شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید - ردِ رافضیت | دفاع…

شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

  محمد علی

صفحہ 3 از 6

 ترجمہ: بے شک ان دونوں ابوبکر و عمر کی محبت کوئی محبت نہیں وہ لڑنے کے لیے آگے نکلے اور پھر بھاگ کھڑے ہوۓ حالانکہ وہ دونوں بخوبی جانتے تھے کے بھاگنا گناہ عظیم ہے۔ ان دونوں نے حضورﷺ کے عظیم جھنڈے کو ذلت اور رسوائی کا لباس اور کپڑے پہنا دیے۔

 توضیح: سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے ایسے خیالات سے آپ خود انداذہ لگا سکتے ہیں کہ کس مسلک و مذہب کے ماننے والے ہوسکتے ہیں۔ گناہ عظیم کے مرتکب اور حضورﷺ کے جھنڈے کو رسوا کرنے والے کہنا کن عقائد کی نشاندہی کر رہے ہیں تو معلوم ہوا کے ابن ابی الحدید بھی دیگر شیعوں کی طرح شیخین کا گستاخ ہے۔

 فاعتبروا یااولی الابصار

حوالہ نمبر 2 ابنِ حدید: فاما علی فانہ عندنا بمنزلة الرسولﷺ فی تصویب قولہ والاحتجاج بنعلہ ووجوب طاعتہ ومتی صح عنہ انہ قد بری من احد من الناس برئنامنہ کائنا من کان ولکن الشان فی تصحیح ما یروی عنہ علیہ السلام فقد اکثر الکذب علیہ وولدت العصبیۃ احادیث لا اصل لھا فاما براته علیہ السلام من المغیرة وعمروبن العاص ومعاویة فھوعندنا معلوم جار مجری الاخبار المتواترة فلذالك لایتولاھم اصحابنا ولایثنون علیھم وھم عند المعتزلة فی مقام غیر محمود

(شرح نہج البلاغة ابن حدید: جلد چہارم صفحہ 462 فی رائی الشارح رواعلی ماکتبه الزیدی الخ مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: بہرحال علی المرتضیٰ ہم معتزلی شیعوں کے نزدیک اپنے قول کے صائب ہونے اور ان کے فعل سے احتجاج کرنے کے معاملہ میں اور اطاعت کے وجوب کے معاملہ میں آپ حضورﷺ کے مرتبے کے مالک ہیں اور جب علی کی طرف سے یہ بات پایہ ثبوت و صحت کو پہنچ جائے کہ آپ فلاں شخص سے ناراض ہیں تو ہم بھی اس سے ناراض رہیں گے۔ چاہے وہ کوئی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ سے بہت سی روایات ایسی ذکر کی گئی ہیں جن میں کثر کذب بیانی اور تعصب سے کام لیا گیا ہے۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے سیدنا علی المرتضیٰ کا  مغیرہ، عمر بن عاص، اور معاویہ سے بیزار ہونا تو یہ معاملہ ہمارے نزدیک خبر متواتر کے قائم مقام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اصحاب نہ تو ان سے محبت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی مدح سرائی کرتے ہیں اور متزلہ کے نزدیک یہ لوگ مقام غیر محمود میں ہیں۔

 توضیح: اس عبارت میں ابن ابی الحدید نے اہلِ تشیع کے دو خیالات کی تائید کی ہے کہ انہیں اپنا عقیدہ بتلایا ہے کہ اول یہ کہ سیدنا علی المرتضٰیؓ قول و فعل اور موجبِ اطاعت میں رسول اللہﷺ کا درجہ رکھتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ سیدنا علی المرتضیٰ جس سے ناراض ہوں ہم بھی اس سے بیزار ہیں چاہے وہ کوئی ہو اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ابن ابی الحدید کے عقیدہ کے مطابق یہ سب حضرات وہ ہیں جن سے سیدنا علی المرتضٰیؓ ناراض تھے۔ اس مقام پر ابن ابی الحدید نے صرف تین حضرات کا نام لیا یہ اس کا تقیہ ہی کہہ لیجیے ورنہ "کائنا من کان" کے الفاظ کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ اس کا ثبوت اگلے حوالہ جات سے ہم پیش کریں گے جس میں اس نے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم کو بھی اس زمرے میں شامل کیا ہے۔ اہلِ تشیع کا یہ وطیرہ ہے کہ اپنا تبرائی عقیدہ اشارۃً کنایۃً بیان کرتے رہتے ہیں۔ فروع کافی میں ایک مقام پر یہ انداز اپنایا گیا کہ جعفر اول دوم اور سوم پر تبرہ کیا کرتے تھے۔ بہرحال ان دونوں حوالہ جات سے ابن ابی حدید کے شیعہ ہونے کا ثبوت کافی و وافی موجود ہے۔

حوالہ نمبر 3 ابنِ حدید: ثم کتب الی عمالہ ان الحدیث فی عثمان قدکثر وفشافی کل مصر وفی کل وجہ وناحیة فاذا جاءکم کتابی ھذا فادعوا الناس الی الروایة فی فضائل الصحابة والخلفاء الاولین ولاتترکوا خبرا یرویہ احد من المسلمین فی ابی تراب الا واتونی بمناقض لہ فی الصحابة مفتعلة فان ھذا احب الی واقر لعینی وادحض لحجۃ ابی تراب وشیعتہ واشد الیھم فی مناقب عثمان وفضلہ قرئت کتبہ علی الناس فرویت اخبارا کثیرة فی مناقب الصحابة مفتعلة لاحقیقة لھا وجد الناس فی روایة مایجری ھذالمجری حتی اشادوا بذکر ذالک علی المنابر والقی الی معلمی الکتاتیب فعلموا صبیانھم وغلمانھم من ذالك الکثیر الواسع حتیٰ رووہ وتعلموہ کما یتعلمون القرآن وحتی علموہ بناتھم ونسائھم وخدمھم وحشمھم فلبثوا بذالك ماشاء الله ثم کتب الی عمالہ نسخة واحدة الی جمیع البلدان انظروا الی من اقامت علیہ البینه انه یحب علیا واھل بیتہ فامحوہ من الدیوان واسقطو اعطاءه ورزقه

(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: جلد سوم صفحہ 16 فیما فعلتہ بنو امیہ من الامور التی وجبت وضع کثیر من الاحادیث مطبوعہ بیروت طبع جدید) 

صفحہ 3 از 6