شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید - ردِ رافضیت | دفاع…

شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

  محمد علی

صفحہ 4 از 6

 ترجمہ: پھر معاویہ نے اپنے کار پروازوں کو خط لکھا کے عثمان کے بارے میں فضائل اور مناقب کا چرچا ہو گیا ہے ہر شہر و گاؤں میں ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو لوگوں کو اس بات کی دعوت دو۔ ابوبکر و عمر فاروق دونوں پہلے خلفاء اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں بھی عام کیے جائیں اور علی ابو تراب کے بارے میں فضائل کی جو حدیث لوگ بیان کریں۔ تم اس کے مقابلے میں جھوٹی احادیث دوسرے صحابہ کے بارے میں میرے پاس پہنچاؤ کیونکہ ایسا کرنے سے مجھے آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہو گی اور میں اس کو بہت پسند بھی کرتا ہوں اور علی اور ان کے شیعوں کی حجت کا توڑ بھی یہی ہے اور یہ بات ان کو عثمان کے فضائل سے بھی زیادہ چبھتی ہے۔ معاویہ کا یہ حکم ان کے کارندوں نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ لہٰذا اس پر عمل پیرا ہو کر لوگوں نے فضائل صحابہ کرام میں بہت سی ایسی احادیث بیان کرنا شروع کر دی جو من گھڑت تھی اور ان کی حقیقت کچھ بھی نہ تھی۔ لوگ اسی وطیرہ پر چلتے رہے۔ حتیٰ کہ مساجد کے ممبروں پر ان احادیث کا تذکرہ ہونے لگا اور دینی استادوں نے ان کی تدریس بھی شروع کر دی بچے اور غلاموں کو بھی یہ احادیث پڑھائی گئیں۔ اس حد تک ان کا پڑھنا پڑھانا جاری ہو گیا۔ جیسا کہ لوگ قرآن کریم پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ بچیوں عورتوں اور خادموں تک ان احادیث کو پڑھایا گیا یہی طریقہ بہت عرصہ تک چلتا رہا معاویہؓم نے پھر ایک اور رقعہ اپنے کارندوں کو لکھا کہ تم اپنے اپنے علاقے میں اس بات کی تحقیق کرو کہ کون شخص علی اور ان کے اہل بیت سے محبت کرتا ہے۔ جب تحقیق سے یہ بات کسی میں ثابت ہو جائے تو اس شخص کا سرکاری رجسٹر سے نام خارج کر دیا جائے اور اس کا خرچہ وغیرہ بند کر دیا جائے۔

حوالہ نمبر 4 ابنِ حدید: وروی ابو الحسن علی بن محمد بن ابی السیف المدائنی فی کتاب الاحدات قال کتب معاویةؓ نسخة واحدة الی عمالہ بعد عام الجماعة ان بریت الذمة ممن روی شیئا من فضل ابی تراب واھل بیتہ 

(شرح ابن ابی الحدید: جلد سوم صفحہ 15) 

ترجمہ: کتاب الاحدات میں ابو الحسن علی بن محمد مدائنی نے روایت کی ہے کہ معاویہ نے اپنے کارندوں کو ایک رقعہ عام الجماع کے بعد لکھا۔ جس میں یہ تحریر تھی جس شخص نے علی کو اور ان کی اہلِ بیت کی فضیلت میں کوئی ایک آدھ روایت بھی بیان کی ہے۔ حکومت اس کے تحفظ کی ذمہ دار نہ ہو گی۔

 حوالہ نمبر 5 ابنِ الحدید: فصاح بہ ایھا الامیر ان اھلی عقونی فسمرنی علی وانی فقیر بائس وانا الی صلة الامیر محتاج فتضاحك لہ الحجاج وقال للطف ما تسولت بہ قد ولیتك موضع کذا۔ 

(شرح ابن ابی الحدید: جلد سوم صفحہ 16)

 ترجمہ: حجاج کے دربار میں ایک شخص آیا اور چلا کر کہا! کہ اے امیر میرے خاندان والوں نے میرا نام علی رکھ کر مجھ سے زیادتی کی ہے۔ میں تو فقیر اور مسکین ہوں اور امیر کی طرف سے صلہ کا محتاج ہوں یہ سن کر حجاج ہنس دیا اور اسی خوشی میں انہیں ایک علاقے کا ولی بنا دیا۔

