ایرانی انقلاب کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایرانی انقلاب کی حقیقت

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 3 از 3

ہم اس وقت اپنے تمام سنی بھائیوں سے جو آمریت پسند دنیا میں آباد ہیں درخواست کرتے ہیں کہ وہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کریں جو ان کے خلاف شیعوں کی جانب سے جاری ہے۔ اور ایران میں ہمارا اقتصادی استحصال کیا جا رہا ہے، ہمارے عقائد اور دین کو خطرہ ہے۔ ہم کب تک ان مظالم اور زیادتیوں کو جو اسلام کے نام پر جاری ہیں برداشت کریں گے؟ اور اس کا مقابلہ کریں گے؟ خمینی انقلاب کا مقصد یہ ہے کہ صفوی دور حکومت کو پھر دوبارہ واپس لایا جائے تاکہ مذہبِ حق اہلِ سنت کے افراد جو کہ بلوچستان میں ہیں ان کو مٹا دیا جائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس انقلاب نے علاقوں میں اہلِ سنت کی تنظیموں کو نیست و نابود نہیں کر دیا ہے؟ اور اہلِ سنت کے پیشوا علامہ احمد مفتی زادہ اور چارسو علماء و نوجوانان اہلِ سنت شاہی قید خانہ "اوین تہران" میں مقید نہیں؟ واضح طور پر یہ ایرانی انقلاب سوویت یونین کیلئے راہ ہموار کر رہا ہے تا کہ لادینیت اور لامذہبیت بلو چستان، مکران اور کردستان میں پھیلائے اور مذہبِ اسلام کو ختم کرے۔ خدا کی قسم ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ایرانی انقلاب کونسا اسلام لانا چاہتا ہے؟

(خمینی ازم اور اسلام، صفحہ90)

 ایک عراقی مظلوم کی پکار تمام مسلمانوں کو جھنجوڑ رہی ہے

     وہ کہتا ہے کہ: اے بھائیو۔۔! میں بغداد سے بات کر رہا ہوں۔ کیا مصر میں کوئی غمگین آنکھ بغداد پر آنسو بہاتی ہے؟ میرے پاس ہزاروں سنی مرد اور عورت آئے اور اُمتِ مسلمہ تک یہ آواز پہنچانے کی ذمّہ داری سونپی کہ اگر اصل اسلام کو نیست و نابود کر دیا گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ کون ہمیں ظلم وستم سے بچائے گا؟ ہماری عورتیں اٹھالی گئی، اہلِ سنت کو قتل کر دیا گیا، داڑھیاں جلا دی گئی، بوڑھوں کو زندہ آگ میں جھونک دیا گیا، عمر رسیدہ لوگوں کی پشتوں پر کوڑے برسائے گئے، ان ظالموں نے ایک تین سالہ معصوم بچے کو جلا کر اس کی جلی ہوئی لاش اس کے بوڑھے باپ کے سامنے رکھ دی۔ خود مجھ پر ظلم کرتے ہوئے کہا گیا کہ اپنی ماں سیدہ عائشہ صدیقہؓ  اور اپنے باپ سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر تہمت لگاؤ۔ ہائے۔۔۔! میں کس منہ کے ساتھ دنیا میں رہوں، میری داڑھی پر نجاست مل لی گئی، اہلِ سنت...! اپنے مسلمان بھائیوں کو شیعوں کے مظالم سے بچاؤ۔

ہائے ...! دینِ اسلام کی بے بسی! ہماری عورتوں کو اغوا کر لیا گیا، وہ ہمیں سڑکوں پر روک کر زندہ جلا دیتے ہیں، کیونکہ ہمارے ناموں میں ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور معاویہؓ  شامل ہوتے ہیں، ان ظالموں نے ہم سے کہا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ  کو گالی دو، ہم نے انکار کیا تو ہماری انگلیاں کاٹ دی گئی۔ ایک دفعہ میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جس کی عصمت کو تار تار کیا جا چکا تھا وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ...

اللہ کی قسم! میں کنواری تھی، اللہ کی قسم! میں قرآن کی حافظہ تھی، پھر کہنے لگی کہ کون میری مظلومیت کی داستان اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ تک پہنچائے گا۔۔۔؟ ان رافضیوں نےظلم و ستم کی تمام حدیں توڑ کر عزتِ رسولﷺ پر گھات لگائی ہے۔

اے عالمِ دین! سنئیے۔۔۔! میں نے یہ داستانِ ظلم تم تک پہنچادی۔ میرے بدن کے زخم آج بھی تروتازہ ہیں کیونکہ میرے بیٹے کا نام عمر اور بیٹی کا نام عائشہ ہے۔ اے اللہ! گواہ رہنا، تُو ہمارا مولا ہے، اے اہل اسلام! کیا مظلوم مسلمانوں کیلئے کوئی مددگار ہے؟ کیا کوئی ابن تیمیہ ہے، جو روافض کا ہاتھ روک لے۔۔؟

(حرمین کی پکار، صفحہ53)

    ایران میں گناہوں کے اڈے

جناب نذیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ تہران ایک یورپی شہر کا ماحول پیش کر رہا تھا، قدم قدم پر شراب خانے، نائٹ کلب اور عیاشی کے اڈے قائم تھے، بے حیائی عروج پر تھی۔ 

(ایران اور عالمِ اسلام، صفحہ12)





صفحہ 3 از 3