ابن سبا کی زبانی شیعہ عقائد ثابت کرو!( شیعہ مناظر) - سنی…

ابن سبا کی زبانی شیعہ عقائد ثابت کرو!( شیعہ مناظر)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4

  جعفر صادق: ٹھیک ہوگیا۔ تین بجے کے بعد یہیں سے سلسلہ جاری ہوگا۔ *آپ عقائد اہل تشیع کو شیعہ کتب سے ہی ایک ایک روایات سے ثابت کرنے کے پابند ہیں۔*آج آخری دن ہے۔الحمدلللہ اصل موضوع اختتام پذیر ہوچکا ہے۔

میں چند تحقیقی چارٹ پیش کردیتا ہوں۔ ان کے تمام اسکینز بھی موجود ہیں۔لیکن چونکہ گفتگو میں ان کی ضرورت نہیں ہوئی تو یہاں نہیں بھیج رہا۔  لیکن تمام حوالاجات کے اسکینز پی ڈی ایف میں شامل کردوں گا۔ ان شاء اللہ۔

 

اس چارٹ میں ابن سبا کے دور میں مختلف شیعہ عقائد کی شروعات اور پھر بعد میں کون کون سے شیعہ فرقے بنتے رہے وہ دکھائے گئے ہیں۔

 

اس چارٹ میں شیعہ کی قدیم کتب میں ابن سبا کے متعلق مختلف اعترافات  دکھائے گئے ہیں۔

 

اس چارٹ میں اہل تشیع کی متاخرین علماء کی کتب سے ابن سبا کے اعترافات دکھائے گئے ہیں۔

 

اس چارٹ میں فرقہ اثناعشریہ کے متعلق سنی و شیعہ کتب سے دکھاگیا ہے کہ یہ فرقہ کب ظاہر ہوا تھا۔

اس چارٹ میں عقیدہ امامت کی حقیقت دکھائی گئی ہے کہ اماموں کے دور میں بارہ اماموں کا کسی کو علم ہی نہ تھا۔ ہر امام کی وفات کے بعد ان کی اولاد میں اختلافات ہوئے کہ اب کون امام ہوگا۔

 رانا محمد سعید شیعہ  : اب یکطرفہ گفتگو سے گریز کریں،آپکی یہ کاروائی بتاتی ہے کہ اس طرح سے لوگوں کو حقائق کی بجائے آپ خود ساختہ چیزیں دکھانے کی کوشش میں ہیں،  اس لمبی لمبی ٹرن سے ہی آپ کو روکا تھا اور ون ٹو ون گفتگو کیلئے کہا تو آپ نے دوبارہ وہی کام شروع کر دیا۔  صبر کر لیں میں آ جاؤں تو کرتے ہیں بات۔

*یہ سب پیش کیا گیا مگر باوجود ہزار ہا مطالبہ کے ابن سباء کی زبان سے دعویٰ میں مذکور پانچ عقائد پیش نہیں کئے جا سکے۔ جب اصل مدعا ہی پیش نہیں کر سکے تو چاہے دنیا جہان کی چیزیں پیش کر لیں اصول و شرائط کے مطابق آپ کی ناکامی ہی رہے گی*

(کیا أصول و شرائط میں ابن سبا کی زبانی شیعہ عقائد ثابت کرنے کی بات کہی گئی تھی؟ )

  جعفر صادق: میں گفتگو نہیں کر رہا۔ بریک ہوچکی ہے۔ ناشتہ کریں۔ ٹھنڈہ ہوجائے گا۔  یہ حقائق ہیں۔ سرکار

  رانا محمد سعید شیعہ : آپ کی یہ بے چینی اور یکطرفہ کاروائی سے صاف ظاہر ہے کہ *کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے*

    یہ حقائق نہیں فریب ہے سرکار فریب۔

  جعفر صادق: بریک ہے۔ گفتگو تین بجے ہوگی۔ کھائیں پییں موج کریں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : بریک ہے تو پھر آپ میسیج نا کریں۔

  جعفر صادق: میری بلی،میرے کو میاؤں۔  -   تین بجے تک،اللہ حافظ

 رانا محمد سعید شیعہ : لیکن کتوں والے کام نہیں کیئے کبھی ۔

 جعفر صادق: کیا کل آپ نے بریک میں گفتگو نہیں کی تھی۔؟  کل خود کر چکے ہو سرکار ۔

  رانا محمد سعید شیعہ:کل تو میری ٹرن تھی ۔ آج تو ٹرن والی بات ہی نہیں ۔

 جعفر صادق: چھوڑیں،تین بجے عقائد پر دلائل لائیے گا۔

  رانا محمد سعید شیعہ  : آپ سے جھوٹ ، فریب ، مکر ، دجل اور خیانت نکال دی جائے تو پیچھے ککھ نا بچے ۔

  جعفر صادق: بریک بریک ہوتی ہے۔ ٹرن کسی کا نہیں ہوتا  اور آج تو سرکار،ٹرن کی کہانی آپ خود ختم کرچکے ہو

بڑے ظالم ہو!

