مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

 اِقتباس 3: عن ابی ذر قال قال رسول الله علی باب علمی ومبین لامتی وبغضہ نفاق والنظر الیہ رافة وموته عبادۃ رواہ ابو نعیم باسنادہ

 (ذادلعقبیٰ: صفحہ 65)

 ترجمہ: سیدنا ابوذر غفاریؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول خدا نے فرمایا کہ  علی میرا علم کا دروازہ ہے اور میرے بعد میری امت کے لیے اس شریعت کا بیان کرنے والا ہے جس کے ساتھ خدا نے مجھ کو بھیجا ہے اس کی محبت ایمان ہے اور اس کی دشمنی نفاق ہے اور اس کی طرف نظر کرنا رفعت و مہربانی ہے اور اس کی دوستی عبادت ہے حافظ ابو نعیم نے اپنے اسناد سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔

 اِقتباس نمبر 4 عن ابنِ عباس قال قال رسول الله انہ علی وشیعتہ ھم الفائزون یوم القیامة  (زاد العقبیٰ: صفحہ 85)

 ترجمہ: ابنِ عباس سے مروی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ قیامت کے دن علی اور اس کے شیعہ ہی نجات و دستکاری پائیں گے۔

اِقتباس نمبر 5: وعن عبابہ ابنِ ربیعی قال قال رسول الله انا سید النبین وعلی سید الوصیین وان الاوصیاء بعدی اثنا عشر اولھم علی واٰخرھم قائم المھدی ( زاد العقبی صفحہ 90)

 ترجمہ: عباس ابنِ ربیعی سے روایت ہے کہ جناب رسول خدا نے فرمایا کہ میں تمام پیغمبروں کا سردار ہوں اور علی تمام اوصیاء کا سردار ہے میرے بعد 12 وصی ہوں گے اور ان میں سے اول علی ہے اور آخری قائم آل محمد مہدی آخر الزمان علیہ السلام ہے

 اقتباس نمبر 6: وعن اصبغ بِن نباتہ عن عبد الله بنِ عباس قال سمعت رسول الله یقول انا وعلی والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین مطھرون معصومون (زاد العقبیٰ صفحہ 90)

 ترجمہ: اور اصبغ بِن نباتہ نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ میں اور علی اور حسن و حسین اور نو امام جو اولاد حسین سے ہوں گے پاک و پاکیزہ اور گناہوں سے معصوم محفوظ ہیں۔

 اِقتباس نمبر 7: وعن عبد الله جویشقة بِن مرة العیری عن جدہ قال اتی عمر بِن خطاب رجلان فسئلاہ عن طلاق الامۃ فانتھی الی حلقة فیھا رجل اصلع فقال یا اصلع ما تری فی طلاق الامة الخ

 ترجمہ: عبداللہ جویشقہ بِن مرہ عیری نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب کے پاس دو شخص طلاق کنیز کا مسئلہ پوچھنے آئے تب  عمر آدمیوں کے ایک حلقہ کے پاس گئے جس میں ایک اصلع شخص موجود تھا اس سے کہا کہ اے اصلع طلاق کنیز کی بابت تیری کیا رائے ہے اس نے انگلیوں سے جواب دیا اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کیا اس وقت عمر ابن خطاب اور ان دونوں شخصوں کی طرف متوجہ ہوئے ان میں سے ایک بولا سبحان اللہ ہم تیرے پاس آئے تھے اور تو امیر المؤمنین ہے اور تجھ سے ایک مسئلہ پوچھا تھا اور تو ایک ایسے شخص کے پاس آیا جس نے خدا کی قسم تجھ سے بات تک بھی نہ کی یہ سن کر عمر نے ان سے کہا تو جانتا ہے یہ شخص کون ہے اور وہ دونوں بولے نہیں عمر نے کہا یہ علی بن ابی طالب ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ وہ حضرت فرماتے تھے کہ اگر آسمان اور زمین کے رہنے والوں کے ایمان کے ترازو ایک پلڑے میں رکھا جاۓ اور  علی کا ایمان دوسرے پلڑے میں رکھ کر دونوں کو تولا جائے تو علی بن ابی طالب کا ایمان ہی سب سے بھاری ہوگا۔

