پاکستان میں موجود، ایرانی سفارت خانے یا دہشت گردی کے اڈے؟ -…

پاکستان میں موجود، ایرانی سفارت خانے یا دہشت گردی کے اڈے؟

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 3

 (7) ایران نے دوسرے ملکوں میں اپنی سفارتوں کے ذریعے اپنے مخالفوں کی فہرستیں تیار کیں، اور ان کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے گئے ۔ اب تو ایرانی حکومت نے دہشت گردوں کو دوسرے ملکوں میں اپنے سفارت کار بنا کر بھیجنا شروع کر دیا ہے تا کہ الزام کی صورت میں ان کیلئے سیاسی تحفظ حاصل کیا جا سکے، ان کا کام منصوبہ بنانا ہوتا ہے، اصل تخریب کاری مقامی لوگوں سپاہِ محمد ( پاکستان میں شیعہ کی دہشت گرد تنظیم) وغیرہ تنظیموں کے کارکنوں سے کروائی جاتی ہے۔ 

(ایران افکار و عزائم: صفحی 66)

 ایران کے بعض سفارتی نمائندوں کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ پاکستان کے اندر ایسی کاروائیوں میں شریک رہتے ہیں جو منصب سفارت کے شایان شان نہیں ہیں۔ یہ تاثر پروپیگنڈے اور غلط اطلاعات کی بنیاد پر بھی قائم ہو سکتا ہے لیکن اس کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ اس کو ایرانی سفارت خانے کے (ظاہراً) احتجاجی اور پاکستانی وزارت خارجہ کے معذرتی بیانات سے زائل نہیں کیا جاسکتا کہ (اس کو صرف پروپیگنڈہ ہی قرار دیا جائے ، بلکہ اس دہشت گردی و تخریب کاری کے واقعات کی مثالیں آپ کو بکثرت مل جائیں گی، جس میں ایرانی سفیر ملوث ہوں گے )۔ اس سے سلگتے جذبات مزید بھڑک سکتے ہیں۔ 

(ایران افکار و عزائم صفحہ 72)

 (9) یہاں تک کہ ان کے لیڈروں کو قتل کرنے کیلئے اپنے سفارتی کارکن اور سفارت ایران کی سیاسی گاڑیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ دوسرے ملکوں میں اپنے مخالفوں سے نمٹنے کیلئے حکومت ایران نے ایک خاص تنظیم سکواڈ قائم کی ہے۔ قاہرہ کے عربی اخبار الاهرام 8:12:1992 کے مطابق خطہ کے تمام انتہا پسند لیڈروں کے مستقل مراکز ایران میں ہیں ، ان کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں اسلحہ کے استعمال اور تخریب کاری کی تربیت دی جاتی ہے۔ 

القدس سکواڈ کے کمانڈو کا سب سے بڑا تربیتی مرکز تہران کی امام علی یونیورسٹی میں واقع ہے۔ اس یونیورسٹی میں مختلف ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) کے نو جوانوں کو اعلیٰ فوجی اور دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے، اور ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر دوسرے ملکوں میں ہر طرح کی تخریب کاری کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔

بغداد کے عربی روزنامہ (المجمہوریہ: 4:1:1992) نے انکشاف کیا کے صدر رفسنجانی نے اپنے سلامتی اور خفیہ ایجنسیوں کے وزیر آقائی فلاحیاں اور القدس سکواڈ کے کمانڈر احمد وحیدی کو حکم دیا ہے کہ دوسرے ملکوں میں ایران کے مخالفین کے قتل کے منصوبوں کو جلد ازجلد عملی جامہ پہنائیں ۔ 

(ایران افکار و عزائم صفحہ 39) 

 (10) اسی طرح اسکندریہ میں چند گرفتار شدہ مصری تخریب کاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایران کے شہر مشہد میں تربیت حاصل کی ، انہوں نے بتایا کہ وہاں تقریباً پندرہ سو نوجوان زیرِ تربیت تھے جن کا تعلق مصر، الجزائر ، تیونس، سعودی عرب اور پاکستان سے تھا۔ 

(ایران افکار و عزائم صفحہ 39) 

 (11) ایرانی سفیر اور مقامی شیعہ:

