الامامۃ والسیاسۃ مصنفہ ابن قتیبہ عبداللہ بن مسلم - ردِ…

الامامۃ والسیاسۃ مصنفہ ابن قتیبہ عبداللہ بن مسلم

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

الامامۃ والسیاسۃ مصنفہ ابنِ قتیبہ عبداللہ بن مسلم

الامامة و سیاست کا مصنف عبداللہ بِن مسلم ابنِ قتیبہ ہے اس کتاب میں اور اس کی ایک اور کتاب المعارف میں اس شخص نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے بارے میں بڑا زہر اگلا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے بڑھ کر اس مردودالسان سرکار دو عالمﷺ کی ذات مقدسہ کو اپنی تحریرات میں نشانہ بنایا ایسے شخص کو کون معتبر کہہ سکتا ہے بہرحال غلام حسین نجفی کی کتاب ماتم اور صحابہؓ کا ایک اقتباس پیش کر کے ہم ابنِ قتیبہ کے بارے میں اپنے اندازے سے تحقیق پیش کریں گے۔ ملاحظہ ہو:

 ماتم اورصحابہؓ: ثم جاء الی اُم خالد فرقدعندھا فامرت جواریھا وطرحن علیہ الشواذك ثم غطتہ حتیٰ قتلتہ ثم خرجن فصحن وشققن ثیابھن یا امیر المومنینؓ یا امیر المومنینؓ ثم قام عبدالملک بالامر بعدہ

( اہلِ سنت کی معتبر کتاب الامامۃ والسیاسۃ: جلد 2 صفحہ 261) 

ترجمہ: (مروان نے یزید کی زوجہ سے شادی کی تھی پھر کسی بات پر یزید کے بیٹے خالد سے ان بن ہو گئی خالد نے ماں سے شکایت کی کہ اس نے کہا میں اس کا بندوبست کرتی ہوں) پھر جب مروان رات کو گھر آ کر خالد کی ماں کے پاس سویا تو ام خالد نے کنیزوں کو حکم دیا اور کنیزوں نے اس پر لحاف ڈال کر اس کو مار ڈالا اور پھر ان عورتوں نے گریبان چاک کیے اور چلاتی ہوئی نکلی اور کہتی تھی کہ یا امیر المومنینؓ یا امیر المومنینؓ

قارئین کرام! مروان ملوانوں کے چھ خلیفوں کا باپ ہے اور اس کی موت پر بنو امیہ کی عورتوں نے گریبان چاک کیے اگر یہ بدعت ہوتا تو چھ خلیفوں کے باپ پر اس بدعت کو ہرگز نہ کیا جاتا۔ (ماتم اور صحابہؓ صفحہ 247)

 جواب اول

 اولاً الامامۃ والسیاسۃ کی ابنِ قتیبہ کی طرف نسبت ہی غلط ھے

 الامامۃ والسیاسۃ نامی کتاب کیا ابنِ قتیبہ کی تصنیف ہے المعارف لابنِ قتیبہ میں جن تصانیف ابنِ قتیبہ کا تذکرہ ہے ان میں سے اس نام کی اس کی کوئی تصنیف نہیں لکھی گئی بلکہ المعارف کے مقدمہ میں اس امر کی تردید موجود ہے۔ الفاظ یہ ہے

 مقدمة المعارف لابنِ قتیبہ:بقی بعدھذا کتاب شاعت نسبتہ الی ابنِ قتیبہ ولیس لہ وھو کتاب الامامة والسیاسة والادلة علی بطلان نسبة ھذا الکتاب الی ابنِ قتیبة کثیرة منھا

  1.   ان الذین ترجموا الابنِ قتیبة لم یذکروا ھذا الکتاب بین ما ذکروہ لہ
  2.   ان الکتاب یذکر ان مؤلفه کان بدمشق وابنِ قتیبہ لم یخرج من بغداد الا الی الدینور
  3.   ان الکتاب یروی عن لیلی وابو لیلیٰ کان قاضیا بالکوفة 148 ای قبل مولد ابنِ قتیبة بخمس وستین سنة  
  4.  ان المؤلف فقل خیر فتح الاندلس عن امراة شھدته وفتح الاندلس کان قبل مولد ابنِ قتیبہ بنحو مائة وعشرین سنة
  5.  ان مؤلف الکتاب یذکر فتح موسیٰ بن نصیر لمراکش مع ان ھذہ المدینة سیدھا یوسف بن تاشقین سلطان المرابطین سن 455 ھجری وابنِ قتیبة توفی سن 276 ھجری

