شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید - ردِ رافضیت | دفاع…

شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

  محمد علی

صفحہ 2 از 6

 الذریعة: شرح نہج للشیخ عز الدین ابی حامد عبدالحمید بن ھبة الله ابن ابی الحدید المعتزلی المولود فی المدائن سنة 586 والمتوفی ببغداد سنۃ 655 ھو فی عشرین جزء طبع بطھران جمیعھا فی مجلدین فی سنة 1270وطبع بعد ذالك فی مصر وغیرھا مکرر اوقد الفه للوزیر مؤید الدین ابی طالب محمد الشھیر بابن العلقمی وکتب له اجازۃ روایته وقد رایت صورة الاجازة روایتہ وقد رایت صورۃ الاجازة فی اخر بعض اجزائه فی مکتبة الفاضلیة قبل ھدمھا ولعلھا نقلت الی الرضویة کما انه نظم القصائد (السبع العلویات) المطبوعہ بایران فی 1317 ایضا للوزیر ابن العلقمی وقد رایت نسختھا التی کانت علیھا خط ابن العلقمی فی مکتبة العلامه الشیخ محمد السماوی 

 (الذریعه الی تصانیف الشیعہ: جلد نمبر 14 صفحہ 158 تا 159 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: نہج البلاغہ کی شرح (شرح ابن ابی الحدید) جسے شیخ عزالدین ابو حامد عبدالحمید بن ہبتہ اللہ ابن ابی الحدید معتزلی نے لکھا یہ شارخ مدائن میں 586 میں پیدا ہوا اور 655 کے کو بغداد میں فوت ہوا اس کی 20 جلدیں ہیں اور 1270 سن میں تہران میں یہ شرح دو جلدوں میں چھپی پھر مصر اور دوسرے شہروں میں کئی مرتبہ چھپیں۔ یہ شرح ابن ابی الحدید نے اپنے دور کے ایک وزیر موید الدین ابی طالب محمد کے حکم پر لکھی جو کہ "ابن العلقمی" کے لقب سے مشہور تھا۔ مصنف نے وزیر موصوف کو اس کتاب کی روایت کی بھی اجازت دی، میں نے اس اجازت نامہ کی تحریر خود مکتبہ فاضلیہ میں دیکھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ مکتبہ فاضلیہ ابھی قائم تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس مکتبہ کی بربادی سے کچھ عرصہ کا پہلے یہ منتقل ہو کر مکتبہ رضویہ میں چلی گئی ہو اسی طرح ابن ابی الحدید نے وزیر ابن العلقمی کی فرمائش پر سات مشہور قصیدے بھی لکھے جو 1317 میں ایران میں طبع ہوۓ میں نے وہ نسخہ بھی دیکھا کہ جس پر ابن العلقمی کی تحریر تھی یہ نسخہ علامہ شیخ محمد سماوی کے مکتبہ میں تھا۔

 الکنی الالقاب: ابنِ العلقمی ھو الوزیر ابو طالب موید الدین محمد بن محمد (احمد خ ل) بن علی العلقمی البغدادی الشیعی کان وزیر المعتصم اخر خلفاء بنی عباس وکان کاتب خبیر بتدیر الملک ناصحا لاصحابه وکان امامی المذھب صحیح الاعتقاد رفیع الھمة محبا للعلماء والزھاد کثیرا المبار ولاجله صنف ابن ابی الحدید شرح النھج فی عشرین مجلدا والسبع العلویات توفی فی 2 جمادی الآخر سنۃ 656 (خون) وقد یطلق علی ابنیه شرف الدین ابی القاسم علی بن محمد۔

(کتاب الکنی والالقاب تصنیف شیخ عباس قمی جلد الاول صفحہ 362 مطبوعہ تہران طبع جدید)

ترجمہ:"ابنِ القعلمی" یعنی ابو طالب موید الدین محمد بن محمد بن علی العلقمی بغدادی الشیعی معتصم کا وزیر تھا۔ جو کہ بنی عباس کے خلفاء میں سے سب سے آخری خلیفہ تھا۔ یہ وزیر کاتب تھا ملکی معاملات کو بخوبی سمجھتا تھا۔ اپنے دوستوں کا خیر خواہ تھا۔ مذہب میں کٹر امام شیعہ تھا ہمت کا بعد اور علمائے و زہاد سے محبت رکھنے والا تھا۔ اسی لیے کہ ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی اور سات مشہور قصیدے بھی اسی کے حکم پر لکھے ابن علقمی 2 جمادی الاخر سنہ 656 کو فوت ہوا اور اس کا ایک بیٹا تھا۔جسے شرف الدین ابو القاسم علی بن محمد کہتے ہیں۔

