شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید - ردِ رافضیت | دفاع…

شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

  محمد علی

صفحہ 5 از 6

 (شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 485 پانچ بحوالہ سہم مسموم صفحہ 105)

 ترجمہ: زید بن ثابت بڑے متعصب عثمانی تھے۔ عمرو بن ثابت بھی عثمانی تھا، بلکہ علی کے دشمنوں اور ان سے بغض رکھنے والوں میں سے تھے۔ عمرو بن ثابت سے مروی ہے کہ وہ مختلف بستیوں میں سواری پر جاتا وہاں کے باشندوں کو جمع کر کے کہتا کہ علی ایک منافق شخص تھا اس نے رسول اللہ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا تو اس پر لعنت بھیجو یہ سن کر اس بستی والے علی  پر لعنت بھیجتے پھر عمر بن ثابت وہاں سے دوسری بستی کا رخ کرتا اور وہاں جا کر بھی یہی کچھ کرتا یہ معاویہ کے دور خلافت میں ہوا۔

 حوالہ نمبر 11 سھم مسموم: قال ناولنی یدك فقبلھا وقال لاتمسك النار ابدا۔

(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 484 بحوالہ سھم مسموم صفحہ 107)

 ترجمہ: ابو بردہ نے ابو العاویہ الجہنی سے کہا کہ کیا تو عمار کا قاتل ہے؟ اس نے کہا ہاں کہا پھر مجھے اپنا ہاتھ پکڑاؤ ہاتھ پکڑ کر ابوبردہ نے اسے چوما اور کہا کہ تمہیں کبھی بھی دوزخ نہ چھوئے گی۔

حوالہ نمبر 12 سیدنا علی المرتضٰیؓ کے دشمن اور امیر معاویہ کے طرف داروں کی ایک فہرست

1: ابوہریرہ 2: مغیرہ بن شعبہ 3: عروہ بن زبیر 4: خریز نے عثمان 5: مروان بن حکم 6: عمر بن سعید بن عاص7: سمرہ بن جندب 8: انس بن مالک 9: اشعت بن قیس 10: سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی 11: ابو مسعود انصاری 12: کعب بن الاخبار 13: عمران بن الحصین 14: عبداللہ بن زبیر 15: عبداللہ بن عمر 16: ابو موسی اشعری 17: ضحاک بن قیس 18: ولید بن عقبہ بن ابی معیط 19: سیدنا حنظلہ 20: وائل بن حجر 21: سیدنا مطرف بن عبداللہ 22 علاءابن زیاد 23: عبداللہ بن شقیق 24: مرہ ہمدانی 25: اسود بن یزید 26: مسروق بن اجدع 27: قاضی شریح 28: شعبی محدث 29: ابووائل شقیق بن سلمہ 30: ابو عبدالرحمٰن بن قاری 31: عبداللہ بن حکیم 32: سہم بن طریف 33: قیس بن ابی حازم 34: سعید بن مسیب 35: سیدنا زہری 36: زید بن ثابت 37: سیدنا مکحول شامی

 وکان جمہور الخلق مع بنی امیہ

 (شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 463 تا 477 بحوالہ سہم مسموم مصنفہ غلام حسین نجفی شیعی صفحہ 107)

 توضیحات: ان بارہ عدد حوالہ جات میں ابن ابی الحدید نے شیعی عقائد اور ان کے اثرات پر گفتگو کی حوالہ نمبر 2 میں یہ ثابت کرنا چاہا کہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ وغیرہ صحابہ کرامؓ میں کوئی ذاتی فضیلت نہ تھی بلکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فضائل کے مناقب میں ان حضرات کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے لوگوں سے من گھڑت احادیث کی روایت کرنے کو کہا مقصد یہ ہوا کہ صاحب فضیلت صرف علی المرتضیٰؓ ہیں۔ بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی فضیلت نہیں رکھتا یہ کس مسلک کی ترجمانی کی جا رہی ہے؟  

