الامامۃ والسیاسۃ مصنفہ ابن قتیبہ عبداللہ بن مسلم - ردِ…

الامامۃ والسیاسۃ مصنفہ ابن قتیبہ عبداللہ بن مسلم

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

 ترجمہ:  ابوبکر صدیق نے دیکھا کہ کچھ لوگ ان کی بیعت نہیں کرنے آئے اور علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جمع ہیں تو ان کے پاس  ابوبکر نے عمر بن خطاب کو بھیجا عمر تشریف لائے اور انہیں آواز دی لیکن انہوں نے باہر آنے سے انکار کر دیا اس پر عمر نے ایندھن منگوایا اور خدا کی قسم کھا کر کہا کہ تمہیں نکلنا ہوگا ورنہ میں تمہیں جلا دوں گا اس پر عمر کو کہا گیا کہ اے ابو خفص گھر میں فاطمہ بھی تشریف فرما ہیں تو فرمایا ہوتی ہیں ہوتی رہیں یہ سن کر وہ باہر آئیں اور علی کے سوا سب نے بیعت کر لی کیونکہ علی نے اپنے ساتھ یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ اس وقت گھر سے باہر نہ نکلیں گے اور نہ ہی اپنے کندھے پر کہیں جانے کے لیے کپڑا رکھیں گے جب تک کہ قرآن مجید جمع نہ کر لیں فاطمہ بھی رک گئیں اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے ہاں میرے لیے کوئی عہد نہیں جو بری نیت سے آئے ہو تو تم نے نبی کا جنازہ ہمارے سامنے چھوڑ رکھا ہے اور عمارت کا فیصلہ اپنے لیے خود ہی کر لیا تم ہمیں عمارت کیوں نہیں دیتے اور ہمیں ہمارا حق واپس کیوں نہیں کرتے۔

اِقتباس نمبر 2:جب کچھ لوگ ابوبکر کے حکم سے  علی کو پکڑ کر لا رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ ابوبکر کی بیعت کیوں نہیں کرتے۔ علی نے کہا کہ اگر میں بیعت نہ کروں تو تم کیا کرو گے انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری گردن اڑا دیں گے علی بولے کہ تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی کو قتل کرو گے؟ اس پر عمر بولے کہ تم عبداللہ تو ہو لیکن حضور کا بھائی ہونا یہ تو کوئی بات نہیں ہے ابوبکر خاموش کھڑے تھے عمر نے ابوبکر صدیق سے کہا کہ آپ اس کو اپنی بیعت کا کیوں نہیں کہتے ابوبکر نے کہا کہ جب تک فاطمہ ان کے پاس ہیں میں انہیں کچھ بھی مجبور نہیں کروں گا۔ علی نے جب محسوس کیا کہ عمر مجھے چھوڑتے نہیں تو علی نبی کی قبر انور پر جا کر حاضر ہو کر رو کر عرض کرنے لگے کہ اے بھائی لوگوں نے مجھے بے بس کر دیا ہے اور میرے قتل کے در پہ ہو گئے ہیں۔

(الامامۃ والسیاسۃ: صفحہ 13 جزء اول)

 نوٹ: ان دونوں اِقتباسات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اور خصوصاً سیدنا عمر بِن خطابؓ کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے ہم اس کا تفصیلی جواب عقائد جعفریہ جلد اول اور تحفہ جعفریہ میں پیش کر چکے ہیں یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا جبراً سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرنا اور قبر رسولﷺ پر گریہ زاری کرنا یہ ہرگز اہلِ سنت کے عقائد میں سے نہیں بلکہ کتب شیعہ میں ان عقائد کی بھرمار ہے۔ لہٰذا ان کا قائل اہلِ سنت کا فرد ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی الامامۃ و السیاستہ اہلِ سنت کی کتاب ہے۔

 اِقتباس نمبر3: طلحہ اور زبیر بیعت سے فارغ ہونے پر علی کے ہاں آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے آپ کی کیوں بیعت کی ہے فرمایا میری اطاعت کے لیے اور اسی غرض کے لیے جو ابوبکر و عمر عثمان کی بیعت کرتے وقت تمہیں تمہارے پیشِ نظر تھی دونوں نے کہا کہ ہم نے بیت اس لیے کی ہے کہ امر خلافت میں ہم دونوں بھی آپ کے ساتھ شریک ہیں اور علی بولے کہ یہ نہیں ہو سکتا۔