 لمحہ فکریہ: اوپر جن دو کتب کے حوالہ جات نقل کیے گئے یہ اہلِِ تشیع کی معتبر اور مستند کتابوں میں سے ہیں اور ان دونوں کتابوں کی تصنیف و تالیف کا مقصد بھی یہی تھا کہ کتب اہلِ تشیع کی نشاندہی کی جائے لہٰذا کتاب الکنی والالقاب اور الزریعہ سے اس وزیر کا شیعی ہونا ثابت ہو گیا۔ جس نے ابن ابی الحدید سے نہج البلاغہ کے شرح لکھوائی اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شان میں قصیدے کہلوائے بعض کتب میں تو اس امر کی تصریح بھی موجود ہے کہ وزیر موصوف نے ابن ابی الحدید کو مذکور شرح لکھنے پر ایک لاکھ دینار بھی دیے تھے۔ علاوہ ازیں اور بھی تحائف دیے گئے اس کی تفصیل علامہ نور بخش توکلی مرحوم نے تحفہ شیعہ جلد اول صفحہ 133 پر لکھی ہے۔

 اس قدر خطیر رقم دینا اس امر کی دلیل ہے کہ ابن ابی الحدید نے اس شرح میں وہی کچھ لکھا جو وزیر ابن العلقمی کو پسند و مقبول تھا اور ایک کٹر امام شیعہ یہ کیسے پسند کرتا ہے کہ اس کی فرمائش پر لکھی جانے والی کتاب میں شیعوں کے بجائے سنیوں کے عقائد اور خیالات درج ہوں اور ان سات قصاعد میں سے ایک کے شعر میں وہ خود ابن ابی الحدید نے اس امر کی وضاحت بھی کر دی کہ وہ شیعہ ہے اور ہماری کتب اہلِ سنت میں ابن الحدید کو شیعی بالتصریح لکھا گیا۔

ملاحظہ ہو۔

 کشف الظنون: نہج البلاغہ:فقد شرحه عزالدین عبدالحمید بن ھبةاللہ المدائنی الکاتب الشاعر الشیعی فی عشرین مجلدا وتوفی سن 655 

(کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون: جلد 2 صفحہ 1991 مطبوعہ بیروت طبع جدید) 

ترجمہ: نہج البلاغہ کی ایک شرح عزالدین عبدالحمید بن ھبۃ اللہ مدائنی شیعی نے لکھی ہے۔ جو 20 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اور اس کا انتقال سن 655 ھ میں ہوا۔

ابن ابی الحدید کے شیعی عقائد خود اس کی زبانی: گزشتہ حوالہ جات تو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابن عبدالحدید معتزلی شیعی تھا اور ایک شعر میں خود اس نے اس کا اقرار بھی کیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ خیال آئے کہ شعر میں ابن ابی حدید نے شاید اپنے محسن وزیر ابن علقمی کو خوش کرنے اور اس سے کچھ وصول کرنے کے لیے اس کے معتقدات کے مطابق لکھ دیا ہو ورنہ وہ خود ہو سکتا ہے کہ اہلِ تشیع سے نہ ہو تو ہم اس خیال کی تردید میں خود اس کی شرح سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ کتاب الکنی والالقاب الذریعہ اور کشف الظنون وغیرہ نے اس کے مذہب کی جو نشاندہی کی ہے وہ درست ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

 حوالہ نمبر 1 ناسخ التواریخ:  ابنِ حدید کے دو عدد اشعار 

 وان انس لا انس اللذین تقدما

 وفرھما والفرقد علصنعوب

 واللرایة العظمی وقد ذھبابھا

 ملابسذل فوقھا وجلابیب

میگوید ۔ بااینکہ دانستند ابوبکر وعمر فرار ازجنگ گناہ عظیم است مرتکب ایں گناہ شد ند۔ ورائت پیغمر رالباس ذلت بیوشیدند۔ 

(ناسخ التواریخ حالات حضرت رسول خداﷺ. جلد دوم صفحہ 275 وقائع سال ہفتم ہجرت مطبوعہ تہران طبع جدید)

صفحہ 2 از 6