شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید - ردِ رافضیت | دفاع…

شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

  محمد علی

صفحہ 1 از 6

کتاب الاول

 شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید

"سہم مسموم" نامی کتاب میں غلام حسین نجفی نے ایک حوالہ پیش کرنے سے قبل لکھا۔

  شرح ابنِ ابی الحدید: اہلِ سنت کی معتبر کتاب میں لکھا ہے:

 رَوَی الزّہرِی اَنَّ عُروَةَ بن الزُبَیر حَدثهُ قَالَ حَدَّثَنِی عَائِشَةُ قَالَت کُنتُ عِندَ رَسُولِ اللہﷺ اِذَا قَبِلَ العَبَّاسُ وَ عَلِیٌّ فَقَالَ یَاعَائِشَةَاِنَّ ھٰذَین یَمُوتَانِ عَلٰی غَیرِ دِینِی۔

(سہم مسموم:  صفحہ 102 متبوعہ لاہور)

 ترجمہ: عروہ نے عائشہ سے روایت کی کہ میں ایک دن نبیﷺ کے پاس تھی اور عباس اور علی آئے نبی کریمﷺ نے فرمایا اے عائشہ یہ دونوں میرے دین پر نہ مریں گے۔ حوالہ اور اس کی عبارت آپ نے ملاحظہ کی۔

پھر"اہلِ سنت کی معتبر کتاب" سے جب یہ حوالہ پیش کیا گیا ہے تو ہر قاری یہی سمجھے گا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سیدنا علیؓ اور سیدنا عباسؓ سے انتہائی بغض و عداوت تھی اور اسی عداوت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ان دونوں کو حضورﷺ کے دین پر مرنے کے بجائے کسی اور دین پر مرنا ثابت کیا ہے۔ لہٰذا شیعہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سنی جس شخصیت کو "ام المؤمنین" اور امت کی نیک ترین عورت کہتے ہیں اس کا باب العلم اور علمبردار سیدنا حسینؓ کے بارے میں یہ خیال ہے کہ اب اس ڈھول کا پول ہم کھولتے ہیں اور شیعہ علماء کی زبانی اس کتاب کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ یہ کس طرح "اہلِ سنت کی معتبر کتاب ہے" ملاحظہ ہو:

ابنِ ابی الحدید تشیع پسند ہے شیخ عباس قمی

 الکنی والاقاب: (ابن ابی الحدید) عز الدین عبدالحمید بن محمد بن محمد بن الحسین بن ابی الحدید المدائنی الفاضل الادیب المورخ الحکیم الشاعر شارخ نہج البلاغة المکرمة وصاحب القصائد السبع المشہورو کان مذھبه الاعتزال کما شھد لنفسه فی احدی قصائدہ فی مدح امیرالمؤمنین ع بقولہ

 ورایت دین الاعتزال واننی

 اھوی لاجلك کل من یتشیع

 (الکنی والاقاب: جلد اول صفحہ 193 مطبوعہ تہران طبع جدید) 

 ترجمہ: عزالدین عبدالحمید بن محمد بن الحسین بن ابی الحدید المدائنی الفاضل الادیب المؤرخ الحکیم الشاعر نہج البلاغہ کا شارخ ہے اور سات مشہور قصیدوں کا قائل ہے۔ مذہب کے اعتبار سے معتزلہ تھا۔ جیسا کہ اپنے بارے میں خود اسے معتزلہ ہونے کا اقرار ہے اور یہ اقرار اس نے ایک قصیدہ میں کہا ہے جو اس نے سیدنا علی مرتضیٰ کی شان میں کہا" اور میں اپنے آپ کو معتزلہ سمجھتا ہوں اور میں آپ کی وجہ سے ہر شیعہ کہلانے والے کو دل سے چاہتا ہوں"

نوٹ: ابن ابی الحدید کا باوجود معتزلی ہونے کے "تشیع" کو پسند کرنا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شخص جن لوگوں میں زندگی بسر کر رہا تھا وہ معتزلی ہوتے ہوئے تشیع کو اپنائے ہوئے تھے بلکہ تشیع ان کے لیے ضروری تھا اور اس کا ثبوت ابن ابی الحدید کے مقدمہ میں یوں مذکور ہے۔

