہ غیرمسلم ججوں کے فیصلے مسلمانوں کیلئے لازم نہ ہونے کا مسئلہ جمہور کا اجماعی اور اتفاقی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف نہیں ۔

(فتاویٰ دار العلوم زكرياجلد8 صفحہ161)

صفحہ 10 از 13