ایرانی انقلاب کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایرانی انقلاب کی حقیقت

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 3

ایران میں شیعت کو سرکاری مذہب بنانے اور سنیوں کے ساتھ کی گئی بے انصافی اور زیادتیوں کے خلاف سنی اکثریتی صوبوں میں آواز اٹھائی گئی لیکن شنوائی اور دادرسی کے بجائے طاقت کا طاغوتی طریقہ کار اپنایا گیا، اور سنی آبادیوں کو سنگین ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر ان کی آواز کو بے دردی سے دبا دیا گیا۔شیعہ حکومت کا پہلا ہدف۔۔۔۔ سنی اکثریتی صوبہ کردستان بنا، جہاں ان پر کمیونسٹ اور ایرانی انقلاب کے دشمن ہونے کا الزام لگا کر کُرد آبادیوں پر نیپام بم برسائے گئے اور ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اور لا تعداد عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ حافظ علی اکبر ملا زادہ سنی رہنما نے ایک مضمون میں سنی مسلمانوں کی حالت زار نہایت دردناک لفظوں میں بیان کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ: 

     تہران کے موجودہ شیعہ حکمران سنی مردوں کا قتل عام کرنے اور انہیں زبردستی شیعہ مذہب اختیار کرنے اور سنی نوجوانوں کو نقلِ وطن کرنے پر مجبور کر کے ایک سہ جہتی 10 سالہ منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔ اور اندیشہ ہے کہ اس طرح اپنے مردوں اور نوجوانوں سے محروم ہو کر لاوارث سنی بیوہ عورتیں اور یتیم بچے عملی طور پر شیعہ حکومت کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ ایران کے شیعہ حکومت میں آج ریاست یا انتظامیہ کا کوئی عہدہ دار سنی نہیں ملے گا، حد تو یہ ہے کہ سنی علاقوں میں متعین قاضی جج اور سکولوں وغیرہ میں استاد بھی سارے کے سارے شیعہ ہی ہیں۔

   حافظ علی اکبر ملازادہ سنی رہنما لکھتے ہیں کہ:

   ایران میں تمام ذرائع ابلاغ شیعہ عقائد و نظریات کے پرچار کی پالیسی اپنا کر اہلِ سنّت اور اسلام کے خلاف ایک مسلسل مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسلامی اقدار و شعائر اور اسلاف کو تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سنی طلبہ کو یونیورسٹی سطح پر حصولِ تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے، زاہدان یونیورسٹی میں دوہزار طلباء میں سے صرف نو سنی طلبہ کو داخلہ دیا گیا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ: 

 کاروبار، زراعت اور صنعت کی سکیموں میں امداد کے لیے بنک کے قرضے، لائسنس اور دیگر مراعات اور سہولتیں صرف شیعہ کے لئیے مختص ہیں، خواہ ان سکیموں کا تعلق سنی علاقوں سے ہی کیوں نہ ہو۔ 

حد تو یہ ہے کہ ایران اپنی 40 فیصد سنی آبادی کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر انتہائی ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہا ہے جبکہ پاکستان نہ صرف خاموش تماشائی بنا ہوا ہے بلکہ اپنی معذرت خواہانہ پالیسی کے سبب سے ایک طرح سے گویا اس کی معاونت کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی شیعہ اقلیت  جو دو فیصد سے زیادہ نہیں، شہ پا کر اس ملک میں شیعہ انقلاب لانے کی باتیں کر رہی ہے۔

( ایران افکار و عزائم صفحہ 47 تا52)

اصفہان شہر میں عمر بن عبدالعزیز کے نام سے موسوم مسجد ہے لیکن اہلِ سنت اس میں نماز ادا نہیں کر سکتے۔ شیراز میں مظفری قوم تازہ تازہ اہلِ سنت میں داخل ہوئی ہے، انہوں نے مسجد بنائی تو ان کے امام ودکتور کا سر قلم کر دیا گیا،

مسجد شہید کر دی گئی اور وہاں پر پارک بنا دیا گیا۔ مشہد شہر کی 120 سالہ قدیم مسجد: مسجد فیض: کو منہدم کر کے اس کی جگہ پارک بنا دیا گیا ۔ زاہدان شہر میں مسجد کے نمازیوں کو ماہِ رمضان میں اندھا دھند فائرنگ کےذریعے 11 لاشے تحفے میں دیئے گئے، 80 سنی زخمی ہوئے اور 200 کو گرفتار کیا گیا، ان کاجرم صرف یہ تھا کہ "مسجد فیض" کے واقعہ کی تحقیق کرنے کے لئے علماء کیوں آئے تھے۔ بلوچستان، کردستان، سیستان اور شہرستان میں جتنے سنی مدارس ہیں سب کو ختم کر کے اپنے پروگرام کے تحت صرف چند ایک باقی رکھے گئے جن میں علماء کو شیعہ سے سند لینی پڑے گی اور وہ شیعیت کی حکمت عملی و مذہب کے مطابق ہی درس دیں گے ورنہ اجازت نہیں ہوگی۔ 

جمعہ کے دن شیعہ مشائخ (پادری) اور نوجوان سنیوں کی مساجد میں پہنچ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر برملا تنقید کرتے ہیں۔ اسکولوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور آئمہ اہل سنت پر تنقیص واعتراضات والے رسائل پڑھائے جاتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں فقہ جعفریہ کے دلدادہ افراد کے سوا کسی کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ عہدوں اور ملازمتوں سے سنیوں کو دور رکھا جاتا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ڈرامے دکھا کر سنیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی جاتی ہے۔ اور کسی علاقے میں سنی علماء کرام کو اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

(حرمین کی پکار: صفحہ45)

 ایران کے ایک شہر سے مسلمانوں کی فریاد اور پکار....! 

وہاں کے مسلمان فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ۔۔۔ ہمارے انقلاب کا ضمنی مقصد سنی بلوچوں کو اثناء عشری بنانا ہے، جو اثنا عشری عقیدہ رکھتے ہوں اور اس زمین میں 9فیصد اشخاص کو شیعہ کر لیا گیا ہے اور آخری اور دراصل مقصد ایران میں بلوچ کرد اور ترکمان کو شیعہ بنانا ہے اور جب ایران میں یہ مقصد حاصل ہو جائے تو تمام عالم کے مسلمانوں کو شیعہ بنایا جائے گا۔ اب سنی عوام کے سامنے ان تین راستوں کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ 

نمبر ایک۔۔ مذهب شیعہ اثناء عشری قبول کر لیں یا اس کی مخالفت کریں۔

نمبر دو ۔۔۔ یا انکار کی صورت میں قتل ہو جائیں یا فرار ہو جائیں۔ 

نمبر تين ۔۔۔ یا ایران میں قیدی بن کر اپنی زندگی گزاریں۔ 

صفحہ 2 از 3