(جزء اول: صفحہ 51)

اِقتباس نمبر 4: ابو حسین احمد بن فارسی اپنی تصنیف الصاحبی میں ابنِ قتیبہ کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ ابنِ قتیبہ منکر باتیں اور میری ناپسند باتیں درج کرتا ہے مثلاً اس نے شعبی سے ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ ابوبکر سیدنا عمر اور علی فوت ہوگئے لیکن قرآن جمع نہ کر سکے اور علی اپنی قبر میں پہنچ گئے لیکن وہ قرآن حفظ نہ کرسکے کس قدر قبیح کلام ہے۔

(مقدمۃ التحقیق علی المعارف: صفحہ 59)

 اِقتباس نمبر 5:  کان الخطاب بن نفیل من رجال قریش وامہ امرأة من فھم وکانت تحت نفیل فتزوجھا عمرو بن نفیل بعد ابیہ فولدت لہ زیدا فامہ اُم الخطاب 

(المعارف لابنِ قتیبہ: صفحہ 179 مطبوعہ مصر طبع جدید)

ترجمہ: خطاب بن نفیل ایک قریشی آدمی تھا اور اس کی ماں فہم قبیلہ سے تھی نفیل کے نکاح میں تھی نفیل کے انتقال کے بعد عمر بن نفیل نے یعنی کہ بیٹے نے ماں سے شادی کر لی پھر اس سے زید پیدا ہوا۔

 نوٹ: سیدنا عمر بن خطابؓ کے نسب پر کس قدر غلیظ ذہنیت استعمال کی گئی ہے یہی تو شیعت ہے۔

 اِقتباس نمبر 6: کانت برہ بنتِ مراخت تمیم بِن مرتحت خزیمہ ابنِ مدرکہ بِن الیاس بِن مضر فخلف علیھا ابنہ کنانة بِن خزیمہ فولدت لہ النضر بِن کنانہ 

( المعارف: صفحہ 112)

 ترجمہ: تمیم بِِن مرکی بہن برہ بنت مر کی شادی خزیمہ ابنِ مدرکہ کے ساتھ ہوئی جبکہ خزیمہ کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے کنانہ نے اس سے یعنی اپنی والدہ سے شادی کر لی تو اس سے نضر بِن کنانہ پیدا ہوا۔

 نوٹ: نبیﷺ کے نسب شریف پر یہ اعتراض کس امتی کی جرأت ہو سکتی ہے۔

 اِقتباس نمبر 7: وکانت واقدۃ من بنی مازن بِن صحصحة عند عبد مناف فولدت لہ نوفلا وابا عمرو فھلك عنھا وخلف علیھا ابنہ ھاشم بِن عبد مناف (المعارف: صفحہ112)

 ترجمہ: واقدہ نامی عورت قبیلہ بنی مازن سے تھی اور حضورﷺ کے پر دادا عبد مناف کا انتقال ہو گیا تو ان کے بیٹے ہاشم نے ان سے شادی کر لی یعنی بیٹے نے ماں سے شادی کر لی

 لمحہ فکریہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں بکواس کرنا تو کتب شیعہ میں بھرپور طریقے سے موجود ہے اگر ابنِ قتیبہ کی تحریرات یہیں رک جاتی تو ہم اسے شیعہ کہہ دیتے لیکن اس خبیث التحریر نے تو آپﷺ کے آباؤ اجداد کو بھی معاف نہ کیا اور کمال ڈھٹائی اور بے حیائی سے بلا سند اور بے اصل روایات کا سہارا لیا ہے ہم سنی کس طرح تسلیم کریں گے جبکہ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضورﷺ کے آباؤ اجداد آدمؑ سے تا حضرت عبداللہ تمام طیب و طاہر ہیں جو کہ جواہر البحارین علامہ یوسف نبھانی مواہب لدنیہ میں امام قستلانی اور مختلف تصانیف میں علامہ السیوطی نے اس کی خوب وضاحت فرمائی ہے صرف ایک حوالہ ملاحظہ ہو:

 الحاوی للفتاویٰ:ان اللہ استخلص رسولہﷺ من اطیب المناکح ونقلہ من اصلاب طاھرة الی ارحام منزھة وقد قال ابنِ عباس فی تاویل قول اللہ وتقبلك فی الساجدین ای تقلبك من اصلاب طاھرة من اب الی ان جعلك نبیا( الحاوی للفتاوی: جلد 2 صفحہ 221 للسیوطی)

صفحہ 2 از 3