 شاہ کے زمانے میں ایرانی حکومت کی ہدایات تھیں کہ سفیر صاحب تہران سے باہر جائیں تو ان کی وزارت خارجہ کو اپنے پروگرام کی تفصیل بتا کر پہلے ان سے اجازت لیں ۔ ایران میں ہمارے سفیروں کو اتنی جرأت نہیں ہوتی (یا شاید ان کو احساس ہی نہیں ہوتا ) کہ ایرانی بلوچستان یا کردستان جا کر وہاں سنی لیڈروں سے ملیں اور سنی مسلک کے لوگوں کی حالت زار کا مطالعہ کریں ، اور اپنی حکومت کو رپورٹ دیں ۔ شاید ہماری حکومت کو بھی اس کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانہ اور پاکستان میں بکھرے ہوئے مختلف شہروں میں ایران کے کوئی نصف درجن سے زیادہ ثقافتی مراکز ( خانہ ہائے فرہنگ) میں ایرانی نمائندوں کے مقامی شیعوں کے ساتھ باقاعدگی سے اجلاس ہوتے ہیں اور اللہ جانے کیا موضوع زیر بحث آتے ہیں اور کیا فیصلے ہوتے ہیں۔

کیا ہمارے سلامتی کے حساس اداروں نے کبھی یہ معلوم کرنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ ایران کے سفارتی نمائندے اور ان کے ثقافتی مراکز کے افسران اور اہلکار اس ملک میں کیا معاملات زیر بحث لاتے ہیں؟ ان کے سفارت خانے اور مراکز فرہنگی میں ایران کے جن مشہور تخریب کاروں کو ہم نے سفارتی تعیناتی کی اجازت دے رکھی ہے اور بے شمار سیاسی مراعات دے رکھی ہیں ، وہ دراصل پاکستان میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ ان کی مقامی شیعوں کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات ہیں اور ان کے درمیان کیا منصوبہ بندی ہوتی ہے؟ ایسے حالات میں جبکہ ایرانی حکومت نے ہمارے خلاف بھارت ، شمالی اتحاد اور دنیا کی دوسری اسلام دشمن طاقتوں سے ساز باز کر رکھی ہے، ہمارے لئے ان کی اس حکمت عملی کا مطالعہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔

 اطلاعات کے مطابق ایرانی سفارت کاروں اور مقامی شیعہ لیڈروں کی ملاقاتوں میں،پاکستان میں مختلف تخریب کاری کے منصوبوں کی تیاری کے علاوہ پاکستان کے معروف افراد کی درجہ بندی کر کے ان کی فہرستیں بھی بنائی جاتی ہیں ۔ مثلاً 

 (1) کن افراد کو مروانا ہے۔

 (2) کن افراد یا اداروں کو رشوت یا لڑکیوں کا نذرانہ دے کر خریدا جا سکتا ہے۔

 (3) کن افراد کو تخریب کاری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ 

(4) کن اشاعتی اور اخباری اداروں، ان کے ایڈیٹروں اور رپوٹروں اور مختلف شیعہ مخالف افراد کو صرف ڈرانے دھمکانے سے ہی اپنی راہ پر لایا جا سکتا ہے۔

 یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایرانی حکمرانوں کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی، پاکستان کے خلاف بغض و حسد کی آگ ان کے سینوں میں ہمیشہ جلتی رہتی ہے۔ ایران کے سیاسی نمائندے اپنے مقامی شیعہ گماشتوں کے ساتھ مل کر اس بات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ کس طرح پاکستان میں انتشار اور افراتفری کا عمل تیز کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ان کو ہر طرح کی مالی ، اخلاقی اور مادی امداد دی جاتی ہے۔ 

(ایران اور عالم اسلام: صفحہ 81) ۔ 

 (12) ایران اور پاکستان نے معاہدہ کیا کہ ایک دوسرے کو مجرم حوالہ کریں گے

 1۔ بی بی سی: 2:6:1991 کے مطابق پاکستان اور ایران نے

 مجروموں کو ایک دوسرے کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں ۔اس طرح پاکستان نے آخر کار ایران کا یہ پرانا مطالبہ پورا کر دیا ہے۔

صفحہ 2 از 3