روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

 ترجمہ: اعلام الوری میں مذکور ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی المرتضیٰؓ  نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو راستہ میں جا لیا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے پوچھا کیا ہوا کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے؟ سیدنا علیؓ نے کہا نہیں۔ل لیکن مجھے حضورﷺ نے تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم سے سورہ برات لے لوں اور میں اُسے مشرکین کے سامنے جا کر پڑھوں۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ واپس حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ حضور! آپﷺ نے مجھے ایک کام سرانجام دینے کی ذمہ داری سونپی۔ جب میں اُسے نبہانے چلا تو آپ نے وہ زمہ داری مجھ سے واپس لے لی۔ کیا میرے بارے میں کوئی حکم الٰہی نازل ہوا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا نہیں لیکن ابھی جبریل امین آئے تھے۔ اور یہ پیغام دے گئے کہ وہ کام (سورۃ براۃ کی تبلیغ) یا تو آپ خود کریں یا کسی اپنے آدمی سے کروائیں دیکھو۔ سیدنا علیؓ مجھ سے ہی ہے  وہ میرا بھائی اور وصی و وارث ہے۔ میرے اہل اور میری امت میں وہ میرا خلیفہ ہے میرے بعد وہی میرے قرضے اتارے گا اور میرے وعدے پورے کرے گا۔ لہٰذا یہ کام صرف اور صرف سیدنا علیؓ ہی کر سکتا ہے۔

 نوٹ: سیدنا علی المرتضیٰؓ کے بارے میں اس عبارت میں کس قدر واضح طور پر شیعہ نظریات بیان کیے گئے۔ حضورﷺ کے بعد آپﷺ کا وصی اور خلیفہ انہیں کہا گیا یعنی تین خلفاء کرامؓ معاذاللہ غاصب تھے۔ پھر حوالہ اس کتاب کا دیا جو از اول تا آخر مسلک شیعہ کی ترجمانی ہے۔ اعلام الوری علامہ طبرسی شیعی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کے حوالہ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ بلا فصل ثابت کرنے والا خود کٹر شیعہ ہے۔

اقتباس نمبر 6

روایت ہے کہ محمد بن حنفیہؓ اور سیدنا زین العابدینؓ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں اکٹھے ہوئے تھے اور مسئلہ امامت کے بارے میں گفتگو چل نکلی محمد بن حنفیہؓ نے کہا۔ کہ امامت کا زیادہ حقدار میں ہوں۔ کیونکہ میں امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کا نسبی بیٹا ہوں لہٰذا حضورﷺ کے جنگی ہتھیار مجھے ملنے چاہیں سیدنا زین العابدینؓ نے فرمایا کہ اے چچا خدا سے ڈر اور جس دعوے کا مسحق نہیں وہ نہ کر سیدنا محمد بن حنفیہؓ نے اپنی بات پر اصرار کیا سیدنا زین العابدینؓ نے فرمایا: کہ اے چچا جس کی امامت کی گواہی حجر اسود دے گا۔ خلیفہ وقت اور امام زمان وہ ہے اور اس بات کو قائم رکھتے ہوئے سیدنا زین العابدینؓ نے فرمایا۔ اے چچا پہلے تو خدا قادر مختار کی بارگاہ میں دعا کر کہ حجر اسود تیری امامت کی گواہی دے اور جب محمد بن حنفیہؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور حجر اسود سے گواہی کا مطالبہ کیا تو کوئی جواب نہ ملا۔ پھر محمد بن حنفیہؓ نے سیدنا زین العابدینؓ سے کہا کہ تو بھی یہی عمل کر سیدنا زین العابدینؓ نے دعا کے بعد فرمایا اے حجر اسود اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور اوصیاء کے جس عہد و میثاق کو تیرے اندر رکھ کر تجھے مشرف فرمایا ہے۔ اس کے واسطے سے فصیح عربی زبان میں مجھے خبر دے کہ سیدنا حسین بن علیؓ کے بعد امیرالمومنینؓ کون ہے۔ جب سیدنا زین العابدینؓ نے یہ بات کہی تو حجر اسود حرکت میں آیا چنانچہ قریب تھا۔ کہ اپنی جگہ سے باہر آ جائے ۔ خدا قادر مختار نے اس میں قوت گویائی پیدا فرما دی اور آواز آئی اے خدائے سزائے پرستش بتحقیق کہ امامت، بعد از حسینؓ بعلی بن حسینؓ رسیده است و امام اوست یعنی اے خدائے لائق عبادت سیدنا حسینؓ کے بعد امامت بالتحقیق علی بن حسینؓ (زین العابدینؓ) کو پہنچ چکی ہے اور امام وہ ہے۔ (تاریخ روضتہ الصفاء: جلد سوم صفحہ 543)