(آپ سے جھوٹ ، فریب ، مکر ، دجل اور خیانت نکال دی جائے تو پیچھے ککھ نا بچے ۔)     فیصلہ قارئین پر چھوڑا کریں۔خود ہی ملزم،خود ہی منصف۔

   گفتگو شام کو کرسکوں گا۔ ابھی مصروف ہوگیا ہوں۔

 رانا محمد سعید شیعہ : کتنے بجے ؟      وقت بتائیں تا کہ میں بھی کچھ ضروری کام نمٹا لوں اور مجھے پتا ہو کہ اتنے بجے مجھے پابندی سے ادھر وقت دینا ہے۔  اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ مصرفیات کو آڑ بنا کر آپ دوبارہ ٹرن سسٹم شروع کریں تاکہ بس آپکی تقریریں چلتی جائیں تو ایسا نہیں ہوگا ۔ گفتگو ون ٹو ون چلے گی تاکہ آ پ کی فریب کاریوں کو بروقت عیاں کیا جائے بجائے اسکے کہ 100,200 میسیج میں لکھوں پھر آپ لکھیں اور پھر میں لکھوں اور یہ سلسلہ  چلتا رہے تو ایسا نہیں ہوگا محترم ۔ ون ٹو ون گفتگو ہوگی ۔ تاکہ آپکے سابقہ بولے گئے جھوٹ بھی ٹھیک سے لوگوں پر آشکار کئے جائیں    اور اگر آپکو لگے کہ میں کچھ غلط کہہ رہا ہوں تو آپ میرا رد اسی وقت کر سکیں ۔ لوگوں پر حقیقت واضح کرنی ہے جیسا کہ آپ کہتے ہیں ۔ تو محترم سو سو میسجز لوگ اگنور کر کے آگے چلتے ہیں ۔

  جعفر صادق: انسان کو حسن ظن رکھنا چاہئے،اور اعلی ظرف بھی ہونا چاہئے۔گفتگو ون ٹو ون ہی ہوگی۔میں یہ پہلے کہہ چکا ہوں۔ٹرن  کا طریقہ کار آپ خود ختم کر چکے ہیں۔ شرائط کی جب ضرورت ہوتی ہے  تو آپ کو یاد آجاتی ہیں۔

خیر۔۔۔ میں پانچ بجے حاضر ہوجاؤں گا اور اگر ضرورت ہوئی تو ہم مزید کچھ دن بڑھا لیں گے۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔    میں اس وقت گھر سے باہر ہوں۔

  رانا محمد سعید شیعہ: جی جی محترم آپ میں سب خوبیاں ہیں ۔ پانچ بجے میں فارغ نہیں میں بھی کسی کام کیلئے نکل رہا ھوں۔  7 یا 8 بجے ملتے ہیں۔

  جعفر صادق: تین دن مسلسل میسیجز میں نے نہیں آپ نے لکھے تھے۔ شرط میں دو دن تحقیق کے لئے مقرر تھے یہ نہیں کہ ایک فریق آٹھ گھنٹے مسلسل میسیجز کرنے کے بعد بھی رکنے کا نام لے۔۔۔ اور جب اس سے پوچھا جائے تو کئی مصروفیات کا رونا روئے۔۔۔ختم لکھنے سے منع کرے یا اجازت اس طرح دے جیسے بڑا احسان کر رہا ہو۔۔ورنہ دلائل تو اس کے پاس بے شمار ہیں۔۔میں نے اسی لئے دو دن مزید دئے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ فریق مخالف کو دفاع کا موقعہ نہیں دیا گیا۔۔حد تو یہ ہے کہ تیسرے دن موصوف نے ختم لکھنے سے پہلے خباثت کا مظاہرہ کرکے یہ لکھا کہ میں دو دن آپ کو موقعہ نہیں دوں گا۔۔میں تو پہلے ہی جوابات لکھ چکا تھا۔۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کے اندر ٹرن  پورا بھی کردیا۔۔لیکن آپ کی خباثت ظاہر ہوگئی!! اس کے بعد کیا ہوا؟ سب ممبرز  دیکھ سکتے ہیں۔     سو میسیجز کئے کس نے ہیں؟آپ کریں تو درست،میں جواب دوں تو  غلط ۔حد ہے!

  جب دل چاہے آجائیں۔۔لیکن دلائل ایسے لائیے گا جس سے ثابت ہو کہ شیعیت کے پانچ عقائد ابن سبا سے پہلے بھی موجود تھے۔بس یہی ایک راستہ رہ گیا ہے۔فرقہ اثناعشریہ تو آپ قیامت تک دور نبویﷺ  یا گیارہ اماموں کے دور میں ثابت نہیں کرسکتے۔

  رانا محمد سعید شیعہ : دوبارہ میسیجز کی بھرمار ہو طرفین سے یہ میں نہیں چاہتا ۔ آپ کچھ بھی کہیں ۔ بات ون ٹو ون اور پوائنٹ ٹو پوائنٹ فقط ۔ آپ جتنی بھی کوشش کریں میں غیر متعلقہ بات کو فی الحال زیر بحث نہیں لاؤں گا

صفحہ 3 از 4