 (مقدمۃ المعارف لابنِ قتیبہ مقدمہ از ڈاکٹرثروت عکاشہ: صفحہ 56 مطبوعہ قاہرہ مصر)

 ترجمہ: باقی رہی یہ بات کہ کتاب الامامۃ و السیاسۃ جو کہ ابنِ قتیبہ کی طرف منسوب ہے وہ ہرگز اس کی تصنیف نہیں ہے اور اس کے بارے میں یہ اس کی تصنیف نہیں بہت سے دلائل ہیں

 نمبر 1: کہ جن لوگوں نے ابنِ قتیبہ کے حالات لکھے انہوں نے اس کی تصنیفات میں اس کتاب کا ذکر تک نہیں کیا۔

 نمبر 2: کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مصنف دمشق کا رہنے والا تھا حالانکہ ابنِ قتیبہ بغداد میں رہائش پذیر تھا اور یہاں سے وہ دینور کے علاوہ کسی اور شہر میں ہرگز نہیں گیا۔

نمبر 3: کتاب میں ابو لیلیٰ کی روایات درج ہیں کہ ابو لیلیٰ 148 ہجری میں کوفہ کا قاضی تھا یعنی ابنِ قتیبہ کی پیدائش سے 65 سال قبل

 نمبر 4: کتاب کے مصنف نے اندلس کے فتح کے واقعہ کو ایک عورت کی زبانی بیان کیا جو اس واقعہ میں موجود تھی اور فتح اندلس 120 سال قبل پیدائش ابنِ قتیبہ ہوئی تھی۔

 نمبر 5: اس کتاب کے مؤلف نے مراکش کی فتح موسیٰ بِن نصیر کے حوالہ سے بیان کی ہے حالانکہ مراکش کو یوسف بن تاشقین نے سن 455 ھجری میں آباد کیا تھا اور ابنِ قتیبہ کا انتقال 276 ہجری میں ہو چکا تھا۔

لمحہ فکریہ: الامامۃ و سیاسۃ کا مصنف کون تھا؟صاحب مقدمۃ المعارف نے پانچ مضبوط دلائل سے اس امر کی تردید کی ہے کہ اس کا مصنف مسلم بن قتیبہ نہیں اب مسلم بن قتیبہ کو اہلِ سنت کا امام کہہ کر پھر الامامۃ والسیاسۃ کو اس کی تصنیف لکھنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ذرا انصاف سے کہیے؟

 جواب دوم

 ابنِ قتیبہ کی بعض غلیظ تحریرات: اگر بفرض محال الامامۃ و السیاسہ کو مسلم بن قتیبہ کی تصنیف تسلیم کر لیا جائے تو پھر ہم ابنِ قتیبہ کی شخصیت کی تحقیق کریں گے کہ کیا اس کے عقائد وہی ہیں جو اہلِ سنت کے معتمد اور مقبول ہیں اگر ایسا ہی ہو تو پھر کسی حد تک اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے عنوان سے الامامۃ و سیاسۃ کو پیش کیا جا سکتا ہے اگر ابنِ قتیبہ نظریاتی طور پر اہلِ تشیع کا ہمنوا نکلے پھر اس کی تصانیف کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہنا نری حماقت اور پرلے درجے کی جہالت ہو گی آیے ابنِ قتیبہ کی تصنیف الامامۃ و سیاسۃ اور المعارف سے چند اِقتباسات ملاحظہ کریں تاکہ اس کی اپنی زبانی اس کے عقائد کا اندازہ ہو سکے۔

 اِقتباس نمبر 1:ان ابا بکر تفقد قوما تخلفوا عن بیعتہ عند علی کرم اللہ وجھہ فبعث الیھم عمر فجاء فناداھم وھم فی دار علی فابوا ان یخرجوا فدعا بالحطب وقال والذی نفس عمر بیدہ لتخرجن اولاحرقنھا علی من فیھا فقیل لہ یا اباحفص ان فیھا فاطمة فقال وان خرجوا فبایعوا الاعلیا فانہ زعم انہ قال حلفت ان لا اخرج ولا اضع ثوبی علی عاتقی حتیٰ اجمع القرآن فوقفت فاطمہ علی بابھا فقالت لاعھد لی بقوم حضروا اسواء محضر منکم ترکتم رسول اللہ جنازة بین ایدینا وقطعتم امرکم بینکم لم تستامرونا ولم تردوا لناحقا

(الامامة والسیاسة: جزء 11 صفحہ 12تا13 کیف کانت بیعت سیدنا علی بن ابی طالبؓ)

صفحہ 1 از 3