اسی طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ ان کے آل کے دشمن تھے اس لیے انہوں نے اپنے کارندوں کو ایسے اشخاص کا پتہ چلایا کہ جو سیدنا علیؓ اور آل علیؓ سے محبت رکھتے ہوں ان کے وظیفہ جات بند کرنے کا حکم صادر فرمایا یہی سیدنا امیر معاویہؓ جو بحوالہ مقتل ابی مخنف حسین کریمینؓ کو اپنے دور خلافت میں ہر سال 10 لاکھ دینار ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ جلاء العیون میں سیدنا حسنؓ سے منقول ہے کہ وہ سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے تحائف اور وظیفہ کی آمد کا پہلے سے اعلان کر دیا کرتے تھے کہ یہ وظیفہ حسنینؓ خود اور اپنے اعزہ و اقارب پر خرچ کیا کرتے تھے۔ حجاج کا نام تو ابن ابی الحدید نے دکھاوے کے لیے ذکر کیا ورنہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ ثابت کیا جائے کہ آپ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا نام سننا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ حالانکہ شیعوں کے معتبر کتاب امالی شیخ صدوق کے بقول معاویہ جب علی  کے فضائل سنتے تو رو دیا کرتے تھے۔ عباس اور علی  کے بارے میں یہ من گھڑت روایت سیدہ عائشہؓ کی طرف منسوب کر کے ابن ابی الحدید نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ کوئی مائی صاحبہ جب حضور سے یہ سن چکی ہیں کہ عباس و علی دین اسلام پر فوت نہ ہوں گے تو پھر ایسے آدمیوں سے ان کا قلبی تعلق کیوں کر ہو سکتا ہے۔ حالانکہ یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ بحار الانور وغیرہ میں صراحت سے یہ مذکور ہے کے سیدہ عائشہ صدیقہؓ یہ روایت کرتی ہیں کہ حضورﷺ کو سب سے زیادہ محبوب سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ تھے، تو کیا حضورﷺ کا محبوب ترین شخص وہ ہے جسے دین اسلام پر مرنا بھی نصیب نہیں اور ایسی روایت کہ ہوتے ہوئے سیدہ عائشہؓ کے خیالات کیا وہ ہو سکتے ہیں۔ جو ابن ابی الحدید نے لکھے ہیں اس کے بعد سیدنا عمر بن عاصؓ عنہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی یہ فرماتے ہیں کہ آل ابی طالب کو اپنا دوست نہیں سمجھتے تھے حالانکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ بیت کو اپنی ذات سے بھی مقدم سمجھتے تھے۔ مناقب ابن شہر میں سیدنا فاروق اعظمؓ کے مال تقسیم کرنے کا واقعہ اور ان کے بیٹے عبداللہ کا اعتراض کے ابا جان آپ نے حسنین کریمینؓ کو مجھ سے دو گنا حصہ عطا فرمایا۔ اس کے جواب میں سیدنا فاروق اعظمؓ کا یہ قول موجود ہے کہ عبداللہ ان کی والدہ تیری والدہ سے بہتر ان کا نانا تیرے نانا سے بہتر اس تصریح کے ہوتے ہوئے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو ابن ابی الحدید نے بدنام کرنے کی کوشش کی یہ سمرہ بن جندبؓ کو دین فروش اور لالچی ثابت کرنا چاہا۔

سیدنا زید بن ثابتؓ پر یہ الزام ہے کہ یہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو معاذ اللہ منافق سمجھتے تھے پھر حق شیعیت ادا کرتے ہوئے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو بھی معاف نہ کیا اور ابو موسیٰ اشعری کے فرزند ابو بردہ کو عمار بن امیہ کے قاتل کے ہاتھ چومنے والا بنا کر پیش کیا۔ آخر میں تقریباً 37 حضرات کے نام درج کر دیے جو بقول ابن ابی الحدید دشمنان علی تھے اور اہل بیت سے بغض و کینہ رکھنے والے تھے۔ اسی ابن ابی الحدید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غلام حسین نجفی نے سہم مسموم میں ان حضرات کی فہرست اس عنوان سے لکھی ہے کہ یہ لوگ دشمنانِ علی اور آل بیت ہیں۔

صفحہ 5 از 6