شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید - ردِ رافضیت | دفاع…

شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

  محمد علی

صفحہ 6 از 6

بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ ان مذکورہ عقائد کی روشنی میں ابن ابی حدید کے مسلک و مشرب کے بارے میں کوئی خفا نہیں رہتا۔ یہ کٹر شیعی ہے اور اس نے اپنی شرح شیعیت کے ترویج و اشاعت کی ہے اس لیے غلام حسین نجفی کا اسے سنی اور اس کی شرح کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہنا اسی طرح ہے جس طرح دن کو کوئی رات کہے اللہ تعالیٰ بددیانتی اور خیانت سے بچائے۔

ابنِ ابی الحدید کے غالی شیعہ ہونے پر سیدنا ابنِ کثیر کی نص

 البدایۃ والنہایة: عبد الحمید بن ھبة الله بن محمد بن الحسین ابو حامد بن ابی الحدید عز الدین المدائنی الکاتب الشاعر المطبق الشیعی الغالی لہ شرخ نھج البلاغة فی عشرین مجلدا، وکان حظیا عند الوزیر ابن العلقمی لما بینھما من المناسبة والقاربة والمشابھة فی التشیع۔ 

(البدایہ والنہایہ: جلد 13 صفحہ 199 تا200 ذکر سن 655 ہجری)

 ترجمہ:عبد الحمید بن ہبتہ الله بن ممد بن محمد بن الحسین ابو حامد بن ابی الحدید عزالدین المدائنی جو کاتب اور مکمل شاعر اور غالی شیعہ ہے اسکی ایک کتاب شرح نہج البلاغہ بیس جلدوں پر مشتمل ہے۔ وزیر ابن علقمی (شیعی) کے ہاں اسکا بڑا مقام تھا کیونکہ شیعہ ہونے کی وجہ سے دونوں میں مناسبت اور مقاربت موجود ہے۔

 نوٹ: اب فرمائیں ابنِ ابی الحدید کے شیعہ ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے جبکہ شیعہ سنی علماء نے بالاجماع ابن حدید کو شیعہ کہہ دیتا، اب اسکو سنی بنا کر الزامات قائم کرنے بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔


صفحہ 6 از 6