 حوالہ نمبر 6 ابنِ ابی الحدید: روی الزھری ان عروة بن الزبیر حدثه قال حدثتنی عائشة قالت کنت عند رسول اللہ اذاقبل العباس وعلی فقال یا عائشة ان ھذین یموتان علی غیر دینی۔

(شرح ابن ابی الحدید: جلد 1 صفحہ 467 بحوالہ سہم مسموم: صفحہ 102 مصنفہ غلام حسین نجفی شیعی)

 ترجمہ: عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں عائشہ نے یہ حدیث سنائی کہ میں ایک دفعہ حضور کے پاس بیٹھی تھی۔ اتنے میں ابن عباس اور علی آئے انہیں آتے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ یہ دونوں یقیناً میرے دین کے غیر پر مریں گے۔

 حوالہ نمبر 7 ابن الحدید: ان عروة زعم ان عائشة حدثته قالت کنت عند رسول اللہ اذاقبل العباس وعلی فقال یا عائشة ان سرک ان تنظری الی رجلین من اھل النار فنظری الی ھذین قد طلعا فنظرت فاذ العباس وعلی ابن ابی طالب

 (شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 467 بحوالہ سہم مسموم مصنفہ غلام حسین نجفی صفحہ 103)

 ترجمہ: عروہ کا خیال ہے کہ انہیں عائشہ نے یہ حدیث سنائی کہ میں ایک مرتبہ رسول خدا کے پاس تھی آپ نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! اگر تم بخوشی دو مردوں کو دیکھنا چاہتی ہے جو دوزخی ہیں تو دیکھ لے جو ابھی دو مرد آرہے ہیں، وہی ہیں میں نے دیکھا تو دونوں آنے والے عباس اور علی بن ابی طالب تھے۔

 حوالہ نمبر 8 سہم مسموم:  عن عمرو بن عاص قال سمعت رسول اللہ یقول ان آل ابی طالب لبسوا لی ولی اللہ والصالحون المؤمنون

(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ467 بحوالہ سہم مسموم 103)

 ترجمہ: عمر بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا کہ ابو طالب کی آل میرے دوست اور خیر خواہ نہیں ہیں اور میرا دوست اور خیر خواہ تو اللہ تعالیٰ اور صالح مؤمن ہیں۔

 حوالہ نمبر 9 سھم مسموم: قد روی ان معاویةبذل سمرہ بن جندب مائة الف درھم حتی یروی ان ھذا الایة نزلت فی علی ومن الناس من یعجبك قولہ فی الحیوة الدنیا وان الایة الثانیة نزلت فی ابن ملجم وھی قولہ تعالی ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات الله فلم یقبل فبذل له مائته الف درھم فلم یقبل فبذل لہ اربع مائة الف فقبل۔

 (شرح ابن ابی الحدید: صفحہ 7 جلد اول بحوالہ سہم مسموم صفحہ 4)

 ترجمہ: مروی ہے کہ معاویہ نے سمرہ بن جندب کو ایک ہزار درہم دینے کو کہا اور شرط یہ ہے کہ ومن الناس من یشری نفسہ الخ ابنِ ملجم کے بارے میں وہ یوں روایت کریں کہ یہ آیت علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور دوسری آیت ومن الناس من یشری نفسہ الخ ابن ملجم کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن سمرہ نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور معاویہ نے دو ہزار درہم پیش کیے تو انہوں نے پھر ٹھکرا دیے بالاخر چار ہزار درہم پر  سمرہ راضی ہو گئے اور معاویہ کی پیش کش قبول کر لی۔

حوالہ نمبر 10 سہم مسموم: وکان زید بن ثابت عثمانیا شدید فی ذالك وکان عمرو ابن ثابت عثمانیا من اعداد علی ومبغضیة روی عن عمرو انہ کان یرکب ویدور القری بالشام ویجمع اھلھا ویقول ایھا الناس ان علیا کان رجلا منافقا اردن ینغس برسول للہ لیلة العقبة فلعنوہ فیعنه اھل تلك القریة ثم یسیرا الی القریة السخری فیامرھم بمش ذالك وکان فی زمن معاویة

صفحہ 4 از 6