ابنِ ابی الحدید معتزلی شیعہ تھا مقدمہ کتاب

مقدمہ شرح ابنِ ابی الحدید: ولد فی المدائن فی غرۃ ذی الحجۃ سنة ست وثمانین وخمسمائة ونشابھا وتلقی عن شیوخھا و درس المذھب الکلامیة ثم مال الی مذھب الاعتزال منھا وکان الغالب علی اھل المدائن التشیع والتطرف والمقالاة فسار فی دربھم وتقبل مذھبھم ونظم القصائد المعروفة بالعلویات علی طریقتھم وفیھا غالی وتشیع وذھب بہ الاسراف فی کثیر من ابیاتھا کل مذھب یقول فی احداھا۔ 

 ورایت دین الاعتزال واننی 

اھوی لاجلك کل من تشیع 

(شرح ابن ابی الحدید تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم الجزء الاول صفحہ 14 مقدمہ نوٹ 12 جلدوں میں جو شرح ابن حدید چھپی ہے اس کے مقدمہ میں مذکورہ عبارت موجود ہے)

 ترجمہ: ابنِ ابی الحدید مدائن میں پیدا ہوا۔ اس کا سن پیدائش 586 ہجری ہے اور مدائن میں پرورش پائی اور اسی کے شیوخ سے استفادہ کیا۔ اور مذہب کلامیہ پڑھا پھر اعتزال کی طرف پلٹ گیا ان دنوں اہلِ مدائن میں شیعیت غالب تھی اور اس بارے میں غلو اور ادھر ادھر کی بہت سی باتیں ان میں موجود تھیں اس نے بھی ان کی روش اختیار کی۔

"اور ان کے مذہب کو اپنا لیا اس نے "علویات" نامی مشہور قصیدے بھی لکھے۔ جن میں اہلِ مدائن کے معتقدات بھی بیان کیے اور ان میں اس نے غلو بھی کیا ہے اور تشیع کا اظہار بھی۔ ان قصاعد میں بہت سے اشعار میں مذہب اعتزال کا اعتراف میں اظہار کیا۔ اسی کا ان قصائد میں بھی ایک شعر یہ بھی ہے۔

"میں نے مذہب اعتزال اختیار کیا اور تیری وجہ سے ہر اس شخص سے محبت کرتا ہوں جو تشیع رکھتا ہے۔"

لمحہ فکریہ: ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ابن ابی الحدید از خود اقراری ہے کہ وہ معتزلی شیعہ تھا کیونکہ جس علاقہ میں اس کی نشوونما ہوئی ان لوگوں میں یہ مرض بکثرت تھا اس نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی جیسے شرح ابن ابی الحدید کہا جاتا ہے یہ شرح اس دور کے ایک وزیر ابن علقمی نامی کے کہنے پر لکھی گئ جو شیعہ تھا۔ سات مشہور قصیدے سیدنا علی المرتضیؓ کی شان میں لکھے اور وہ بھی اسی وزیر کی فرمائش تھی۔

 قارئین کرام! نہج البلاغہ کی شرح لکھنے کا حکم بھی شیعہ وزیر دے، اور لکھنے والا خود اپنا شیعہ ہونا تسلیم کرے تو پھر یہ کیوں کر ممکن کہ اس شرح کو وہ مسلک اہلِ سنت کے مطابق اور ان کے معتقدات کے موافق تحریر کرے اس لیے سیدہ عائشہؓ سے روایت کہ جس سے سیدنا علیؓ اور سیدنا ابن عباسؓ کا دین مصطفوی کے غیر پر مرنا مذکور ہوا وہ قطعاً اہلِ سنت کا مؤقف نہیں ہے بلکہ مسلک اہلِ تشیع کا نمونہ ہے جس سے محض بدنام کرنے کے لیے سیدہ عائشہؓ کی طرف منسوب کر کے اپنا اُلو سیدھا کیا گیا۔ وزیر موصوف کہ جس کے حکم پر یہ سب کچھ ابن ابی الحدید نے کیا ذرا اس کے بارے میں کتب شیعہ سے حوالہ ملاحظہ کریں کہ وہ کس مسلک کا آدمی تھا؟

ابنِ ابی الحدید نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ ایک شیعہ وزیر کے حکم پر لکھی شیعہ علماء کا بیان

صفحہ 1 از 6