 نوٹ: حوالہ بالا میں امامت کا منصوص من اللہ کرنا نظر آتا ہے اور عہد میثاق کی تشریح و تفسیر پھر اس کی وجہ سے حجر اسود کا مشرف ہونا یہ وہ عقائد ہیں جن پر اہلِ تشیع کے مسلک کی بنیاد قائم ہے۔ ان چند حوالہ جات سے صاحب روضتہ الصفاء کے نظریات و معتقدات کھل کر سامنے آ گئے جن سے یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل نہیں۔ کہ یہ شخص ہرگز ہرگز اہلِ سنت میں سے نہیں ہے بلکہ امامی شیعہ ہے۔ اب ہم دوسرے طریقہ کی طرف قلم اٹھاتے ہیں یعنی کتب شیعہ میں صاحب روضته الصفاء کو کن لوگوں میں سے شمار کیا گیا۔

صاحب روضتۃ الصفاء کا تشیع کتب شیعہ سے الذريعة:

(روضة الصفاء في سيرة الانبياء والملوك و الخلفاء ) فارسى لمحمد میرخواند بن خاوند شاه بن محمد السيد برهان الدين - وفي بعض النسخ محمد بن خواوند شاه ابن محمود خاوند شاه بن كمال الدين الخرار زمي الحسيني من نسل زيد بن على بن الحسين المتوفى ثاني سنة تاريخ ذي القعده 903 عن ست وستين سنة تاریخ كَبِيرٌ فِي مُجَلدَاتِ سِتَّةٍ وَكَانَ بِنَاؤُهُ التَّكْمِيلُ بالسبع لكنه ابْتَلَى بِالْمَرَضِ وَمَا تَمَكَّنَ مِنْهُ بَدَ الْحَقَ بِهِ السَّابِعَ وَلَدُهُ صَاحِبٌ حَبِيب السير نتذْییلاً وَ تَكْمِيلًا لَهُ وَ بِالْجُمُلَةِ هُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى أَحْوَالِ الأَئِمَّةِ أَلائمہ الاثنی عَشَرَ أَيْضًا وَلَذَا احْتَمَلَ فِي الرِّيَاضِ كَوْنهُ شِيعِيًّا وَاسْتُظْهَرَ كَوْنَهُ مِنْ عُلَمَاءِ الْإِمَامِيَّةِ وَقَدْ طُبعَ فِي بمبئي 1271 وَكَتَبَهُ في خانقاه خُلَاصَةَ الَّتِي بن هاله الوزير الامير على شير في أيام مُصَاحَبَتِهِ لَہ.وَقَدْ أَخَذَ مِنْهُ وَلَدُهُ غياث الدين تاريخَہ الفَارِسِي الْمَرْسُومَ (حبيب السير) الَّذِي أَلفَه للخواجة حبيب الله من رِّجَالِ دَولة الشاه اسماعيل الصفوي في 927

(الذريعه الى تصانيف الشيعة: جلد 11، صفحہ 296 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

صفحہ 3 از 4