ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد…

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 1 از 13

ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔

 سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔

 اسلاف کے 50 اقوال ملاحظہ فرمائیں

¹-اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا: کہ کافر(شیعہ) کو ہمراز اوربھیدی نہ بناؤ،

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ  ۖۚ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 118)

ترجمه:اے ایمان والو نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں ، ان کی خوشی ہے تم جس قدر تکلیف میں رہو نکلی پڑتی ہے دشمنی ان کی زبانوں سے اور جو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے، ہم نے بتادیے تم کو پتے اگر تم کو عقل ہے۔

اس آیت کے تحت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی صاحبؒ لکھتے ہیں

ربط:اوپر اہلِ کتاب کے خصوص یہود کے مختلف قبائح و ذمائم مذکور ہوئے ہیں آگے اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہیں کہ یہ جب ایسے ہیں تو ان سے دوستی یا دوستانہ برتاؤ مت رکھو۔

فائدہ: یہاں پر جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز نہ بنایا جائے۔چنانچہ روح المعانی میں سیدنا حسنؓ کا تائید کرنا ایک حدیث کا جو بروایت بیہقی مشرکین کو ہمراز بنانے کی ممانعت میں آئی ہےاس آیت سے منقول ہے۔ اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں اس کو دخل دیا جائے۔ چنانچہ کبیر میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا انکار فرمانا ایک نصرانی کو منشی بنانے سے اس آیت کی بنا پر مذکور ہے اور گو شانِ نزول خاص ہے مگر عموم الفاظ سے حکم عام ہے۔

( بيان القرآن جلد1صفحہ131)

اس آیت کے تحت حضرت علامہ قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی مجددی پانی پتی صاحبؒ لکھتے ہیں

ابنِ جریرؒ اور ابنِ اسحاقؒ نے سیدنا ابنِ عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کا میل ملاپ کچھ یہودیوں کے ساتھ تھا، کیونکہ دونوں ہمسائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ میں حلیف(ہم عہد) بھی تھے۔ اس سلسلہ میں ذیل کی آیت نازل ہوئی:

 (يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ)

ترجمہ:اے اہلِ ايمان اپنے لوگوں یعنی مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کو اندرونی یارِ غار نہ بناؤ۔ بطانة رازدار،اور وہ شخص جس پر اعتماد کرکے کوئی اس کو اپنے رازوں سے واقف بنا دے۔ یعنی ان لوگوں کو اپنا یار غار نہ بناؤ جو تم سے نچلے اور کم مرتبہ والے ہیں۔ اس میں مسلمانوں کی مدح ہے کہ تمہارا مرتبہ غیر مسلموں سے زیادہ ہے۔ اور اس بات کی بھی آیت سے ہدایت(مستفاد) ہوتی ہے کہ اونچے مرتبہ والوں کے ساتھ رہو،ادنیٰ لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرو، گوشۂ نشینی برے ہم نشین سے بہتر ہے، اور اچھا ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے۔ 

 مِنۡ دُوۡنِكُمۡ کا لفظ رافضیوں،خارجیوں اور دوسرے بدعتیوں کو بھی شامل ہے، اس لئے کافروں کی طرح ان کو بھی اندرونی رازدار بنانا جائز نہیں ۔

 لَايَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕیعنی جو لوگ دوسرے مذہب پر ہیں وہ تمہارے اندر شر اور بگاڑ پیدا کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے بلکہ تمہارے اندر شر اور فساد کرنے کیلیئے اپنی پوری کوشش خرچ کر دیں گے۔

 وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ یعنی تمہارا سخت دکھ اور تکلیف میں پڑ جانا وہ دل سے پسند کرتے ہیں بلکہ کبھی قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِم٘ دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ انتہائی بغض کی وجہ سے وہ اپنے پر قابو بھی نہیں رکھتے اور ایسی باتیں کہہ گزرتے ہیں جن سے تمھیں دکھ ہو۔

وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ اور جو بغض ان کے دلوں کے اندر چھپا ہوا ہے وہ ظاہر شدہ بغض سے بہت بڑا ہے ۔ کیونکہ وہ دھوکہ اور فریب دینے کیلئے (عموماً) دوستی کا اظہار کرتے ہیں۔

 قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ ہم نے تمہارے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں کھول کر بیان کر دیں، جن سے ان کی عداوت معلوم ہو جاتی ہے یا جو دلالت کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مخلص ہونا اور مؤمنوں سے دوستی رکھنا اور کافروں سے دشمنی رکھنا واجب ہے۔

اِنْ كُنتُمْ تَعْقِلُونَ یعنی اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو کافروں کی اندرونی دوستی سے باز رہو، ان کو دشمن ہی سمجھو، اللّٰه تعالیٰ سے خلوص رکھو اور مسلمانوں سے موالات کرو۔ 

(تفسیر مظہری اردو جلد2 صفحہ 264)۔

 اس آیت کے تحت حضرت مولانا الحافظ محمد ادریس کاندھلویؒ لکھتے ہیں 

ربط:گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے صفات اور کافروں کے ذمائم اور قبائح کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ کافروں کے ساتھ خلا ملا نہ رکھو اور نہ ان کو اپنا رازدار بناؤ، کافر تمہارے دین اور دنیا دونوں کے دشمن ہیں ۔

یا یوں کہو کہ جب گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ کفر اور ظلم کی سرد ہوا نے ظالموں کے اعمال کی کھیتیوں کو تباہ و برباد کیا تو اب آئندہ آیت میں اہلِ ایمان کو نصیحت فرماتے ہیں کہ تم ان ظالموں سے خلط ملط نہ رکھنا۔مبادا ان کے کفر اور ظلم کی سرد ہوا کا اثر تمہارے اعمال کی کھیتیوں کو نقصان نہ پہنچادے۔

صفحہ 1 از 13