پاکستان میں ایرانی انقلاب لانے کے لیے شیعہ کے ماتمی سنگ میل…

پاکستان میں ایرانی انقلاب لانے کے لیے شیعہ کے ماتمی سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا پاکستانیو! ہوشیار ہو جاؤ۔۔۔۔!

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 2

اللہ تعالی نہ کرے، اللہ تعالی نہ کرے پاکستان کے ساتھ ایران کی جو دشمنی ہو رہی ہے۔ کل اگر امریکہ، ایران کو کہہ دیں کہ پاکستان پر حملہ کر لیں، وہاں سے اتنے آرڈر کی دیر ہے اور اگر محرم کا مہینہ ہو تو ہر روڈ پہ، ہر شہر میں، ہر گلی میں، پہلے سے ان کی فوج (خنجر اور اسلحہ بردار جلوس کی شکل میں) موجود ہے۔ انہیں ایران سے فوج بھیجنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ پھر یہ میرے افسران، یہ میری پولیس، یہ میرے رینجرز کے جوان، یہ میرے فوجی جوان، جو ہمیں کہتے ہیں کوئی بات نہیں گزر جانے دو، ان افسران میں سے وہ جس کو چاہیں یرغمال بنا لیں گے۔ جب کمانڈر اور آفیسر یرغمال بن گیا، تو پھر کیا سپاہی بغیر آرڈر کے گولی چلائیں گے؟ اس وقت کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔

سنیو۔۔۔! خدارا دوست اور دشمن میں پہچان کر اپنی غیرت کو سنبھال، سپاہ صحابہؓ تمہیں بتا چکی ہیں۔ کہ تیرے دروازے تک قبضہ ہو چکا ہے۔ اب آگے تیری مرضی تو بھیگی بلی بن جاتا ہے۔آنکھیں بند کر لیتا ہے، دشمن آ کر تیرا گلا دبوچ لے یا تو پھر غیرت کا اظہار کرتا ہے، غیرت کا مظاہرہ کرتا ہے، اور آئندہ دشمن سے کہتا ہے کہ میرے گھر، میری مسجد، میرے بازار، میرے شہر، میری دکانوں اور میرے مدرسے کے سامنے آنے کی ضرورت نہیں اور نہ میں آپ کو اس راستے پر آنے کی اجازت دوں گا۔ماتم کرنا اگر تیری عبادت ہے تو اسے اپنے "ایمان بگاڑے" میں ادا کر۔ (امام اہلِ سنت کا پیغام سنی قوم کے نام، صفحہ17)

 ماتم سے اشتعال انگیزی پھیلتی ہے، ماتم اگر عبادت ہے تو بازاروں میں کیوں؟

شیعہ اکابرین کہتے ہیں کہ عزاداری ان کے دین اور عبادتوں کی روح ہے اور شیعوں کی شہہ رگ حیات ہے۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ عبادت جو عبادت گاہوں کے اندر ہونی چاہیے تھی وہ گلی کوچوں اور سڑکوں پر ہو رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کے مسلم اکثریت کو اشتعال دلاکر مذہبی فرقہ واریت میں بے پناہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گویا یہ عبادت نہیں شرارت ہے۔ (ایران اور عالم اسلام، صفحہ 45)

ماتم اور نشریاتی اداروں کا جرم:

ہمارے ملکی اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ (جن میں شیعوں کا کچھ زیادہ ہی عمل دخل ہے) بھی ان غیر اسلامی کاروائیوں کی مذمت کرنے کی بجائے اُلٹا ان کی حوصلہ افزائی اور تشہیر میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہ تمام اخبارات بڑی بڑی شہ سرخیوں کے ساتھ یہ لکھ کر غلط طور پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ"پاکستانی قوم" نے یومِ عاشوراء پوری عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جبکہ۔۔۔ عزاداری کی یہ رسومات پاکستان کی صرف دو فیصد شیعہ اقلیت مناتی ہے اور سنی اکثریت اس سے دور رہتی ہے۔ساتھ ہی سینہ کوبی اور زنجیر زنی کے مکروہ اور خبیث مناظر کی تصاویر کو تقدس دے کر بڑھ چڑھ کر چھاپتے ہیں۔

دراصل ہماری حکومت اور اس کے تقریبًا تمام اداروں کے بیشتر سربراہ اسلام مخالف شیعہ قوم کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان کی تمام کاروائیوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے کہ یا تو ان کے گھر والیاں، یا بہو، بیٹیاں، شیعہ عقیدہ رکھتی ہیں، اور اپنے زن مرید مسلمان مردوں پر آسانی سے اثر ڈال کر ان کو اپنی حمایت پر آمادہ کر لیتی ہیں۔ 

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ 45)

 ماتم میں حکمرانوں کا جرم:

دیکھا گیا ہے کہ محرم کے دوران ہمارے حکمران اپنے تمام تر وسائل اور ذرائع (فوج، پولیس، خفیہ ادارے وغیرہ) کو استعمال میں لا کر اس بات کا پورا اہتمام اور انتظام کرتے ہیں کہ ان مضحکہ خیز شعبدہ بازوں کی پوری طرح حوصلہ افزائی اور تشہیر ہو اور ان کو ہر ممکن تحفظ دیا جا سکے۔ کیا ہمارے حکمران قیامت کے دن اللہ تعالی جلّ شانہ کہ حضور اپنی ان کاروائیوں کے لیے جواب دہ نہیں ہوں گے؟ 

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ45)




صفحہ 2 از 2