مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی

  محمد علی

صفحہ 3 از 3

 الزریعہ:رسالة فی اثبات تشیع السید علی بِن شھاب الدین محمد الھمدانی للقاضی نوراللہ الشتری ذکرھا بعض الموثقین

(الزریعہ: جلد 11 صفحہ 9)

 ترجمہ: سید علی بن شہاب الدین ہمدانی کا مذہب شیعہ ثابت کرنے کے لیے نور اللہ شتری نے ایک رسالہ لکھا بعض موثقین نے اس کا ذکر کیا ہے۔

مجالس المؤمنین: التحریر الموحد الربانی السید علی الھمدانیی

متوفی 3 ربع مسکون راسیر کردہ مولانا نور الدین جعفری بدحشی کہ ازا فاضل تلامذہ اوست در کتاب خلاصہ المناقب ذکر نمودہ فرمودہ اند کے خدائی تعالیٰ مرا توفیق محبت و متابعت آل طہ ویٰسین کرامت نمودہ ورخصت موافقت غیر ایشاں نفرمودہ

قال رسول اللہ ان  اللہ عزوجل عرض حب علی و فاطمۃ وزریتھما علی البریة فمن بارد منھم بالاجابة جعل منھم الرسل ومن اجاب بعد ذالك جعل منھم الشیعة۔قالﷺ من احب ان یحیی حیوتی ویموت موتی ویدخل الجنۃ التی وعدنی ربی فلیتول علی بن ابی طالب وذریعتہ الطاھرین آئمۃ الھدی قالﷺ لما عرج بی الی السماءِ رایت علی باب الجنة مکتوبا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎وعلی حبیب الله والحسن والحسین صفوة الله وفاطمۃ امة الله علی محبھم رحمتہ الله وعلی مبغھم لعنت الله وقالﷺ اذا کان یوم القیامۃ یقعد علی بِن ابی طالب علی الفردوس وھو جبل قد علی علی الجنة فوق عرش رب العالمین ومن سفحہ ینفجر انھار الجنۃ ویتفرق فی الجنان وھو جالس علی الکرسی من نور یجری من بین یدیہ التسنیم لا یجوز احد علی الصراط الامعہ براة بولایتہ ولایة اھل بیته یشرف علی الجنة فیدخل محبہ الجنة ومبغضیه النار 

  مصنف کی ایک رباعی

 گرحب علی و ال بتولت نبود

 امید شفاعت از رسولت نبود

گرطاعت حق جملہ بجا آری تو

 بے مہر علی ہیچ قبولت نبود

 (مجالس المؤمنین تالیف قاضی نور اللہ شوستری جلددوم صفحہ 138 تا 140 ذکر سید علی ھمدانی مطبوع تہران) 

ترجمہ: سید علی ہمدانی نے تین مرتبہ چوتھے حصے زمین کی سیر کی مولانا نور الدین جعفر بدخشی نے جو اس کے لائق شاگردوں میں سے ایک ہیں کتاب خلاصۃ المناقب میں ان کا ذکر کیا کہ ہمدانی کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضورﷺ کی آل کی متابعت اور محبت عطا فرمائی ان کے علاوہ کسی اور سے مجھے کوئی پیار نہیں ہے حضور نبی کریم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے  علی و  فاطمہ اور ان دونوں کی اولاد کی محبت تمام لوگوں پر پیش کی جن آدمیوں نے سب سے پہلے اسے قبول کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں پیغمبر بنا دیا اور جنہوں نے ان کے بعد قبول کیا ان میں سے شیعہ پیدا کیے آپﷺ کا قول ہے کہ جو شخص میری زندگی کی طرح زندگی اور میری موت کی طرح موت کا خواہشمند ہو وہ جنت میں جانے کا متمنی ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کر رکھا ہے تو اسے چاہیے کہ علی بن ابی طالب اور ان کی ذریت سے پیار کرے جو کہ آئمہ طاہرین ہیں حضورﷺ نے فرمایا کہ جب مجھے معراج کرایا گیا تو میں نے جنت کے دروازے پر یہ کلمہ لکھا دیکھا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں علی اللہ کے حبیب ہیں حسن و حسین اللہ کے برگزیدہ ہیں  فاطمہ اللہ کی بندی ہے ان سے محبت رکھنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ان سے بغض رکھنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت حضور کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن علی فردوس پر بیٹھے ہوں گے جو جنت کے تمام طبقات سے بلند ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اس کے نیچے جنت کی نہریں جاری ہیں اور جنت کے مختلف درجات میں بہتی ہیں سیدنا علی وہاں ایک نور کی کرسی پر تشریف فرما ہیں سامنے سے تسنیم گزرتی ہے پل صراط سے کوئی شخص اس وقت گزر نہ سکے گا جب تک کہ اس کے پاس سیدنا علی کی ولایت کی پرچی نہ ہوگی اور آپ کے اہلِ بیت کا پروانہ نہ ہوگا سیدنا عل جنت کے اوپر سے دیکھ رہے ہوں گے سو آپ کے چاہنے والے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور آپ سے بغض رکھنے والے دوزخ میں گر پڑیں گے۔

 مصنف کی ایک رباعی ہے

 اگر تیرے دل میں علی اور ان کی آل کی محبت نہیں

 تو رسول کریمﷺ کی شفاعت کی امید مت رکھنا 

اگر اللہ تعالیٰ کی تمام عبادات تو بجا لا چکا ہے

 پھر بھی یہ سب کچھ علی کی محبت کے بغیر ہرگز تجھ سے قبول نہیں کیا جائے گا۔

توضیح: صاحب الذریعہ نے سید علی ہمدانی کو ان مصنفین میں سے شمار کیا جو شیعہ ہوئے نور اللہ شتری نے اس کے تشیع پر ایک مستقل رسالہ تحریر کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس کے شیعہ ہونے میں تردد تھا کیونکہ یہ لوگ اکثر تقیہ باز ہوئے ہیں اس لیے کہ علامہ شوستری کی مجالس المؤمنین میں ان کے شیعہ ہونے کی تصریح کی اور پھر مستقل رسالہ بھی تحریر کیا علی ہمدانی نے جو احادیث ذکر کی ہیں جن میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور آپ کی آل کی ولایت کا اقرار اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے کرایا جو پہل کر گئے وہ پیغمبر بن گئے دوسرے نمبر پر آنے والے شیعہ ہو گئے جنت کے دروازے پر لکھا گیا کلمہ یہ تمام احادیث کہاں سے اسے ملی بہرحال ان احادیث میں اس نے شیعت کو کھل کر بیان کیا اور جو کسر باقی تھی وہ رباعی میں نکال دی ان حقائق کے ہوتے ہوئے اس سے اہلِ سنت کا فرد اور اس کی کتاب مودت القربیٰ کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب قرار دینا لعنتیوں کا کام ہے تبرائی ہی ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔

یہ تھی حقیقت جو بھی ہم نے آپ قارئین کرام کے سامنے پیش کر دی ہے اس کے بعد مودة القربیٰ اور اس کے مصنف کے بارے میں کوئی خفا نہیں رہتا اور اور صراحت کے ساتھ یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ وہ کٹر شیعہ تھا اور اس پر اسے فخر تھا اس کے شاگردوں کو اس پر ناز تھا۔

 فاعتبروا یااولی الابصار


صفحہ 3 از 3