(زاد العقبیٰ: صفحہ 68 تا 69)

 توضیح: کے مندرجہ بالا حوالہ جات میں صاحب مودت القربیٰ کے عقیدہ کے مطابق سیدنا علی المرتضیؓ کے علم کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہے ان کی موجودگی میں کسی کو امامت زیب نہیں دیتی بروز حشر کامیابی صرف شیعان علی کو ہوگی سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ان کے بعد تمام ائمہ اہلِ بیت معصوم ہیں اس لیے ہم انہی کی اتباع کرتے ہیں قارئین کرام یہ عقائد و نظریات رکھنے والا یقیناً اہلِ تشیع میں ہو سکتا ہے کسی سنی کو یہ عقائد زیب نہیں دیتے ان حوالہ جات کے ہوتے ہوئے نجفی کا صاحب مودت القربیٰ کو اہلِ سنت میں سے گردانہ یا تو اس کی پرلے درجے کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اگر یہی وجہ ہے تو حقیقت آشکار ہو جانے پر نجفی کو اپنے لکھے اور کیے پر معافی مانگنی چاہیے اگر یہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کچھ دین کو بیچنے کے مترادف ہے اور عوام کو دھوکہ اور فریب دینا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق وما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون خود ہی اس فریب کا شکار ہوگیا اب صاحب مودت القربیٰ کے بارے میں دوسرا طریقہ اپناتے ہیں یعنی شیعہ محققین کی کتب سے اس کے عقائد و نظریات کے بارے میں حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں ملاحظہ ہو:

صاحب مودة القربیٰ کے شیعہ ہونے پر شیعہ علماء کی نصوص سے قطعیہ

 الزریعہ:  المودۃ فی القربی للسید علی الھمدانی المتوفی سنة ست وثمانین وسبعمائة 786طبعت مع ینابیع المودة وایضا مستقلا فی سنة 1310وافراد القاضی نوراللہ المرعشی رسالة فی اثبات تشیعہ کما من فی 11، 9 و ترجمہ: فی المجالس (الذریعہ الی تصانیف الشیعہ: جلد 23صفحہ 255 مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: سید علی ہمدانی متوفی 786ء کی کتاب مودت فی القربیٰ سن 1310 میں ینابیع المودة کے ساتھ ایک جلد میں چھپی اور قاضی نور اللہ مرعشی نے اس کے شیعہ ہونے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے مجالس المؤمنین میں علی ہمدانی کا تذکرہ موجود ہے۔

 الزریعہ:اخلاق محرم للسید علی بن شھاب الدین بن محمد الحسینی الھمدانی المتوفی 786 نسبہ الیہ فی کشف الظنون ترجمہ تلمیذۃ السید نور الدین جعفرالبدخشی فی کتابہ خلاصة المناقب الذی اورد شطرا منہ القاضی نور الله فی مجالس المؤمنین 

(الزریعہ: جلد 1 صفحہ 377)

 ترجمہ: اخلاق محرم سید علی بن شہاب الدین ہمدانی کی تصنیف سے جو 786 میں فوت ہوا کشف الظنون میں اس کتاب کی نسبت اسی مصنف کی طرح کی گئی ہے کہ ہمدانی کے شاگرد سید نور الدین جعفر بدحشی نے خلاصۃ المناقب میں بھی اس کے حالات لکھے ہیں اس سے کچھ باتیں قاضی نور اللہ نے مجالس المؤمنین میں بھی درج کی ہیں۔

 الزریعہ: دیوان سید علی ھمدانی او شعرہ ھو ابنِ شھاب العارف الشھیر السیاح فی الربع المسکون ثلاث مرات وتوفی 776

(الزریعہ: جلد 3/9صفحہ 765)

 ترجمہ: سید علی ہمدانی کا دیوان یا شعروں کا مجموعہ ہمدانی مذکور ابنِ شہاب الدین ہے اور مشہور سیاح تھا تین مرتبہ پوری دنیا کی سیاحت کی آخر میں 776 ہجری میں فوت ہو گیا۔

صفحہ 2 از 3